Daily Mashriq

پختونوں کی تضحیک کب تک؟

پختونوں کی تضحیک کب تک؟

پختون ایک ایسا سافٹ ٹارگٹ ہے جسے جب لوگ چاہیں مذاق کا نشانہ بنالیتے ہیں بلکہ توہین کر کے دل خوش کرلینے میں ایک لمحہ ضائع نہیں کرتے، اگرچہ آزادی مارچ اور اس حوالے سے اسلام آباد میں دیتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے دھرنے سے تعلق صرف پختونوں ہی کا نہیں بلکہ اس میں پورے پاکستان سے لوگ شامل ہیں تاہم چونکہ جمعیت کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے اور وہ پختون ہیں اس لئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار نے گزشتہ روز ایک ٹی وی ٹاک شو میں اس دھرنے پر طنز کے تیر چلاتے ہوئے پوری پختون قوم کی تضحیک کا موقع تلاش کر ہی لیا اور کہا کہ''اکثر جو گلی محلے میں پٹھان آتے ہیں،پانچ سو والا کمبل 50روپے میں دے کر چلے جاتے ہیں''۔ موصوف کے اس بیان پر ٹاک شو ہی میں اعتراض کیا گیا اور اینکر نے توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ پختونوں کے بارے میں آپ اپنے الفاظ واپس لیں تو کہا، ''واپس لے لیتے ہیں، واپس لے لیتے ہیں'' مگر وہ جو دانشمندوں نے کہا ہے کہ تیر سے لگا زخم بھر جاتا ہے جبکہ زبان کے لگے چرکے دلوں پر نقش ہوجاتے ہیں، اس لئے موصوف کے یہ توہین آمیز الفاظ پختون قوم کے زخموں میں اضافے کا باعث بن گئے ہیں، یاد رہے کہ کچھ مدت پہلے پی ٹی وی پر ایک مزاحیہ مشاعرے میں اسی طرح ایک شاعر نے پختون قوم کی توہین کرتے ہوئے کچھ اشعار پڑھے تھے تو اس پر پورے پختونخوا میں احتجاج کیا گیا تھا، جس پر پی ٹی وی کے متعلقہ پروڈیوسر اور پروگرام منیجر کو معطل کر دیا گیا تھا اور شاعر پر پابندی لگا دی گئی تھی، مگر اس کے باوجود ایک مخصوص زبان بولنے والے پختون قوم کی تضحیک سے باز نہیں آئے، اگرچہ اس میں ان کا زیادہ قصور نہیں لگتا، کیونکہ جس قوم کو رنجیت سنگھ اور اس کے سپاہیوں کے ہاتھوں اپنا حشر یاد نہیں، وہی لوگ آج اسی رنجیت سنگھ کو اپنا ہیرو قرار دے رہے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں ہندوستان پر حملہ آور ہونے والے بعض بادشاہوں کو ڈاکو قرار دیتے ہیں، حالانکہ ان سلاطین کیساتھ جید علمائے کرام اور بزرگان دین نے آکر برصغیر میں دین اسلام کو فروغ دیا اور جن کے ہاتھوں میں لاکھوں افراد نے اسلام قبول کر کے اسلام کے پھیلانے میں مدد دی، اسلئے اگر اسی بغض وعناد کو دلوں میں لئے کچھ لوگ آج بھی پختون قوم سے اپنی نفرت کا اظہار کرتے رہتے ہیں تو ان کا کیا علاج، کہ ذہنی پراگندگی اور نفرت ان کی خمیر میں گندھی ہوئی ہے۔ اس سے پہلے پنجاب کے وزیر اطلاعات نے بھی پختون قیادت کے حوالے سے نازیبا الفاظ استعمال کئے تھے جس پر ممتاز صحافی، اینکر اور کالم نگار سلیم صافی نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ پنجاب کے وزیراطلاعات تو فیاض الحسن چوہان کے جانشین ہیں، یوں ان کے پختون اکابرین باچاخان، صمد خان اچکزئی اور مفتی محمود کے بارے میں بازاری اور گھٹیا زبان درازی تو سمجھ میں آتی ہے لیکن نہ جانے عثمان ڈار جیسے خاندانی اور شائستہ انسان کو کیا ہوگیا، فوری معذرت کرلیں تو بہتر ہے، اس پر اگرچہ عثمان ڈار نے بعد میں معذرت کرتے ہوئے کہا کہ تمام پاکستانی میرے لئے انتہائی قابل احترام ہیں، کسی بھی شخص یا قوم کی کسی بھی طریقہ سے دل آزاری کرنا میرے لئے ناقابل قبول ہے، میں اسی پروگرام میں اپنے الفاظ واپس لے چکا ہوں، اگر میرے کسی بھی جملے سے میرے پختون بھائیوں کی دل آزاری ہوئی تو میں اس پر معذرت خواہ ہوں، اس پر گلزار کا یہ شعر یاد آرہا ہے کہ

عادتاً تم نے کر دیئے وعدے

عادتاً ہم نے اعتبار کیا

یہ کوئی پہلی بار نہیں نہ کوئی پہلا شخص ہے جس نے پختون قوم کی تضحیک کی بلکہ یہ ایک خاص قوم کے افراد کی سائیکی بن چکی ہے کہ جہاں موقع ملے پختونوں کی توہین کر لیتے ہیں اور پھر جب احتجاج ہوتا ہے تو انگریزوں کی طرح معذرت کر کے بات کو ادھر اُدھر کر دیتے ہیں، جیسے کہ انگریز کسی کا کتنا ہی نقصان کرلیں ایک لفظ سوری کہہ کر جان جھڑا لیتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایک ٹی وی چینل کے مزاحیہ پروگرام مذاق رات میں ایک باقاعدہ پختون کردار شامل تھا جس کو مخصوص لباس پہنا کر اور سائیکل دیکر لایا جاتا اور پختونوں کے لہجے میں (تذکیر وتانیث سے آزاد) اُردو زبان بلوا کر مذاق کا نشانہ بنایا جاتا، جس پر راقم نے کئی کالم لکھے تو یہ سلسلہ کم ہوگیا (اب بھی شاذ ونادر اس کردار کو سامنے لانے کا موقع ضائع نہیں کیا جاتا، اسلئے اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ انگریزوں کی طرح صرف ''سوری'' کہنے سے پختونوں کی تضحیک کا سلسلہ ختم سمجھا جائے تو یہ ان لوگوں کی غلط فہمی ہے، ان کو یہ رویہ ترک کرنا پڑے گا کیونکہ توہین اور تضحیک کا یہ رویہ ایک تسلسل کیساتھ جاری ہے اور پختون اس ملک میں دوسرے یا تیسرے درجے کے شہری نہیں ہیں جن کیساتھ یہ رویہ اسی طرح برقرار رکھا جائے گا، پختونوں کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ باقی قومیتوں کا احترام کرتے ہیں اس لئے جواب میں کوئی ایسی بات زبان یا قلم سے نہیں نکالتے جن سے دوسری برادریوں کی دل آزاری ہو، زیادہ سے زیادہ احتجاج کر کے اپنے ہونے کا احساس دلاتے ہیں، مگر اب بہت ہوگئی ہے، یہ رویہ ترک کرنا پڑے گا جو پختونوں کیلئے دل دکھانے کا باعث ہو، اگرچہ سلیم صافی نے عثمان ڈار کی معذرت پر اپنے ایک اور ٹویٹ میں کہا ہے کہ ''عثمان ڈار کی وضاحت کے بعد ان کا پیچھا چھوڑ دینا چاہئے، وہ بے چارہ عمران خان کو پختون سمجھتا ہے جو کمبل بیچنے والوں کی طرح کروڑوں نوکریوں اور لاکھوں گھروں کی تعمیر کے وعدے سے حکومت شروع کر چکے تھے لیکن مرغی انڈوں پر آگئے، ایسا تو کمبل بیچنے والے بھی نہیں کرتے جیسا کہ عثمان ڈار کے لیڈر نے کیا''۔ تاہم اس صورتحال پر وزیراعظم کو ضرور غور کرنا چاہئے کیونکہ اب تو خیبر پختونخوا اسمبلی میں بھی اس حوالے سے قرارداد جمع کرا دی گئی ہے جس کا کیا حشر ہوتا ہے اس کیلئے انتظار کرنا پڑے گا۔

متعلقہ خبریں