Daily Mashriq

پاکستان کا فروری 2020 کے بعد بھی گرے لسٹ میں رہنے کا امکان

پاکستان کا فروری 2020 کے بعد بھی گرے لسٹ میں رہنے کا امکان

اسلام آباد: بیک وقت 2 جائزوں اور خطرے کی زد میں رہنے کی بنا پر پاکستان کا فروری 2020 کے بعد بھی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ میں برقرار رہنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

یہ بات اعلیٰ حکام نے پارلیمانی کمیٹی کے ایک اجلاس میں کہی اور انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ عالمی برادری کے مطابق معلومات کے تبادلوں کے معاہدوں کے تحت پاکستان کو 10 کھرب 15 ارب روپے کے غیر ملکی اثاثوں پر ٹیکس کی مد میں محص 5 ارب 60 کروڑ روپے حاصل ہوئے ہیں۔

وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کو رسک پروفائل کے باعث دیگر ممالک سے زیادہ بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔

انہوں نے بتایاکہ کچھ ممالک کو ایکشن پلان پر 80 فیصد عمل کرنے پر ہی گرے لسٹ سے خارج کردیا گیا لیکن پاکستان پر 100 فیصد عملدرآمد کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سیاسی وجوہات کی بنا پر پاکستان کو نہایت اعلیٰ سطح سے دیکھا جارہا ہے‘ حالانکہ افغانستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں موجود نہیں۔

وفاقی وزیر حماد اظہر کا کہنا تھا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کے اہداف کو پانے کے لیے بروقت اقدامات کررہا ہے اور 27 نکاتی ایکشن پلان کے 22 نکات پر جزوی طور پر عمل کیا جاچکا ہے تاہم انٹرنیشنل کوآپریشن ریویو گروپ (آئی سی آر جی) کے 5 اہداف پر عمل کرنا باقی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان ایکشن پلان کے حوالے سے اپنی آئندہ رپورٹ ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی) میں 7 دسمبر تک جمع کروائے گا جبکہ اے پی جی اُس رپورٹ پر سوالات اور فیڈ بیک 17 دسمبر تک دے گا جس کے بعد اسلام آباد 7 جنوری تک اپنا ردِ عمل دے گا۔

بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر نے بتایا پاکستان کی تکنیکی ٹیم جنوری کے تیسرے ہفتے میں ایشیا پیسیفک گروپ کے جوائنٹ ورکنگ گروپ کے اجلاس میں شرکت کرے گی جس کے بعد جوائنٹ ورکنگ گروپ ایف اے ٹی ایف کے پاس اپنی رپورٹ جنوری کے آخر میں جمع کروائے گا۔

مذکورہ رپورٹ پر فروری کے وسط تک فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا پاکستان کو گرے لسٹ سے خارج کرنا چاہیے یا اس فہرست میں برقرار رکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت گرے لسٹ سے اخراج کے حوالے سے پُرامید ہے لیکن اس کی کارکردگی کو بیک وقت اے پی جی کے 40 نکاتی ایکشن پلان کے تناظر میں بھی دیکھا جارہا ہے جس کی حتمی تاریخ اکتوبر 2020 ہے۔

وزیر اقتصادی امور کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں کہ آئی سی آر جی اہداف پر عملدرآمد کی حتمی مدت فروری سے لے کر اے پی جی کی اکتوبر تک کی ڈیڈلائن کے درمیانی عرصے میں ایف اے ٹی ایف پاکستان کے بارے میں کیا فیصلہ کرے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر پاکستان فروری تک کے ایکشن پلان پر عملدرآمد کر بھی لے تو اس کے آئندہ برس اکتوبر تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں موجود رہنے کا امکان ہے۔

متعلقہ خبریں