Daily Mashriq


دوسروں کی نہیں اپنی فکر کیجئے حضور!

دوسروں کی نہیں اپنی فکر کیجئے حضور!

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر اسلامی ممالک کو پاکستانی مؤقف پر لانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حالات پہلے جیسے نہیں ہیں‘ امہ تقسیم ہو چکی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ہمارے پالیسی سازوں کو سوچنا ہوگا کہ جب اسلامی دنیا کشمیر جیسے اہم اور نازک معاملے پر ہمارے مؤقف کی تائید کی بجائے بھارت سے تجارتی روابط کو زیادہ مقدم جانتی ہے تو آخر ہماری کیا مجبوری ہے کہ ہم اسلامی دنیا کے تابعدار بچے کی طرح جینے پر مصر ہیں؟ ثانیاً یہ کہ امہ تقسیم کب نہیں تھی ۔ کشمیر کی طرح فلسطین کے مسئلہ پر بھی مسلم امہ اور خصوصاً عرب دنیا دو طرح کی آراء رکھتی ہے‘ عراق پر امریکی جارحیت کے وقت مسلم دنیا کے چند ممالک کے سوا باقی ماندہ ممالک امریکہ کیساتھ کھڑے تھے۔ شام پر داعش کی یلغار اور دہشتگردوں کی کارروائیوں سے جنم لینے والے انسانی المیوں کو فرقہ پرستی کی آنکھ سے دیکھا گیا۔ اب بھی یمن کے انسانی المئے پر ہم غیرجانبدارانہ مؤقف اپنانے کی بجائے امریکہ عرب اتحاد کی حمایت میں مصروف ہیں۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی دنیا کی ایٹمی طاقت کو تو چاہئے تھا کہ وہ اپنی غیرجانبدارانہ خارجہ پالیسی کی بنیاد پر مسلم امہ کے دلوں کی دھڑکن بنتی۔ بدقسمتی سے ہمارے مسائل ایسے ہی ہیں کہ ایک طرف ہمیں امریکہ کی نازبرداریاں کرنی پڑتی ہیں تو دوسری طرف مالدار مسلم ممالک کی ہمنوائی۔ ہر دو صورتوں میں ہماری اپنی کوئی رائے ہوتی ہے نہ مقام۔ سو اندریں حالات ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے اپنے گھر کے ماحول کو بہتر بنایا جائے اور پھر غیرجانبدارانہ خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی جائے۔ امریکہ یا مالدار مسلم مالک کی نازبرداریوں نے ہمیں مسائل کے سوا کچھ نہیں دیا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ کیا ہمارے پالیسی ساز اپنے قومی وقار اور خودمختاری کو مقدم سمجھ کر مستقبل کے حوالے سے ایسی پالیسیاں وضع کریں گے جن سے اقوام کی برادری اور مسلم دنیا میں پاکستان کی ساکھ بہتر ہو؟ وزارت خارجہ کے بابوؤں کو روایتی بیانات کو رمق زندگی سمجھنے کی بجائے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

نیا عمرانی معاہدہ بجا لیکن سوال یہ بھی؟

قومی وطن پارٹی کے چیئرمین اور کے پی ،کے سابق وزیراعلیٰ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کا یہ کہنا بجا طور پر درست ہے کہ صوبوں کو مزید حقوق دینے کیلئے نئے عمرانی معاہدہ کی ضرورت ہے۔ چند روز قبل سپیکر قومی اسمبلی جناب اسد قیصر بھی اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ تیزی سے بدلتے حالات اور ضرورتوں کے پیش نظر یہی بات بلوچستان‘ سندھ اور پنجاب کے بعض رہنما بھی کہتے آئے ہیں۔ دستور ہوتے ہی اسلئے ہیں کہ ان میں تبدیل شدہ حالات اور ضرورتوں کے پیش نظر ترامیم ہوتی رہیں تاکہ معاملات بگڑنے نہ پائیں۔ فیڈریشن کی اکائیوں کی وفاق اور وفاقی اداروں سے شکایات کا قدرے ازالہ 18ویں ترمیم میں ہوا تھا مگر یہ حرف آخر ہرگز نہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ صوبوں کو مضبوط کئے بغیر وفاق کو مستحکم کرنا مشکل ہے۔ نیا عمرانی معاہدہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ صوبوں کے وسائل اور بعض دوسرے امور پر وفاق کی پالیسی ہمیشہ یک رخی رہی۔ بدقسمتی سے پیپلز پارٹی کے دور میں صوبائی خودمختاری کا دائرہ وسیع کرنے کیلئے جو اقدامات اُٹھائے گئے اور انہیں آئینی تحفظ بھی دیا گیا ان سے انحراف کی پالسیاں نون لیگ کے دور میں زور وشور سے جاری رہیں۔ بالخصوص سی پیک کے حوالے سے تو یہ تاثر اُبھر آیا کہ وفاق جو دے وہی کافی ہے حالانکہ صوبوں کو اس منصوبے میں مساوی طور پر شریک کیا جانا چاہئے تھا۔ یہاں ایک سوال نئے عمرانی معاہدے کی بات کرنیوالے محترم زعما سے بھی پوچھا جانا چاہئے کہ جب پچھلے دور میں صوبائی خودمختاری پامال ہو رہی تھی تو وہ محض حکومتی اتحاد کی حسرت بھری دنیا میں خاموش کیوں رہے؟ بہرطور دیگر مسائل ومعاملات کیساتھ منتخب پارلیمان کو اس حوالے سے بھی غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے اقدامات ہوں جن سے صوبائی خودمختاری مستحکم بھی ہو اور یہ تاثر بھی ختم ہو کہ وفاقی مساوات کی بجائے عددی اکثریت کی مجبوریوں سے بندھا ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں