Daily Mashriq

ہر مسئلے کا ایک ہی حل، نوٹس لینا اور ہدایت کا اجرائ

ہر مسئلے کا ایک ہی حل، نوٹس لینا اور ہدایت کا اجرائ

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کا مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن کی ہدایت پر عملدرآمد کو اگر ماضی کی ہدایات اور سرکاری عملے کے روایتی کردار کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بہت سی ہدایات کی طرح ایک ایسی ہدایت ہے جس پر ہفتہ عشرہ بھی سنجیدگی کیساتھ عمل درآمد کیا جائے تو غنیمت ہوگی۔ وزیراعظم نے بھی صوبے کے چیف سیکرٹریوں کو اسی قسم کی ہدایت کی تھی مگر عملی طور پر کوئی بہتر صوت سامنے نہ آئی۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی بھی یہ پہلی ہدایت نہیں سوال یہ ہے کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو اس قسم کی ہدایت دینے کی نوبت کیوں آتی ہے اور وہ ہدایت جاری کرنے کی بجائے ڈپٹی کمشنروں اور سرکاری مشینری سے مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کی روک تھام میں ناکامی پر بازپرس کیوں نہیں کرتے۔ ان کیخلاف محکمانہ کارروائی میں کیا امر مانع ہے۔ ہدایت جاری کرنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی ہے، اگر اسے حکومتی فرائض میں شمار کریں تو سرکاری اہلکار کیا صرف اس وقت ہی حرکت میں آئیں گے جب ان کو کہا جائے گا اور وہ بھی چند دن کے مصنوعی چھاپوں کے بعد واپس دفاتر میں چلے جائیں گے۔ معاشرے میں قانون کا عملی نفاذ اور قانون کا خوف کیوں پیدا نہیں ہوتا اسلئے کہ ہر کسی کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ سارے اقدامات چند روز اور طفل تسلی قسم کے ہیں۔ ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ کسی مجسٹریٹ کے چھاپے کے فوراً بعد ہی تاجر اپنی ڈگر پر واپس آتے ہیں۔ کبھی کبھار کے چھاپے اور جرمانے مصنوعی مہنگائی کا حل نہیں، یہ وقتی اقدامات ہیں۔ مستقل اقدامات اور عملی اقدام اس وقت شمار ہوں گے جب لوگوں کو یہ یقین آجائے گا کہ قانون سے کھلواڑ مذاق نہیں سنجیدہ معاملہ ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اب تبدیل ہوچکے ہیں، حکومت کو بھی سخت اقدامات کرواتے ہوئے تاجروں کے دباؤ اور سیاسی مصلحت میں نہ آنے کا عزم اور اعلان کرنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے تاکہ سرکاری اہلکار اعتماد کیساتھ اپنا کام بحسن وخوبی اور بلاخوف انجام دے سکیں۔

سبزی منڈی کا بے نامی کاروبار

ٹاؤن میونسپل ایڈمنسٹریشن ٹاؤن ون کے دفتر کے پہلو میں سڑک پر غیرقانونی سبزی منڈی کی عدم منتقلی سے اعراض کی وجہ سمجھنا مشکل نہیں، اگرچہ اس کی سرپرستی کی براہ راست ذمہ داری ٹاؤن ون ہی کے عملے پر عائد ہوتی ہے لیکن یہ کوئی مخفی حرکت نہیں جو اعلیٰ حکام کی نظروں سے اوجھل اور پوشیدہ ہو۔ وزیربلدیات بھی اس سے لاعلم نہیں ہوں گے، حیرت کی بات یہ ہے کہ حکومت نے سڑک پار اس مقصد کیلئے دکانیں بنا دی ہیں اور جگہ کا کوئی مسئلہ نہیں وہاں لوگوں نے دکانیں بھی لے رکھی ہیں لیکن سڑک پر راستہ روک کر سبزی فروخت کا دھندہ اسلئے ہی جاری ہوگا کہ اس کی سرپرستی کرنے والے موجود ہیں جن کی ذمہ داری ان تجاوزات کی منتقلی ہے اگر وہی ملی بھگت کرلیں، ٹریفک پولیس بھی صرف نظر کرے، حکومت بھی نوٹس نہ لے تو پتھاریداروں سے رضاکارانہ طور پر جگہ چھوڑنے کی توقع کیسے کی جائے۔ عین ممکن ہے کہ کاروبار کے سرپرست سرکاری عمال ہوں اور سبزی فروش ان کے مقرر کردہ دیہاڑی دار ہوں۔ جس طرح غیرقانونی ٹرانسپورٹ کی بیشتر گاڑیوں کے مالکان پولیس حکام اور سرکاری اہلکار ہیں اس بے نامی کاروبار کا جب تک پتہ نہیں لگایا جاتا اور اس کے اصل مالکان اور سرپرستوں کیخلاف کارروائی نہیں ہوتی اس وقت تک سڑکوں کو تجاوزات سے پاک نہیں کیا جا سکتا۔ حیرت اس امر کی ہے کہ شہر کو تجاوزات سے پاک کرنے کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس اور فیصلے ہوتے ہیں لیکن عملی طور پر ایک سڑک کے قابضین کو ہٹایا نہیں جاتا۔ وزیربلدیات کو اس کا سختی سے نوٹس لینا چاہئے اور جلد سے جلد غیرقانونی سبزی منڈی چلانے والوں سے سڑک واگزار کرا لینا چاہئے، علاوہ ازیں بھی شہر میں جابجا شہری اس قسم کی صورتحال سے دوچار ہیں اس طرف بھی بتدریج توجہ دی جائے کہ کم ازکم سڑک بند کرکے کاروبار کی گنجائش باقی نہ رہے۔

برتھ سر ٹیفکیٹ پر رشوت کی وصولی

پسماندہ اور کم شرح خواندگی والے علاقوں میں برتھ سرٹیفکیٹ، فارم ب، شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات سے لوگوں کو نہ تو واقفیت ہوتی ہے اور نہ ہی وہ اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ اس قسم کے علاقوں میں سرکاری طور پر سہولیات کا بھی فقدان ہوتا ہے، اس کے باوجود اگر کسی علاقے کے لوگ اس قسم کی دستاویزات کی تیاری کیلئے سرکاری دفاتر سے رجوع کرتے ہیں تو ان کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے کجا کہ سادہ لوح افراد سے رقم بٹوری جائے۔ لنڈیکوتل میں برتھ سرٹیفکیٹ بنوانے والی خواتین سے دوسو روپے رشوت کی وصولی کا عمل ناقابل برداشت ہے۔ نہ صرف ذمہ دار عملے کیخلاف تحقیقات کی ضرورت ہے بلکہ اس امر کی بھی جواب طلبی کی ضرورت ہے کہ متعلقہ حکام اس کی تدارک میں غفلت کے مرتکب کیوں ہوئے یا پھر ملی بھگت میں وہ خود بھی شامل ہیں۔

بیرون ملک منشیات کی سمگلنگ میں اضافہ

آئے روز مختلف طریقوں سے بیرون ملک منشیات سمگل کرنے کی کوشش میں بیرون ملک جانے والے مسافروں کی گرفتاری سے اس امر کا شبہ بے جا نہیں کہ یا تو ان کی سادہ لوحی سے سمگلروں کے کارندے فائدہ اٹھا رہے ہیں یا پھر یہ لوگ خود ہی ایک ایسے فعل کے مرتکب ہو رہے ہیںجو جرم ہے، جس میں قید وجرمانہ کی سزا ان کے حصے میں آتی ہے اور ملک کی بدنامی الگ ہوتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جو بھی صورت ہو اس قسم کے لوگوں کو یہ بات باور کرانے کی ضرورت ہے کہ خواہ مخواہ کتنی بھی ہوشیاری سے کام لیں اور اپنے تئیں خفیہ سے خفیہ طریقہ اختیارکریں منشیات کا کھوج لگانا اور ان کی گرفتاری یقینی ہے۔ ٹریول ایجنسی کو اس امر کا پابند بنایا جائے کہ وہ اپنے تمام کلائینٹس کو خاص طور پر کم تعلیم یافتہ اور سادہ لوح قسم کے مسافروں کو اس خطرے اور صورتحال سے آگاہ کریں اور ان کو ترغیب دیں کہ وہ کسی غلط فہمی کا شکار ہوکر منشیات لیجانے کے جرم کے مرتکب نہ ہوں۔ ایئرپورٹ پر بھی داخلہ گیٹ پر اس طرح کی تنبیہ سرکاری طور پر کی جائے تاکہ کوئی بھی کم فہمی کے باعث کسی جال میں نہ پھنسے۔ اس کے باوجود جو لوگ منشیات لیجانے کی کوشش میں گرفتار ہوجائیں پہلے سے اتمام حجت کے بعد گرفتار ہونے والوں سے کوئی رعایت نہ برتی جائے۔

متعلقہ خبریں