Daily Mashriq

عمران خان کا کردار اور پروپیگنڈہ

عمران خان کا کردار اور پروپیگنڈہ

قوم میں بڑی خوبیاں ہیں، ذہانت وبہادری میں عالمگیر شہرت کی حامل، سخت سے سخت حالات میں نہ گھبرانے والی قوم۔ پیاز، ٹماٹر اور مرچ کیساتھ روٹی کھا کر گزارہ کرنے والے لوگ، سوئی وسائیکل چین سے منگوانے والے لیکن ایٹم بم بڑی طاقتوں کی مخالفت اور کمزور معیشت کے باوجود بنانے والے لیکن ان ساری خوبیوں کے باوجود جب اس قوم کی خامیوں پر نظر پڑتی ہے تو انسان گھبرا جاتا ہے کہ آخر اتنی ساری اخلاقی برائیوں اور خامیوں کے باوجود یہ قوم کیسے جی رہی ہے؟ لیکن حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ بھی کیا جینا ہے جو ہم جی رہے ہیں۔ ستر برس گزر گئے اور ان سارے مجبوریوںِ، خامیوں، کمزوریوں اور کوتاہیوں کے سبب جو نقصان ہم اُٹھا چکے وہ اپنی جگہ، لیکن اس قوم کی ایک بڑی خامی یہ ہے کہ سیاست کے میدان میں قائداعظم، علامہ اقبال اور لیاقت علی خان کے بعد کوئی بڑا آدمی پیدا نہ کرسکی۔ اسی بناء پر پاکستان گزشتہ ساٹھ برسوں سے سیاسی، اتھل پتھل کا شکار رہا۔ جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ مافیا اور اشرافیہ (جسے حسن نثار بدمعاشیہ کہتے ہیں) خاندانی سیاستدانوں نے سیاست کو پیسہ لگانے اور کمانے کا کھیل بنا کر رکھ دیا۔دوسری بڑی خامی یہ ہے کہ ہمارے ہاں جب بھی کوئی آدمی اپنی کمزوریوں پر قابو پاتے ہوئے آگے بڑھ کر ملک وقوم کی خدمت کرنے لگتا ہے تو روایتی عناصر اُس کے ماضی کو کریدتے اور اُدھیڑتے ہوئے اُس میں خامیاں نکال نکال کر اُس کی منزل کی طرف راہ کھوٹی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ بڑے عرصے بعد اللہ نے عمران خان کو توفیق دی کہ اُس نے برملا اعتراف کیا کہ مجھ پر ایک وقت غفلت اور جہالت کا بھی گزرا ہے، وہ شاید اسلام کے بارے میں آج کی طرح علم وعمل ویقین سے بھی بہرہ نہ تھا۔ لیکن اس کے باوجود اُس کی زندگی پر بحیثیت مجموعی نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ منافقت اور فریب کاری اُسے چھو کر بھی نہیں گزری ہے۔ ملک، اداروں اور پبلک فیگر بننے سے پہلے اُس سے ضرور غلطیاں ہوئی ہوں گی لیکن کیا اُس نے اسلام کا شعوری مطالعہ کر کے اور عوامی سیاست میں آنے کے بعد بھی کوئی ایسا عمل کیا ہے جس پر سخت گرفت ہوسکے۔ کیا اسلام میں ہر شخص کو توبہ کا حق حاصل نہیں ہے۔ صحابہ کرام اور بعض دیگر اسلامی شخصیات بشمول محمد علی جناح کی زندگیوں میں اسلام کے قبول کرنے یا شعوری طور پر سمجھنے سے قبل کئی ایک واقعات ایسے ہیں جو آج بھی تاریخ میں درج ہیں اور اُن کو پڑھتے ہوئے ان شخصیات کی آخری زندگی اور کردار کو پڑھ کر اور دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ فلمی دنیا اور بعض دیگر شعبہ ہائے زندگی میں سے کتنے لوگ توبہ تائب ہوکر اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کا عظیم فریضہ سرانجام دے چکے ہیں۔ ایک ایسا شخص جو اس سے پہلے کبھی حکومت میں نہیں رہا، جس کی کوئی جائیداد، بنگلہ اور کاروبار ملک سے باہر نہیں، جس پر کرپشن اور خیانت وبددیانتی کا کوئی الزام نہیں، جو مال ودولت کا رسیا شوقین نہیں (ہوتا تو پاکستان کی سیاست میں آنے کے بجائے ایک کرکٹ کی کمنٹری سے اربوں کما سکتا تھا)۔ سیاست میں صرف اور صرف اپنی قوم وملک کی محبت اور خدمت اور ملک کو ان مشکلات سے نکالنے کیلئے آیا۔عمران خان اپنی ذات اور نوعیت میں منفرد انسان ہیں اسلئے پاکستان کے روایتی سیاستدانوں سے مختلف ہے۔ اگرچہ صفوں اور کمین گاہوں میں کچھ لوگ ایسے ویسے بھی ہیں لیکن یہ اُس روایتی موروثی سیاست کی وراثتی مجبوریاں ہیں ورنہ عمران خان کا بس چلے تو وہ کچھ کر دکھائے جس کے وہم وگمان میں بھی نہ ہو اور شاید اسی وجہ سے پاکستان کے موروثی سیاستدان اپنی تیسری نسل کو سیاست اقتدار کی بھاگیں اور لگام ہاتھ میں دینے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں۔ اچھی بات ہے یہ جمہوری سیاست کی خوبصورتی اور روایت ہے لیکن آئین وسیاست کی آڑ میں عمران خان کی کردارکشی اور بہتان تراشی یقینا ہر لحاظ سے مذموم ہے۔ بعض سیاسی مذہبی عناصر جس طرح عقیدہ ختم النبوت اور قادیانیت کی آڑ میں عمران خان کی شخصیت وکردار کو مسخ کرنے میں لگے ہوئے ہیں وہ یقینا عنداللہ جواب دہ ہوں گے۔وہ شخص جس نے یو این کے سٹیج سے جناب خاتم النبیینۖ کی ناموس وحرمت کی حفاظت پر دوٹوک الفاظ وانداز میں پوری دنیا کو للکارا، جسکا اعتراف عرب وعجم کے مسلمانوں نے کیا، وہ شخص جو تعلیمی اداروں اور جامعات میں سیرت النبیۖ کے مطالعہ وتحقیق کیلئے اداروں کے قیام کے احکامات صادر کرتا ہے، اس پر دور کی کوڑی لاتے ہوئے حکیم محمد سعید کا حوالہ ڈھونڈ کر لاتے ہیں۔ عمران خان اس وقت وہ واحد لیڈر ہے جس کے دامن پر ملک وقوم سے بے وفائی، بددیانتی یا ذاتی مفادات حاصل کرنے کا کوئی دھبہ اور شائبہ تک نہیں لیکن اس کے باوجود بغیر کسی ثبوت ودلیل کے اُس کے ذاتی کردار پر اتنے الزامات لگائے جارہے ہیں کہ ملکی تاریخ اس کی مثال نہیں ملتی لیکن عمران خان اور اُس کے مداحین کو یاد رکھنا ہوگا کہ جتنے بڑے الزامات لگتے ہیں اتنا ہی وہ آدمی بڑا ہوتا ہے اور آخرکار اتنے ہی بڑے کام سرانجام پاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں