Daily Mashriq

آزادی مارچ کا ایجنڈا عوامی مسائل کیوں نہیں؟

آزادی مارچ کا ایجنڈا عوامی مسائل کیوں نہیں؟

اس قوم کا المیہ چالاک رہنما اور سادہ لوح عوام ہیں۔ یہ رہنما نہایت چالاکی سے اپنے مسائل کو ہمارا مسئلہ نمبر ایک بنا دیتے ہیں۔ یہ ہمارے جذبات سے کھیلتے ہیں' کبھی یہ ہمیں جمہوریت کے نام پر بے وقوف بناتے ہیں' کبھی یہ دیگر مذہبی ایشوز کو بنیاد بنا کر ہمارے مذہبی جذبات کو اُبھارتے ہیں' کبھی یہ مہنگائی کا رونا رو کر ہمیں باور کراتے ہیں کہ گراں فروشی کا سبب موجودہ حکمران ہیں اورجیسے ہی اقتدارکا ہُما اُن کے سر پر بیٹھے گا مہنگائی کا جن بوتل میں خودبخود بند ہو جائیگا۔ یوں ہمارے مسائل کو بنیاد بنا کر یہ اپنا اُلو سیدھا کرتے ہیں اور بے چاری سادہ لوح عوام کبھی ان کو تخت پر بٹھانے کی جدوجہد کرتی ہے اور کبھی حکومتیں گرانے کیلئے اُن کی آلہ کار بن جاتی ہے۔ ان چالاک رہنماؤں کے پاس ہمارے مسائل کے حل کی ایک ہی ریسیپی (Recipe) ہے کہ ''انکو'' کسی طرح اقتدار کے ایوانوں میں بٹھاؤ۔ ہم نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیںکی کہ ہمیشہ حکومتیں گرانے کیلئے ہی لانگ مارچ اور آزادی مارچ کیوں ہوتے ہیں؟ کیا آج تک کوئی مارچ اسلئے ہواہے کہ اس کے نتیجے میں عوام کے مسائل حل ہو ں؟ کسی مارچ کا ایجنڈا عام آدمی کے مسائل کو ملحوظ خاطر رکھ کر بنایاجاتا تو عوام کے کافی سے زیادہ مسائل حل ہو چکے ہوتے اور حکومت کی لائن اور لینتھ بھی درست رہتی لیکن نہ تو ہمارے ''عزیز رہنماؤں'' کی یہ ترجیح ہے اور نہ ہی عوام کواپنی پامالی کا احساس ہے۔

1992ء میں بینظیر بھٹو نے نواز شریف حکومت کیخلاف لانگ مارچ کی کال دی جو حکومت نے ریاستی طاقت کے زور پر ناکام بنا دی۔ 1993ء میں بینظیر بھٹو دوبارہ برسرپیکار ہوئیں اور ''لانگ مارچ، فائنل مارچ'' کا بگل بجا کر قافلے فیض آباد راولپنڈی کے قریب واقع بارانی یونیورسٹی کے وسیع و عریض گراؤنڈ میں خیمہ زن ہوناشروع ہو گئے۔ صورتحال سنگین تھی مجبوراً فوج کو مداخلت کرنا پڑی اور یوں نواز حکومت صدر اسحق کے ہمراہ ایوان اقتدارسے رخصت ہوئی۔ 1994ء میںجب بینظیر کی حکومت کو ابھی ایک سال بھی مکمل نہ ہو پایا تھا کہ نوازشریف نے ''تحریک نجات'' شروع کر دی۔ بینظیر کے لانگ مارچ کے نتیجے میں حکومت گر گئی لیکن آنے والا دور پہلے کی نسبت عوام کیلئے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوا۔ مہنگائی بڑھ گئی اور ملکی قرضوں میںبھی اضافہ ہو گیا۔ قاضی حسین احمد نے بینظیر حکومت کیخلاف دھرنے کی کال دی۔ انجام کار دھرنا تو نہ ہو سکا البتہ افراتفری کی پیداشدہ کیفیت نے فاروق لغاری کو بینظیر حکومت کو چلتا کرنے کا موقع فراہم کر دیا۔ نئے انتخابات ہوئے' میاں نواز شریف برسراقتدار آگئے' دوتہائی کی اکثریت انہیں حاصل تھی مگر عوام کی زندگی اُسی کسمپرسی کی تصویر تھی۔ حکومتیں گرانے سے ہٹ کر ایک لانگ مارچ ایسا ضرور تھا جس نے اپنے مقصد کو پایا ' یہ عدلیہ کی بحالی کیلئے ہونے والا لانگ مارچ تھا جو کامیابی سے ہمکنار ہوا اور مارچ کے شرکاء راستے سے لوٹ گئے۔ تحریک انصاف نے انتخابات میں دھاندلی کیخلاف لانگ مارچ کیا چونکہ نواز حکومت دھاندلی کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے پر رضامند نہ تھی۔ دھاندلی کی تحقیقات کی حد تک یہ لانگ مارچ کامیاب رہا لیکن حکومت گرانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ آج پاکستان کو ایک اور آزادی مارچ کاسامنا ہے اور اس مارچ کا ایجنڈا بھی عوامی مسائل کے حل کی بجائے حکومت گرانے کا ہے حالانکہ حکومت کو بنے ابھی فقط ایک سال کا عرصہ ہوا ہے۔

کاش اس مارچ کا ہدف حکومت گرانے کی بجائے ''مہنگائی'' کا عفریت ہوتا اور حکومتی و اپوزیشن کی مذاکراتی ٹیمیں اس سوچ بچار میں ہوتیں کہ عوام کو ریلیف کیسے دیاجا سکتا ہے۔ اپوزیشن حکومت کو مجبور کر رہی ہوتی کہ پیٹرول کی قیمت کم کی جائے یا بجلی اور گیس کی قیمتیں نیچے لائی جائیں اور حکومت کی ٹیم اپوزیشن کواپنی مجبوریاں بتا کر قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہوتی کہ پیٹرول' بجلی اور گیس کی قیمتیں کم کرنے سے ہونے والا خسارہ کسی اور مد میںکیسے پورا کیا جا سکے گا۔ اپوزیشن اپنی تجاویز دیتی اور عوام کو ریلیف دینے اور بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلئے حکومتی اقدامات کیلئے اپنی مشروط حمایت کی پیشکش کرتی۔ کیا آزادی مارچ کا اہتمام کرنے والوں نے حکومت کو جو ایجنڈا پیش کیا ہے اُس میں عوامی نوعیت کے یہ مسائل شامل ہیں۔کیا اپوزیشن کے مطالبات میں ایسی کوئی شق شامل ہے جو حکومت کو سکولز کی فیسوں اور اعلیٰ تعلیم کے حصول میں اٹھنے والے ہوش ربا اخراجات میں کمی کا تقاضا کرتی؟ کیا اپوزیشن کے مطالبات میں ایک مطالبہ گورنمنٹ ہسپتالوں کی ناگفتہ بہ صورتحال کو بہتر بنانے کا ہوتا تو حکومت اس سے صرف نظر کر سکتی تھی؟ اگر اپوزیشن جماعتیں عوام کیلئے مخلص ہوتیں تو ملکی معیشت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے حکومت کو ایک ''میثاقِ جمہوریت'' جیسی دستاویز پر دستخط کرنے کیلئے کیا مجبور نہ کر سکتی تھیں؟ یہ کتنی سادہ اور معصوم سی خواہشات ہیں۔ مگر مملکت خداداد پاکستان میں ایسے کون سوچتا ہے۔ ''رہنما'' اسلئے نہیں سوچتے کہ یہ ان کی ضرورت نہیںہے' ان کا کام تو ویسے بھی چل رہا ہے۔ دوسری طرف ''عوام'' ہیں جنہیں ہر تحریک کا ایندھن ویسے ہی بنا لیا جاتا ہے اور استعمال کرنے کے بعد ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیاجاتا ہے' انہیں اپنے حقوق کی بجائے دوسروں کیلئے لڑنے کی عادت پڑ گئی ہے، یہ پاکستان کے المیوں میں ایک بڑا المیہ ہے۔ عوام کی نیازمندی ہے اور سیاست بازوں کی دکان چل رہی ہے۔ فیض احمد فیض یاد آتے ہیں۔

ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سے

بتوں نے کی ہیں جہاں میںخدائیاں کیا کیا

متعلقہ خبریں