Daily Mashriq


مہنگائی کی نئی لہر اور ہمارے خواب

مہنگائی کی نئی لہر اور ہمارے خواب

250 ادویات کی قیمتوں میں 10سے30 فیصد‘ بجلی کے نرخوں میں فیول ایٍڈجسٹمنٹ کے نام پر ایک روپے سے زائد اور سوئی گیس کی قیمتوں میں ماہانہ 50کیوبک میٹر گیس استعمال کرنے پر 10فیصد جو مجموعی طور پر 143فیصد اضافے تک جائے گا، پر شہری حلقوں میں پائی جانے والی تشویش بجا طور پر درست ہے۔ قیمتوں میں اس حالیہ اضافے کی وجہ سے مہنگائی کی سطح مزید بلند ہوگی۔ یہ فیصلہ ان دنوں میں ہوا جب مختلف نوع ٹیکسوں میں اضافے کی وجہ سے عام شہری پہلے ہی پریشان ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا ادویات‘ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے قبل کسی نے اس امر پر غور کرنے کی کوشش کی ہے کہ آمدن اور اخراجات میں عدم توازن سے شہریوں کی کیسی درگت بنی ہوئی ہے؟ حکومت لاکھ وعدے اور یقین دہانیاں کروائے مگر مہنگائی کی بدترین بلند شرح کو روکنے اور عام شہریوں کو ریلیف دینے میں کامیاب نہیں ہو پائے گی۔ ایسے لگتا ہے کہ پالیسی سازوں کے پیش نظر اپنے سماج کے عمومی حالات‘ مہنگائی‘ بیروزگاری اور بدترین غربت سے پیدا شدہ مسائل نہیں بلکہ آئی ایم ایف اور دوسرے عالمی مالیاتی اداروں کے مطالبات تھے۔ قیمتوں میں اضافے نے سفید پوش اور محروم طبقات کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ایک ایسی حکومت جو انقلابی تبدیلیوں کے وعدہ پر اقتدار میں آئی اس کے دور اقتدار کے پہلے تیس دنوں میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کئی بار اضافہ ہوا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اس کے باوجود بلند سطح کو چھو رہی ہیں کہ عالمی منڈی میں فی بیرل قیمت میں کمی واقع ہوئی اور پھر اگلے مرحلہ پر 250 ادویات کی قیمتوں میں 10سے 30فیصد اضافے کی تلوار چلا دی گئی۔موجودہ وزیرخزانہ جب اپوزیشن کے رہنما ہوا کرتے تھے تو اکثر قومی اسمبلی کے ایوان اور ٹی وی چینلوں پر فرماتے تھے حکومت 40روپے لیٹر پٹرول فروخت کروا کے بھی مناسب منافع حاصل کرسکتی ہے۔ آج جب پٹرول 80ڈالر فی بیرل ہے تو سابق اپوزیشن رہنما اور موجودہ وزیر خزانہ یہ بتانا پسند کریں گے کہ وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بدولت پٹرولیم مصنوعات کی عالمی منڈی میں کمی کے باوجود ملک میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے؟ روایت یہی ہے کہ اس ملک کے اہل اقتدار عوام کے سوالوں کے جواب نہیں دیا کرتے بلکہ اپنے مؤقف کے حق میں تاویلات لاتے ہیں۔ چین کے جناب وزیرخزانہ نے چند دن قبل کہا ’’مجھے حیرانی ہے کہ کیسے سابق حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا زیادہ بوجھ عوام پر ڈالنے کی بجائے اربوں روپے سبسڈی پر جھونک دیئے؟‘‘۔ بجا ہے کہ وہ سبسڈی کی رقم بھی عوامی ٹیکسوں کا حصہ ہی تھی لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ماضی کی طرح اب بھی منافع صرف پٹرولیم کمپنیوں، پمپس مالکان اور حکومت کی جیبوں میں جا رہا ہے۔یہاں ایک سوال وزیر خزانہ اور پالیسی سازوں سے یہ بھی دریافت کیا جانا چاہئے کہ ایسے کون سے اقدامات اُٹھائے گئے جن سے روپے کی قدر میں بہتری آئے؟ بنیادی طور پر ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی قدر میں کمی بھی عدم توازن کا در کھولنے کا باعث ہے افسوس یہ ہے کہ اس حوالے سے کوئی مؤثر حکمت عملی نہیں اپنائی گئی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پچھلے 15دنوں کے دوران برائلر کے نرخوں میں 15 سے 25روپے فی کلو، چھوٹا گوشت، 80روپے فی کلو، بیف 45روپے فی کلو قیمتوں میں اضافہ ہوا چند بڑے بڑے شہروں میں اضافہ مزید 10سے20 روپے فی کلو ہے۔ اس طرح سبزیوں، دالوں، کوکنگ آئلز، گھی، آٹا اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں 13سے20 فیصد اضافہ ہوا ۔ کسی حکومتی ادارے نے مہنگائی کی اس لہر کا نوٹس لیا نہ اسے روکنے کیلئے اقدامات کی ضرورت محسوس کی۔اس طور اب جو ادویات، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے وہ پہلے سے موجود مہنگائی کی شرح کو بڑھانے کا مؤجب ہوگا اور ہمارے پالیسی سازوں کے اسباق کو دہراتے ہوئے حکومتی رہنما یہ کہتے دکھائی دیں گے کہ قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی متاثر نہیں ہوگا حالانکہ سب سے زیادہ عام آدمی ہی متاثر ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ عرض کیا جانا بہت ضروری ہے کہ بجلی، گیس، پٹرولیم اور ادویات کی قیمتوں میں پچھلے ایک ماہ کے دوران ہونیوالے اضافوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ ماضی کی حکومتیں ہوں یا موجودہ حکومت تحریر نویس ان سطور میں تواتر کیساتھ یہ عرض کرتے آرہا ہے کہ عوام کی حالت زار بہتر بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ اولاً یہ کہ مختلف اقسام کے ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے اور ثانیاً یہ کہ غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کی جائے۔ مکرر عرض کئے دیتا ہوں سینٹ‘ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں مشکل سے 3یا4 فیصد افراد کا تعلق لوئر مڈل کلاس سے، 96/97 فیصد کا تعلق مڈل کلاس‘ اپر مڈل کلاس اور اشرافیہ کے طبقات سے ہے۔ ان تینوں طبقات سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹرین اس پوزیشن میں ہیں کہ اگر انہیں تنخواہیں اور مراعات نہ بھی ملیں تو ان کے گھروں کا چولہا پرانی شان وشوکت سے جلتا رہے گا تو کیوں نہ یہ 96/97فیصد ارکان عوام کیلئے قربانی دینے میں پہل کریں۔ آپ اس خواہش کو جاگتی آنکھ کا خواب بھی کہہ سکتے ہیں مگر خواب دیکھنے میں کوئی برائی ہے نہ تعبیر پانے کیلئے جدوجہد اور متوجہ کرتے رہنے میں۔یہ بھی بجا ہے کہ یہاں کسی کو رائے عامہ کے اکثریتی طبقات کے مفادات یا حالت زار کا احساس نہیں۔ کوئی بھی شخص اپنے طبقے کے مفاد سے آگے دیکھنے کا حوصلہ نہیں کرتا۔ اس کے باوجود صاف سیدھے انداز میں زمینی حقائق اہل اقتدار کے سامنے رکھنا چاپلوسی سے بھری تحریروں کے مقابلہ میں زیادہ اہم ہے۔ ہم چھ دہائیوں سے تو یہ دیکھ اور بھگت ہی رہے ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن کے زمانوں میں ہمارے رہنماؤں کا انداز کلام‘ دردجمہوریت‘ محبت عوام کے معیارات مختلف ہوتے ہیں۔ سو یہ بھی ممکن نہیں کہ تحریک انصاف راتوں رات تبدیلی کاشت کرکے فصل تیار کر لے لیکن شروعات تو ہونی چاہئیں۔ بدقسمتی سے شروعات مہنگائی بڑھانے کا مؤجب بن رہی ہیں اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں