Daily Mashriq

میں بھری دنیا میں تنہا ہوگیا

میں بھری دنیا میں تنہا ہوگیا

زندگی میں ہر شخص کے خواب ہوتے ہیں، وہ انہی خوابوں کے سہارے زندگی کے نشیب وفراز کا سامنا کرتا ہے لیکن اسے کمزور کہا گیا ہے اسے قدم قدم پر اپنے اردگرد بکھرے ہوئے انسانوں کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے ہمہ تن کوشاں رہتے ہیں۔ یہ زندگی کے قافلے میں اپنے ساتھیوں کو ساتھ لیکر آگے بڑھتے ہیں، اگر کسی ساتھی کی رفتار کمزور پڑ جائے تو رک کر اس کا انتظار کرتے ہیں، اگر کوئی زمانے کی تند وتیز آندھیوں کی زد میں آجائے تو آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھام لیتے ہیں! ان کی صحبت میں زندگی شبنم کے قطروں کی طرح خوشگوار ہوجاتی ہے لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے یہ کالے گلاب کی طرح نایاب ہوتے ہیں! ہمارے معاشرے کا عام چلن یہی ہے کہ ہم زندہ انسانوں سے زیادہ مردوں کی قدر کرتے ہیں، دکھی انسانیت کو جب ہماری ضرورت ہوتی ہے اس وقت ہم کٹھورپن کا مظاہرہ کرتے ہیں جو انسان ہماری تھوڑی سی مدد سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکتا ہے اسے ہم زمانے کے بے رحم تھپیڑوں کے حوالے کر دیتے ہیں! اسے زمانے کے ظلم وستم سہنے کیلئے تنہا چھوڑ دیتے ہیں، اس حوالے سے بے بدل ادیب اشفاق احمد کا ایک بہت ہی خوبصورت افسانہ ہے ''محسن محلہ'' اس میں ایک غریب سکول ماسٹر الیاس کی کہانی بیان کی گئی ہے جو ایک کرائے کی کوٹھڑی میں رہتا ہے اس کے پاس محلے کے لڑکے گنتی سیکھنے پہاڑے کہنے اور تختی لکھنے آجاتے ہیں۔ غریب شخص ہے بڑی مشکل سے اس کی گزر اوقات ہوتی ہے، محلے کے سب لوگ اس کا احترام کرتے ہیں لیکن کوئی ماسٹر صاحب کے قریب نہیں آتا، بس دور سے سلام کرکے گزر جاتے ہیں۔ ماسٹر صاحب اپنی تنگدستی کی وجہ سے وقت پر کوٹھڑی کا کرایہ ادا نہیں کر پاتے اس لئے ان پر چھ ماہ کا کرایہ چڑھ جاتا ہے۔ سردیوں کی ایک شام مالک مکان انہیں کہتا ہے کہ اگر تین دن کے اندر اندر کرایہ ادا نہ کیا تو وہ اس کا سامان نکال کر باہر پھینک دے گا۔ ماسٹر بیچارا کرایہ کہاں سے ادا کرتا، وہ محلے کے لوگوں سے قرض مانگتا ہے لیکن کوئی اسے قرض بھی نہیں دیتا! یہی وہ وقت تھا جب محلے کے لوگ اس کی مدد کرسکتے تھے اور ان کی تھوڑی سی امداد ماسٹر صاحب کی مشکلات ختم کرنے کیلئے کافی تھی! مالک مکان اس کا سامان اُٹھا کر باہر گلی میں پھینک دیتا ہے، کوئی اللہ کا بندہ آگے بڑھ کر ماسٹر الیاس کی مدد نہیں کرتا وہ انتہائی مجبور ہوکر گلی میں لگے ہوئے بجلی کے ٹرانسفارمر کے نیچے اپنی چارپائی ڈال دیتا ہے، شدید سردی کی وجہ سے ماسٹر الیاس کو نمونیہ ہوجاتا ہے، اس کے پاس کھانے کیلئے بھی پیسے نہیں ہوتے، قرض مانگتا ہے لیکن اسے کوئی قرض بھی نہیں دیتا، تین دن آسمان کے نیچے گزار کر ماسٹر الیاس اس کٹھور دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے! اب گلی میں چارپائیاں بچھ جاتی ہیں جن محلے داروں نے اسے قرض نہیں دیا تھا وہ پیسے نکال کر قبر بھی بنواتے ہیں اور لٹھے، کافور، عرق گلاب اور پھولوں کا بندوبست بھی کرتے ہیں! جب ماسٹر الیاس زندہ تھا تو کسی نے اس کی مدد نہیں کی، اگر محلے کے لوگ مل کر اس کا کرایہ ادا کر دیتے تو وہ شدید سردی سے نہ مرتا! یوں کہئے اسے دنیا والوں کی بے رخی مار دیتی ہے وہ لوگوں کی بے حسی کا شکار ہوجاتا ہے۔ ہمارے آس پاس بہت سے ماسٹر الیاس آج بھی موجود ہیں لیکن ہم میں سے کتنے ہیں جو آگے بڑھ کر ان کی مدد کرتے ہیں؟ شاید بہت کم؟ لیکن کہتے ہیں اچھے لوگوں سے دنیا آباد ہے، ہر بچے کی پیدائش اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا ابھی انسان سے مایوس نہیں ہوا! ماسٹر الیاس کی کہانی پڑھ کر ہمیں اپنے ایک دوست کا سنایا ہوا قصہ یاد آگیا، اس نے اپنے ایک دوست کو اپنا مکان کرائے پر دے رکھا تھا، اس بیچارے کے حالات خراب تھے، کرایہ ادا کرنا اس کیلئے ممکن نہیں تھا،لیکن نرم دل مالک مکان نے اس سے کرائے کی ادائیگی کا تقاضا نہیں کیا تھا۔ ایک دن اتفاقاً سرراہ اس کی ملاقات اپنے کرائے دار سے ہوگئی، وہ مالک مکان سے بہت شرمندہ تھا اسے کرایہ نہ دینے کا احساس تھا۔ اس نے اس کے پاؤں چھوکر اس سے معافی مانگی، تو مالک مکان نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا زندگی میں اچھے برے دن ضرور آتے ہیں فکر نہ کرو اگر اچھا وقت نہیں رہا تو برا وقت بھی گزر جائیگا، کرایہ دار نے اپنی حالت زار بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کے پاس کھانے کیلئے بھی پیسے نہیں ہیں لیکن بہن بھائی اسے بالکل نہیں پوچھتے، وہ زندگی سے مایوس ہوچکا تھا، مالک مکان نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا میں آپ سے کرایہ نہیں مانگتا، اللہ کریم ضرور کوئی راستہ نکال لیگا۔ لیکن مالک مکان کی اس تمام تر ہمدردی کے باوجود شدید مایوسی اسے اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔ دوسرے دن اس نے بہت سی گولیاں پھانک کر اپنی زندگی کا چراغ گل کر دیا، اسکی خودکشی کا اصل سبب بہن بھائیوں کا رویہ تھا جنہوں نے اسے مشکل حالات میں تنہا چھوڑ دیا تھا۔ اگر وہ اس کی مدد کرتے اس کی ڈھارس بندھاتے اسے حوصلہ دیتے تو وہ کبھی اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کا خاتمہ نہ کرتا! مالک مکان کہتا ہے کہ میں اللہ کریم کا اس بات پر شکر ادا کرتا ہوں کہ میں نے اس کی بے عزتی نہیں کی، اسے کوئی ہلکی بات نہیں کی، اگر میں نے اسے لعنت ملامت کی ہوتی تو میں ساری زندگی اپنے آپ کو معاف نہ کرتا اور یہی سمجھتا رہتا کہ میں اس کی خودکشی کا سبب بنا تھا۔ زندگی ایک امتحان ہے اچھے برے دن آتے رہتے ہیں، ہمیں اپنے اردگرد موجود لوگوں کا خیال رکھنا چاہئے۔ مخلوق اللہ پاک کا کنبہ ہے وہ اپنی مخلوق کیساتھ مہربانی کرنے والوں سے راضی ہوتا ہے ان پر اپنی رحمت برساتا ہے انہیں زندگی وآخرت کی کامیابیاں نصیب کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں