Daily Mashriq


سی پیک‘ شکایات وتحفظات اور اُمیدیں

سی پیک‘ شکایات وتحفظات اور اُمیدیں

سی پیک معاہدہ کا ازسرنو جائزہ لئے جانے اور منصوبے میں بلوچستان کو اس کا جائز حق دئیے جانے کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے ہفتہ کو کوئٹہ میں یہ بھی کہا کہ ملک اس وقت مالی مشکلات کا شکار ہے جس سے جلد چھٹکارا پالیں گے۔ سی پیک پر تمام تحفظات کا ازالہ کیا جائے گا۔ ایسا کوئی وعدہ نہیں کریں گے جو پورا نہ کرسکیں۔ سی پیک پر محض بلوچستان کو ہی تحفظات نہیں خیبر پختونخوا اور سندھ کی حکومتیں بھی پچھلے برسوں کے دوران اس حوالے سے اپنی شکایات وتحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ ادھر خود آبادی میں سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں جنوبی علاقوں کی سرائیکی بولنے والی اکثریتی آبادی کو بھی یہ شکایت ہے کہ سی پیک میں شامل منصوبوں کی مساوی تقسیم کی بجائے ایک صوبہ کے وسطی اور مرکزی حصوں کو زیادہ اہمیت دی گئی۔ اس حوالے سے ایک شکایت سی پیک معاہدے کو پارلیمان میں لانے سے گریز کی سابقہ حکومت کی پالیسی کے حوالے سے بھی رہی۔ عوام اور پارلیمان کو یہ حق حاصل تھا اور ہے کہ انہیں معلوم ہو کہ سی پیک منصوبے میں امداد کتنی ہے۔ انوسٹمنٹ کتنی اور قرضہ کتنا ہے۔ انوسٹمنٹ اور قرضہ کن شرائط پر اور کس شرح پر ہے۔ مثال کے طور پر سابق حکومت کے بعض ذمہ داران کے حوالے سے یہ خبریں آتی رہیں کہ قرضہ 43ارب ڈالر ہے جو 92ارب ڈالر کی صورت میں واپس کرنا ہوگا۔ یہ اعداد وشمار اگر غلط تھے تو اس کی تردید اور اصل صورتحال سے عوام کو آگاہ کرنا حکومت کی ذمہ داری تھی۔ یہ بجا ہے کہ خیبر پختونخوا اور سندھ کی حکومتوں اور جنوبی پنجاب کی سرائیکی آبادی کی شکایات وتحفظات غیر منطقی ہرگز نہیں البتہ اس حوالے سے بلوچستان کا مؤقف اور شکایات سب سے اہم ہیں۔ گوادر بندرگاہ بلوچستان کی حدود میں واقع ہے اسی طرح سی پیک روٹ کا بڑا حصہ بلوچستان کی سر زمین سے گزرنا ہے۔ اس طور سوال یہ ہے کہ سی پیک روٹ پر جو صنعتی زونز بننے ہیں ان میں کتنے اور کس تناسب سے پنجاب کے جنوبی حصہ یا دوسرے تین اور بالخصوص بلوچستان کے حصے میں آئیں گے؟ اندریں حالات اب اگر وزیراعظم عمران خان نے اس حوالے بات کر ہی دی ہے تو یہ عرض کیا جاسکتا ہے کہ کسی تاخیر کے بغیر ایک پارلیمانی کمیشن بننا چاہئے۔ اس کمیشن میں نمائندگی دیتے وقت اگر مساوات کے اصول کو مدنظر رکھا جائے تو نہ صرف شکایات کے ازالے کیلئے امید کی جاسکتی ہے بلکہ یہ توقع بھی کہ کمیشن پچھلے دور میں ہوئی خاص صوبہ پرستی پر بھی نظرثانی کرے گا۔ ثانیاً یہ بھی کہ سی پیک روٹ میں چند خاص خاندانوں اور علاقوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے کی گئی تبدیلی کا مسئلہ بھی زیرغور لایا جائے گا۔ سی پیک میں بلوچستان کو جائز حقوق دینے کا عزم خوش آئند ہے۔ بلوچستان کے لوگوں کی بنیادی شکایت ہی یہی ہے کہ ان کی سرزمین اور وسائل استعمال تو ہوں گے مگر فوائد سے صوبہ اور شہری محروم رہیں گے۔ کوئٹہ میں اقتصادی راہداری کی سیکورٹی بریفنگ اور گورنر ہاؤس میں منعقدہ تقریب دونوں میں سی پیک مرکز گفتگو رہا، ہونا بھی چاہئے یہ ملکی تاریخ کا اہم ترین منصوبہ ہے۔ اگر اس کی سمت درست رہے اور کرپشن وکمیشن کیساتھ پسند وناپسند کے سائیوں سے محفوظ رکھا جائے تو فوائد سے مساوی طور پر استفادہ کرنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ یہاں ہم اس امر کی طرف توجہ دلانا ضروری خیال کرتے ہیں کہ بلوچستان کی شکایات محض سی پیک روٹ کے حوالے سے ہی نہیں کچھ دیگر شکایات بھی ہیں اور ماضی میں ہوئی ناانصافیاں بھی جن کے اثرات بہت واضح اور گہرے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان شکایات اور ناانصافیوں سے پیدا شدہ اثرات کے خاتمے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اُٹھائے جائیں۔ مشکلات ومسائل یقینا ہیں مگر یہ عرض کرنا بھی غیرمناسب نہیں ہوگا کہ فوائد سمیٹنے والے اب کچھ قربانی بھی دیں۔ بعض حلقوں کی یہ بات بھی درست ہے کہ ماضی میں جیسے پہلے لاہور کے اورنج ٹرین منصوبے کو خالص حکومتی منصوبہ بنا کر پیش کیا جاتا رہا اور پھر کچھ عرصہ بعد 3ارب ڈالرکے اس منصوبے کے حوالے سے یہ اعتراف سامنے آیا کہ اورنج ٹرین منصوبہ سی پیک کا حصہ ہے تو اب نئی حکومت کسی تاخیر کے بغیر واضح کرے کہ پنجاب نے سی پیک میں اپنے لئے کیا کیا رکھا اور دیگر صوبوں کو کیا دیا۔ اس سوال کا مقصد کسی بھی طرح کی صوبائی یا نسلی منافرت پھیلانا ہرگز نہیں بلکہ اکائیوں سے تشکیل پاتی فیڈریشن میں اس طرح کے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مکرر اس امر کی طرف توجہ دلائیں گے کہ سی پیک کے منصوبوں کی تقسیم اور دیگر امور کے جائزے کیساتھ شکایات وتحفظات کے ازالے کیلئے قومی پارلیمانی کمیشن کا قیام ازبس ضروری ہے۔ دوسرا اہم نکتہ سی پیک منصوبوں میں ہوئی کرپشن کی شکایات کا ہے اور تیسرا ان منصوبوں میں ہوئی کرپشن کا جو چینی مالیاتی اداروں سے قرضوں کی بنیاد پر مکمل ہوئے یا تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ اس حوالے سے ایک مثال ملتان میٹرو بس منصوبہ ہے۔ ان معروضات پر ٹھنڈے دل سے غور کرنے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ اس امر پر دو آراء ہرگز نہیں کہ ملک اس وقت مالی مشکلات کا شکار ہے۔ بجٹ خسارہ اور دیگر قرضہ جات بھاری بھر کم ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پچھلے پانچ سالوں کے دوران لئے گئے بھاری بھر کم بیرونی قرضے گئے کہاں؟ کسی فرد یا جماعت وادارے پر اُنگلی اُٹھائے بغیر یہ عرض کریں گے کہ تحریک انصاف اصلاحات وتبدیلی کے وعدوں اور دیگر سنگین مسائل پر کم سے کم وقت میں قابو پانے کے عزم کا اظہار کرتی رہی ہے۔ اب وقت آن پہنچا ہے کہ موجودہ حکومت اپنی پالیسیوں پر عمل کرے تاکہ وعدے پورے ہوسکیں۔ ہماری رائے میں درپیش مسائل کے حوالے سے نئی قیادت کو سابق حکمرانوں پر تنقید کرنے کی بجائے ان کے خاتمے کیلئے اپنی حکمت عملی وضع کرنے اور عمل کرنا ہوگا تاکہ عوام کو تبدیلی کا احساس ہوسکے۔

متعلقہ خبریں