Daily Mashriq


چین سے سیکھنے کی باتیں

چین سے سیکھنے کی باتیں

عالم کی حالیہ تاریخ میں یوں تو کئی ملکوں نے ترقی کے مراحل طے کیے ہیں مگر جس طرح عوامی جمہوریہ چین نے خود کو گزشتہ دو عشروں میں ایک علاقائی قوت سے عالمی طاقت میں تبدیل کیا ہے ، یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر دنیا بھر کے ماہرین حیران ہیں۔آج سے بیس سال پہلے تک چین معا شرتی کرپشن میں دنیا کے بد ترین ممالک میں شمار ہوتا تھا،اس وقت کہا جاتا تھا آپ اگر چینی ہیں اور سرکاری ملازم ہیں تو آپ کی ایمانداری کی قسم نہیں کھائی جا سکتی‘بیس سال پہلے تک چین کے وزرا ء ،میئر ز اور دیگر سرکاری آفیسر ز کے فریجوں‘واشنگ مشینوں اور مائیکرو ویوز تک سے رشوت کے پیسے نکلتے تھے۔۔لیکن پھر چین نے کرپشن کے خلاف کڑے اصول بنائے، چین نے کرپشن ،رشوت ستانی اور اقربا ء پر وری کی سزا سزا ئے موت طے کر دی۔حکومت نے حکمرا ن جماعت کمیونسٹ پارٹی کے سات لاکھ کارکنوں کی سکر وٹنی کی اوران میں سے ڈیڑ ھ لاکھ کرپٹ کارکنوں کو پارٹی سے فارغ کردیا گیا۔حکومت نے کابینہ کے وزرا ء ، بیجنگ اور شنگھائی کے میئر ز اور انتہائی اعلیٰ عہدیداروں تک کو کرپشن ثابت ہونے پر گولی ماردی۔یہ سلسلہ آج تک جاری ہے ۔آپ اس قانون کا فائدہ ملا حظہ کیجئے۔کرپشن کی وجہ سے چین میں 80ء کی دہا ئی تک تمام تر معاشی ترقی کے با و جود کوئی ارب پتی نہیں تھا لیکن جب احتساب ہوا ،کرپٹ لوگوں کو سزا ہوئی تو آج چین میں 122ارب پتی موجود ہیں اور یہ تعداد امریکا کے بعد دوسرے نمبر پر آتی ہے ،دنیا میں ہر وہ قوم ختم ہوجاتی ہے جوتنازعات کا شکار ہوتی ہے۔یا جس میں کرپشن عام ہوتی ہے او ر چین ان دونوں بیماریوں سے نکل گیا ہے،اس نے باہمی تنازعے بھی ختم کر دیئے ہیں اور کرپشن بھی ۔چین کے صوبے حنان میں کرپشن کے خلاف کچھ عرصہ قبل ایک قانون پاس ہوا ،صو بائی حکومت نے تمام سرکاری ملا زموں پر پابندی لگا دی۔یہ کسی شخص سے بر تھ ڈے گفٹ وصول نہیں کرسکتے ،یہ پابندی اینٹی گرا فٹ کمیشن نے لگائی اس حکم کے مطابق جو شخص تحا ئف کو ذا تی فعل قرار دے گا اسے اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑے گا بصورت دیگر اسے گرفتار کر لیا جائے گا ،یہ چین کے ایک صوبے کا قانون ہے،ہمارا ٹوٹل جی ڈی پی 240بلین ہے جبکہ چین کے صرف اس صوبے کا جی ڈی پی 300بلین ڈالر ہے اور فرق صرف اور صرف ایسے قوانین کی وجہ سے ہے۔چین نے محض گزشتہ 25 برسوں کے اندر اپنے 50 کروڑ سے زیادہ شہریوں کو خطِ افلاس سے نکال کر متوسط طبقے میں لا کھڑا کیا۔ یہ اپنے آپ میں اتنا بڑا اقتصادی معجزہ ہے جس پر دنیا بھر کے معاشی ماہرین انگشت بدنداں ہیں۔

