Daily Mashriq


بینکوں کے کھاتے داروں کی تشویش

بینکوں کے کھاتے داروں کی تشویش

ایک طرف یہ خبر ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے مطابق ہیکروں نے تقریباً تمام پاکستانی بینکوں کے کھاتے داروں کا ڈیٹا چرا لیا ہے۔ یہ خبر وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر کرائمز ونگ سے منسوب کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف سٹیٹ بینک آف پاکستان کا مختصر اعلامیہ ہے جس میں ایسی خبروں کو مسترد کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ سٹیٹ بینک کو ایسی کوئی اطلاع یا شہادت کسی بینک نے فراہم نہیں کی ہے۔ سٹیٹ بینک کے بیان میں البتہ یہ وضاحت کی گئی ہے کہ 27اکتوبر کے واقعے کے سوا جس میں کہا گیا تھا کہ محض ایک بینک کی آئی ٹی سیکورٹی کو نقصان پہنچا ہے کوئی ایسی اطلاع نہیں دی گئی ہے۔ تاہم سٹیٹ بینک نے تمام بینکوںکو ہدایت جاری کر دی ہے کہ وہ کسی سائبر خطرے کی نشاندہی کریں اور اس کے خلاف ادائیگیوں کی بین الاقوامی سکیموں کے ساتھ رابطے کے تحت اقدامات کریں۔ عام اکاؤنٹ ہولڈر کے لیے سٹیٹ بینک کے اعلامیہ میں کوئی تسلی نہیں ہے۔ ماسوائے اس کے کہ سٹیٹ بینک کو ایک بینک کے سوا کسی اور بینک نے کھاتے داروں کے اکاؤنٹس کے خطرے میںہونے کے بارے میں اطلاع نہیں دی ہے۔ تو کیا بینکوں میں پاکستانی اکاؤنٹ ہولڈروں کے کھاتے محفوظ ہیں؟ اس سوال کا جواب نہیں ملتا۔ محض ایک سرکاری اندا ز کا بیان جاری کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف وفاقی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تقریباً تمام بینکوں کے کھاتوں کے سیکورٹی نظام کو توڑا جا چکا ہے۔ اس بیان سے بھی عام اکاؤنٹ ہولڈر کی کوئی مدد پیش نہیں کی گئی جس کے ذریعے وہ یہ سمجھ سکیں آیا اس کا اکاؤنٹ محفوظ ہے یا نہیں۔ اکاؤنٹ ہیک ہونے کا مطلب کیا ہے ‘ یعنی اس کے اثرات کیا ہو سکتے ہیں‘ اس کا ذکر نہ وفاقی تحقیقاتی ادارے سے جاری ہونے والی خبر میں ہے اور نہ ہی سٹیٹ بینک کے جاری کردہ بیان میں ہے۔ ان خبروں سے سارے ملک میں تشویش پھیل جانا لازمی ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سائبر ونگ کو اگر یہ معلوم ہو گیا تھا کہ تقریباً تمام بینکوں کے اکاؤنٹس ہیک ہو چکے ہیں یعنی کمپیوٹر کے ذریعے وہ متعلقہ بینک سے باہر کسی اور قبضے میںجا چکے ہیں تو ادارے کو چاہیے تھا کہ سب سے پہلے متعلقہ بینکوں سے اور سٹیٹ بینک آف پاکستان سے رابطہ کرتا جو ملک کا کنٹرولنگ بینک ہے اور بینکوں کی کارکردگی کا نگران ہے ۔ لیکن سٹیٹ بینک کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسے اس کی اطلاع نہیں دی گئی نہ تحقیقاتی ادارے نے اور نہ ہی کسی بینک نے۔ سٹیٹ بینک کے مبینہ بیان کی مصلحت یہ ہو سکتی ہے کہ بینکوں پر کھاتے داروں کا ہجوم یہ معلوم کرنے کے لیے جمع نہ ہوئے کہ ان کے کھاتے محفوظ ہیں یا نہیں۔ لیکن تحقیقاتی ادارے کی خبر کے بعد کھاتے داروں میں تشویش کا پیدا ہو جانا لازمی ہے۔ ہمارے ملک میںکاروباری اور مالیاتی معاملات کے بارے میں میڈیا میں مناسب جانکاری کی کمی ہے۔ پچھلے دنوں کروڑوں ‘ اربوں روپے کے سرمایہ کی منتقلی کے حوالے سے ’’بے نامی‘‘ اکاؤنٹس کی خبریں آتی رہی ہیں لیکن کافی وقت گزرنے کے باوجود یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کتنے ’’بے نامی‘‘ اکاؤنٹ کھولے گئے ہیں اور ان میں سالانہ یا سہ ماہی کے اعتبار سے کتنے سرمائے کی منتقلی ہوئی ہے۔ یہ ایک طرف تحقیقات کی کمزوری ہے ۔ دوسری طرف بینکوں کا بھی اس بارے میں تعاون سے اجتناب نظر آتا ہے۔ تاہم سٹیٹ بینک کا فرض تھا کہ وہ کنٹرولنگ بینک ہونے کی حیثیت سے اس حوالے سے ا ز خود تحقیقات کرتا اور بینکوں کو ہدایت کرتا کہ وہ ایسے اکاؤنٹس کے بارے میں اطلاع دیں جن کے اکاؤنٹ ہولڈروں کے مکمل کوائف ان کے پاس نہیں یا وہ کبھی ذاتی طور پر بینک نہیں آتے ہیں۔ ایسے اکاؤنٹس کابھی پتا لگایاجاتا جن کی اکاؤنٹ کھولنے کی سفارش کسی کھاتے دار کی بجائے بینک کے کسی اہل کار نے کی ہے ۔ اور جن اکاؤنٹ ہولڈروں کی تصویریں یا دستخط اور ان کا مکمل یا واضح رہائشی اور کاروباری ایڈریس بینکوں کے پاس نہیںہے۔ ان بے نامی اکاؤنٹس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیںہے کہ ایسے اکاؤنٹس کھولنے میں اور ان میں سرمایہ کی منتقلی کی سہولت یقینی بنانے میںبینکوں کے اہل کاروںکابھی عمل دخل ہے۔ اس حوالے سے تحقیقات کی جاتیں تو بہت جلد ایسے اپنے اکاؤنٹس سے ان ’’بے خبر‘‘ اکاؤنٹ ہولڈروںکا پتا لگایا جا سکتا تھا۔ اب بھی سٹیٹ بینک کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ وہ بینکوںکو ہدایت کرے کہ وہ بتائیں کہ ان کے کتنے اکاؤنٹ ہولڈرز کا ڈیٹا چوری ہو چکا ہے۔ اور ان اکاؤنٹس میں ایسے کتنے ہیں جن میں سہ ماہی یا سالانہ کے اعتبار سے کتنے سرمائے کی منتقلی ہوتی رہی ہے۔ یہ معاملہ انتہائی توجہ طلب ہے ۔ خاص طور پر اس کا یہ پہلو کہ ڈیٹا انٹرنیشنل کالے بازار میں فروخت کے لیے پیش کیا جا چکا ہے۔ اس سے کتنے پاکستانیوں کا سرمایہ ان کو خبر ہونے کے بغیر بیرون ملک منتقل ہو سکتا ہے اورکتنے لوگوں کو مالی نقصان ہو سکتا ہے۔ سب سے پہلے یہ معلوم کیاجانا چاہیے کہ جو اعداد و شمار چوری ہوئے ہیں ان سے آیا وہ کھاتے بھی شامل ہیں جو ’’بے نامی‘‘ کے نا م سے مشہور ہوئے ہیں جن کے کھاتے داروں کو ان کھاتوں کا علم ہی نہیں۔ یعنی ایسے غریب لوگوں کے کھاتے جن کی بے خبری میں ان کے نام پر کروڑوں روپے کی منتقلی ہوتی رہی ہے۔ بینکوںمیں کھاتے کھولنے میں بے ضابطگی میںبینکوں کے اہل کار ملوث ہو سکتے ہیں ۔ اسی طرح بینکوں کے اکاؤنٹس کے ہیک ہوجانے میں بھی بینکوں کے اہل کار ہی معاون ہو سکتے ہیں ۔ یہ کافی نہیں کہ پلاسٹک منی اے ٹی ایم اور ویزہ کارڈ کے ذریعے بیرون ملک ادائیگیاں روک دی گئی ہیں۔ یہ عارضی پیش بندی تو ہو سکتی ہے لیکن اس سے اکاؤنٹ ہولڈروں کے سرمائے کو لاحق خطرہ مستقل طور پر ختم نہیںہو سکتا۔ اصلی ضرورت مکمل تحقیقات کی ہے جس کے ذریعے بنکاری نظام میں اسقام کی نشاندہی ہو سکے اور ان اسقام سے ناجائز فائدہ اٹھانے والوں کا پتہ لگایاجا سکے۔

متعلقہ خبریں