Daily Mashriq


اتنی بے اعتباری

اتنی بے اعتباری

کل سو شل میڈیا پر پر ویز مشرف کو کسی بیرون ملک کے ہسپتال میں زیر علاج دکھا جا رہا ہے اورپاکستان کے 90 فی صد لوگوں کو پیرا سیٹا مول کی گولی میسر نہیں۔ معاشرے کے پسے ہوئے طبقات اور غریب لوگ بغیر کسی علاج معالجے کے سسک سسک کر ایڑیاںر گڑ رگڑ کر مرجاتے ہیں اور ہمارے سیاسی راہنما جس میںسابق صدرآصف علی زرداری، سابق وزیر اعظم نواز شریف، پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف، چو دھری نثار علی خان ، تحریک منہاج القرآن کے ڈاکٹر طاہرالقادری ، صوبائی و وفاقی وزراء، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران اور بیوروکریٹس اور اسکے علاوہ دیگر بے شمار سیاسی شخصیات ، صاحب ثروت واقتدار لوگ عام علاج کے لئے بھی بیرون ملک جاتے ہیں ۔ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہمارے ان سیاسی قائدین کے بچے نہ توپاکستان میں پڑھتے ہیں اور نہ وہ پاکستان میں اپنا علاج کرتے ہیں۔ ان لیڈران اور سیاسی قائدین کا اپنے ملک کے طبی وتعلیمی اداروں پر کوئی بھروسہ نہیں۔ ایم ایچ اور سی ایم ایچ اور اسکے علاوہ نجی شعبے میں قائم دوسرے طبی ادارے پاکستان کے اعلیٰ ہیلتھ کے ادارے تسلیم کئے جاتے ہیں مگر جس وقت مطلق العنان پر ویز مشرف بیمار ہوئے تو انہوں نے کہا کہ وہ ایم ایچ میں علاج نہیں کریں گے کیونکہ اس ہسپتال میں اُنکے والد فوت ہوئے تھے۔ اب یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ کیا وہ اس ہسپتال کے ڈاکٹروں کو نالائق سمجھتے تھے یاوہ اس ہسپتال سے نفسیاتی طور پر متنفر تھے۔ ہمارے یہ سیاست دان جن طبی اداروں میں علاج نہیں کرتے ہمیں وہاں رسائی اُس وقت نصیب ہوتی ہے جب ہم مرنے کے قریب ہوتے ہیں۔ ہمارے ان سیاست دانوں کا نہ صرف اپنے تعلیمی و طبی اداروں پر بھروسہ نہیں بلکہ ساتھ ساتھ ہمارے ان قائدین اور ملک کے کرتا دھرتا کا ملک کے بینکنگ سسٹم اور ملک میں سرمایہ کاری پر بھی یقین نہیں اور یہی وجہ ہے کہ نواز شریف اور اُنکے خاندان اور پاکستان کے تمام سیاست دانوں کے اثاثے بیرون ملک ہیں اور ٹیکس سے بچنے کے لئے اپنے پیسے آف شور کمپنیوں اور آف شور بینکوں میں لگائے ہوئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عام لوگوں کی اقتصا دی حالت اتنی خراب ہے کہ وہ زکام اور بُخار کا علاج بھی ہسپتال سے نہیں کرسکتے۔ پاکستان کے تقریباً 70 فی صد لوگ اُس وقت ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں جب اُنکی حالت بگڑ چکی ہو۔ ورنہ عام کیمسٹ سے دوائی لے کر گزارہ کرتے ہیں۔ پاکستان میں علاج بھی بُہت مہنگا ہے۔ میں بُہت سارے لوگوں کو جانتا ہوں جو علاج کے لئے جائیداد، مکان یا دوسری قیمتی اشیا فروخت کرتے ہیں۔ مگر پاکستانی سیاسی لیڈروں کو پاکستان میں کوئی ایسا ہسپتال نظر نہیں آتاجس میںاُن کاعلاج ہو سکے۔ جب یہ بڑے بڑے اپنا علاج باہر سے کرتے ہیں تو پھر وہ ہسپتالوں کی حالت کیسے بہتر کریں گے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے بجٹ کا بُہت کم اپنی صحت پر خرچ کر رہے ہیں۔امریکہ اپنی قومی پیداوار کا 19 فی صد طب پر خرچ کرتاہے جبکہ بر طانیہ 18 فی صد، اور جنوبی ایشیاء کے ہم جیسے غریب ممالک مثلاً نیپال 6 فی صد، بھوٹان 6 فی صد، بھارت 5فی صد، سری لنکا 4 فی صد، بنگلہ دیش 4 فی صد اور بد قسمتی سے پاکستان اپنی قومی پیداوار کا 2.2فی صد صحت پر خرچ کر رہا ہے۔ بات صرف یہاں نہیں ختم ہوتی ڈاکٹروں کی فیسوں اور دوائیوں کی قیمتوں میں بھی بے تحاشہ اضا فہ ہوا۔ اگر ہم فاٹا ، بلو چستان ، جنوبی پنجاب اور سندھ کا تجزیہ کرلیں تو ان علاقوں میں صحت کی حالت انتہائی ناگُفتہ بہ ہے۔ بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں بچے کم غذائیت اور دوائی نہ ملنے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ہم روزانہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پردیکھتے ہیں کہ سندھ کے دیہاتی علاقوں تھر اور دوسرے ریگستانی علاقوں میںروزانہ 5 سے 10 بچے کم غذائیت اور بنیادی علاج نہ ملنے کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔جہاں جہاں صحت کا معیار ٹھیک ہے تو وہاں پر لوگوں کی متوقع زندگی بھی زیادہ ہے۔ ہم دور نہیں جاتے جنوبی ایشیاء جو غریب لوگوں کا خطہ ہے انکی مثال لیتے ہیں ۔ جنوبی ایشیاء میں بھی ہم صحت اور متوقع زندگی کے لحا ظ سے سب سے نیچے ہیں۔ پاکستان میں متوقع زندگی 65 سال ہے جبکہ اسکے بر عکس بھارت میں متوقع زندگی 69 سال، سری لنکا میں 75 سال، اور چین میں 87 سال ہے۔ اگر ہم صحت کے دوسرے اعشاریئے دیکھیں تو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو تو چھو ڑ یئے جنوبی ایشیاء جس کو غریبوں کا مسکن سمجھا جاتا ہے اُس میں بھی ہر لحا ظ اپنے ہم عصر ملکوں سے سب سے نیچے ہیں۔ اکثر و بیشتر معمولی مرض میں مبتلا مریض کو شہر کے دور دراز ہسپتال میں بھیجا جاتا ہے۔ سرکاری صحت کے اداروں میں ڈاکٹروں کی غفلت ، مناسب سہولیات نہ ہونے اور گڈ گور ننس نہ ہونے کی وجہ سے اب پرائیویٹ ادارے نفع بخش بزنس بن چکا ہے اور انہی نرسنگ ہوموں کے مالکان غریب مریضوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں۔

متعلقہ خبریں