1974ء کے چین اور آج کے چین میں زمین آسمان کا فرق ہے ،اس وقت چین ایک پسماندہ ملک تھا مگر ترقی کی جانب گامزن تھا۔ پھر چین نے جس طرح کی جست لگائی اس نے بیشتر ترقی یافتہ ملکوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، غربت اور پسماندگی کو چھوڑ کر ترقی کی جانب گامزن ہوا۔چین کے راہنماؤں کے اندر یہ خواہش پیدا ہوئی کہ دنیا کی نا انصافی کے باوجود وہ ترقی کریں اور دنیا کو دکھا دیں کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے رہ سکتے ہیں کیونکہ مغرب نے چین کو مغربی ٹیکنالوجی سے دور رکھا ہوا تھا اسی وجہ سے چینی حکمرانوں نے ملک کی ترقی کے لئے بھرپور کوشش کی۔ چین کی ترقی کا دوسرا راز یہ ہے کہ چین کے جتنے راہنما آئے وہ اپنی پالیسیوں کے باعث چین کو ترقی کے نئے سے نئے راستے پر گامزن کرتے گئے۔ انہوں نے دوسرے ملکوں کی غلطیوں سے سیکھا اور یہ بھی کوشش کی کہ چین کی جو پالیسیاں ہیںوہ منجمد نہ ہوں ان کے اندر روانی ہو۔ وہ وقت کے دھارے کے ساتھ ساتھ بدلتی بھی رہیں تا کہ جو نئے چیلنجز آئیں ان کا مقابلہ کیا جاسکے، یہی وجہ ہے کہ چین آج اس مقام پر کھڑا ہے۔

چین اس کوشش میں ہے کہ اپنی ترقی سے دوسرے ممالک کو بھرپور فائدہ پہنچائے ،آج ترقی یافتہ ممالک اس بات پر مجبور ہیںوہ کہ چین کے ساتھ مل کر دنیا سے غربت ،افلاس ، ناخواندگی ،صحت اور ماحولیات کے مسائل کو دور کریں ،اس میں سے کچھ ممالک نے تو چین کا خیر مقدم کیا ہے اور کچھ چین سے خائف ہیں لیکن چین کو یقین ہے کہ جس طرح ’’دی بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ کا انیشیٹیو ہے اس کو لے کر جب وہ آگے چلے گا،جو پسماندہ یا ترقی یافتہ ممالک ہیں وہ باہمی تعاون سے ترقی کے سفر پر ایک ساتھ چلیں گے تو دنیا میں جوعدم مساوات ہے وہ دور ہو گی،مساوات قائم ہو گی اور سب ممالک یکساں طور پر ترقی یافتہ ہوں گے، یقیناً یہ ایک بہت بڑا مشن ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ چین کی ترقی سے سیکھیں گے ، وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ دورہ چین سے دونوں دوست ملکوں کے درمیان مجموعی اقتصادی تعلقات کو تقویت ملی ہے ، باہمی تعاون کے کئی مواقع کی نشاندہی کی گئی اور اقتصادی تعاون کے شعبہ میں متعدد ایم او یوز پر دستخط کئے گئے۔ان معاہدوں میں سماجی اقتصادی ترقی، غربت میں کمی، زراعت، اقتصادی و ٹیکنیکل تعاون فارسٹری، ارتھ سائنس، ہائیر ایجوکیشن اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں شامل ہیں۔چین کی اعلیٰ قیادت نے پاکستانی وفد کو اپنے بھرپورتعاون کی یقین دہانی کرائی ہے یہ اب ہم پر منحصر ہے کہ ہم چین کی معاشی ترقی کے تجربے سے کتنا سیکھتے ہیں۔اگر ہم چین کی مدد سے صرف کرپشن پر ہی قابو پا لیتے ہیں تو یہ بڑی کامیابی ہوگی۔

متعلقہ خبریں