Daily Mashriq


متفرق افکار

متفرق افکار

اسلام یعنی دین وایمان کے بعد ہمارے لئے سب سے اہم پاکستان ہے ۔ پاکستان سے ہمیں ٹوٹ کر محبت اس لئے ہے کہ یہ اسلام کے نام پر بنا ہے ۔ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے،کوئی مانے یا نہ مانے دنیا بھر کے لبرلز اور پاکستان میںاُن کے مٹھی بھر آلہ کار اس کے خلاف ہزارپروپیگنڈہ کریں۔ عالم اسلام میں پاکستان جیسا مضبوط ومستحکم ملک کوئی دوسرا موجود نہیں ۔ سارا مشرق وسطیٰ مل کر بھی ایک اسرائیل کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ جبکہ پاکستان تن تنہا گزشتہ ستر برسوں سے بھارت جیسے متعصب اور روایتی حریف کے ساتھ ساتھ سپر پاورز اور اسرائیل کے ساتھ بھی نمٹتاچلا آرہا ہے ۔لبرلز کو اس کی اسلامیت ہضم نہیں ہورہی اور ایک اور عنصر ہمارے جمہوریوں،، (Democrates) کی ہے جن کی کرپشن سیاسی فرقہ واریت اور بالخصوص پاک افواج کے خلاف دریدہ دہنی ملکی استحکام کے لئے کوئی نیک شگون نہیں بلکہ یہ ملک وقوم کے خلاف ففتھ جنریشن وار(جنگ) ہے جس کی فہم بہت کم لوگوں کو ہے ۔ پاکستان کو عرب سپرنگ ٹائپ اُتھل پتھل اور افراتفری کا شکار بنانے کے لئے ایسے منصوبے بنائے جاتے ہیں کہ اُن میں اپنے پرائے کی پہچان مشکل نظر آتی ہے ۔ ان ہی مصنوعی بادلوں کی اوٹ سے پاک افواج پر حملے ہوتے ہیں ۔ ان میں سے بعض ہمدردی کے لبادے میں کئے جاتے ہیں اور بعض ریڈیکل اور ’’حقیقت پسندانہ‘‘روپ دھار کر کئے جاتے ہیں‘‘ اس جنگ کے زیادہ تر متاثرین ہمارے کالجوں اور جامعات کے طلبہ ہیں ۔ جن میں سے بعض اپنے لبرل اساتذہ ، بعض اپنے سیاسی رہنمائوں اور بعض مغرب سے درآمدہ پاکستان مخالف پروپیگنڈہ کی زد میں ہوتے ہیں۔ مثلاً پروپیگنڈہ کرنے میں پاک افواج کے خلاف مہم جوئی میں اکثر سڑیو ٹائپ یہ جملے کہ’’ہماری افواج نے تین جنگوں میں سے کس میں فتح حاصل کی ہے ۔ ہماری فوج اچھی ہے لیکن جرنیل اچھے نہیں ہیں‘‘۔ گزشتہ دنوں سپریم کورٹ سے سزا یافتہ ایک سیاستدان نے بر ملا کہا کہ ہماری فوج نے آج تک کوئی انچ زمین دشمن سے نہیں لی ہے‘‘۔ اب حقائق اور تاریخ سے بے خبر نوجوان واقعی سوچ میں پڑ جاتے ہیں ۔۔۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دشمن نے نوزائیدہ پاکستان پر چوبیس برسوں کے اندر اندر تین جنگیں مسلط کیں ۔ اور تینوں جنگوں میں اپنے سے تین گنا بڑی فوج کو ملک کی سرحد وں سے دور رکھا ۔ یہ کوئی معمولی کام نہیں 1971ء میں پاک افواج نے بہادری کے جو جوہر دکھائے وہ مشرقی پاکستان جیسے نامساعد حالات میں کوئی مثالی فوج ہی دکھا سکتی ہے ۔ اندر سے بنگالی ، باہر سے بھارتی افواج، اوپر سے امریکہ اور اسرائیل مغرب کا درپردہ بھارت سے تعاون اورپھر بھی مٹھی بھر پاک افواج جس کو باہر سے کسی مدد کے راستے بھی مسدودتھے ، مارچ سے دسمبر تک بیک وقت کئی محاذوں پر لڑیں لیکن جب حکومت پاکستان نے حکم دیا تو سرنڈر ہوئیں ورنہ وہ تو آخری قطرہ خون اور آخری گولی تک بھارتی افواج اور مکتی باہنی کے خلاف لڑنے کے لئے سر بکف تھی ۔ کل اپنی پارلیمنٹ میں ایک رکن اسمبلی کی زبان سے وزیراعظم پاکستان کے خلاف یہ بات کہ’’ ٹی وی پر طاقت کے استعمال کی بات سُن کر لگتا ہے کہ شاید خان بول رہا ہے ۔ مگر جاتے ہوئے بھاگنے والا نیازی نظر آتا ہے‘‘ میں سمجھتا ہوں کہ اس قسم کے جملے کسی’’ جمہوریے‘‘ کی زبان سے اچھے نہ لگنے کے علاوہ بالواسطہ طور پر پاک افواج کے ایک شکست خوردہ جرنیل کی آڑمیں پوری فوج کو گویا مطعون کرنے کی کوشش لگتی ہے ، اس کے علاوہ جنرل اے۔کے نیازی کی آڑ میں میانوالی میں آباد غیوروجسور پورے نیازی قبیلے کی طرف’’بھاگنے‘‘ کا لفظ استعمال کرتے ہوئے ’’بزدلی‘‘ وغیرہ کا طعنہ بھی اسلامی تعلیمات اور پاکستان کی تخلیق کے مقاصد کے خلاف ہے ۔ ہم سب مسلمان اور پاکستان کی حیثیت سے بھائی بھائی ہیں ۔ اچھے برے اور نیک وبد ہر قبیلے، قوم اور ملک میں ہوتے ہیں ۔کسی ایک آدمی کی کسی کمزوری ،خامی اور عیب کی وجہ سے پوری قوم قبیلے کو الزام دینا یا مطعون کرنا کسی طرح درست نہیں۔قرآن کریم کی تعلیم یہی ہے ۔’’اے لوگو!ہم نے تمہیں ایک ہی مردوعورت سے پیدا کیا ہے تم میں سے معزز وہ ہے جو زیادہ پرہیز گار ہو‘‘۔عظیم عالم دین مولانا سمیع الحقؒ کی شہادت پر پڑوس برادر ملک کے صدر اور بعض نادان اور عاقبت نا اندیشوں کا ردعمل کسی طور تہذیب و شائستگی اور سیاست کے زمرے میں نہیں آتا۔ افغان صدر کا اس موقع پر یہ جملہ کہ ’’پاکستان کو سمجھناچاہیے کہ پُر امن افغانستان خود اس کے لئے مفید ہے‘‘۔ یہ بات تو پاکستان 1947ء سے کہتا آیا ہے ۔ لیکن افغانستان کے سیاستدانوں کو اس کی سمجھ نہیں آتی ۔جنرل عبدالرزاق مرحوم کی بعض ویڈیوز اور اب مولانا کی شہادت پر پاکستان کے خلاف ففتھ جنریشن وار سے متاثر بعض افغان نوجوانوں کا ردعمل ہمارے لاشعور میں اس بات کی باز گشت اس کے باوجود سنوادیتا ہے کہ ہم افغانیوں کو مسلمان وپختون بھائی کی حیثیت سے احترام سے دیکھتے ہیں۔میں نے پاکستان میں افغان مہاجرین کی آمد ، سکونت اور ان کو عزت واحترام دینے کی حمایت کی ہے ۔ گزشتہ دنوں عمران خان نے کراچی میں ان کو شہریت پاکستان دینے کی بات کی تو پاکستان میں اکثر یت نے اس کی مخالفت کی اور شاید اُنہوں نے ایسے ہی لوگوں کے پیش نظر یہ کیا اور اب میں بھی سمجھتا ہوں کہ درست کیا ۔

حکومت پاکستان ان مہاجرین کو جتنا جلد ممکن ہو، اشرف غنی کے حوالے کرنے کے انتظامات کرے ورنہ ان کو مزید قیام کی اجازت‘‘ہندوستڑے خدائی ناراضہ ‘‘کے مصداق ہوگا۔

اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت کرے ۔

متعلقہ خبریں