Daily Mashriq


ٹرمپ کا طنز اور مسلمان حکمران

ٹرمپ کا طنز اور مسلمان حکمران

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خاصی بدزبان اور منہ پھٹ شخصیت واقع ہوئے ہیں ۔روس سے چین، شمالی کوریا، ایران اور پاکستان تک کوئی بھی اس بدزبانی سے بچ نہیں سکا۔ اب امریکہ کا روایتی دوست اور کاروباری شراکت دار سعودی عرب بھی اس زبان درازی سے محفوظ نہ رہ سکا۔ ٹرمپ نے ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران سعودی حکمرانوں کے بارے میں نہایت طنزیہ لہجہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ کیساتھ ایک ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی فوج کی مدد کے بغیر ایک ہفتہ بھی اقتدار میں نہیں رہ سکتے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے شاہ عبداللہ کو بتایا تھا کہ وہ ہمیں سعودی عرب کی حفاظت کا معاوضہ دیںاور معاوضے کے بغیر زیادہ دیر تک خدمات انجام نہیں دی جا سکتیں۔ سعودی عرب نے اس کا جواب یوں دیا ہے کہ امریکہ نے ہم پر کوئی احسان نہیں کیا اگر امریکہ نے اسلحہ دیا تو ہم نے اس کی رقم دی ہے۔ ایران نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے سعودی حکمرانوں کی طرف دوستی کا سکہ اُچھال دیا۔ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ایک ٹویٹر پیغام میں کہا کہ ٹرمپ سعودی حکمرانوں کی مسلسل تذلیل کرتے جا رہے ہیں انہیں اب سامراجی مقاصد کی بجائے علاقائی تعاون کو فروغ دینا چاہئے۔ یوں تو ڈونلڈ ٹرمپ زمانے بھر سے ناراض رہتے ہیں مگر سعودی عرب سے ان کی تازہ ناراضگی کی وجہ تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ہے۔ سعودی عرب دنیا میں تیل برآمد کرنیوالا سب سے بڑا ملک اور اوپیک کا رکن ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ٹرمپ نے تیل برآمد کرنیوالے ملکوں کی تنظیم اوپیک پر دنیا کو لوٹنے کا الزام عائد کیا تھا۔ سعودی عرب کیساتھ امریکہ کے تعلقات میں ایک غیر محسوس اُتار چڑھاؤ خلیج کی پہلی جنگ سے ہی جاری ہے۔ مدت دراز تک امریکہ سعودی عرب کے شاہی خاندان کی حمایت کرتا ہے مگر حمایت وتعلق کی اس داستان میں غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل سعودی حکمران شاہ فیصل کی پراسرار شہادت کا واقعہ بھی موجود ہے۔ شاہ فیصل اسلامی کانفرنس کے بانیوں اور اس تصور کے منصوبہ سازوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا فنانسر بھی سمجھا جاتا تھا۔ شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کیساتھ بھی انہیں بیٹھنے میں کوئی تامل نہیں ہوتا تھا اور وہ تیل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے پر بھی یقین رکھتے تھے۔ امریکہ کیساتھ سعودی حکمرانوں کے تعلق کی بنیادرضاکارانہ اور جذبہ خدمت سے مغلوب عمل، انسانی ہمدردی یا دوستی نہیں خالص کاروباری تھی اور اس سے بھی بڑھ کر مشرق وسطیٰ میں طاقت کا ایسا توازن برقرار رکھنا تھا جس سے اسرائیل کے وجود کیلئے کوئی خطرہ پیدا نہ ہو۔ سعودی عرب نے اپنے زیراثر ملکوں اور خود اپنے عوام کے جذبات کے پیمانے کو اسرائیل کیخلاف چھلکنے سے بچائے رکھا۔ امریکہ کو کاروباری سہولیات دیں اور اس کے بدلے امریکہ نے سعودی عرب پر نوازشات کی بارش کی۔ امریکی بینکوں اور مارکیٹوں کی رونقیں عرب شاہزداوں اور بااثر کاروباری طبقوں کے دم قدم سے آج بھی جاری ہیں۔ مسلمان حکمرانوں نے اگر او آئی سی کے پلیٹ فارم کو مضبوط کیاہوتا تو آج انہیں اس ذلت آمیز انداز ِتخاطب سے واسطہ نہ پڑتا۔ یہ صرف سعودی حکمرانوں کی نہیں امریکی مفادات کیلئے اپنا قومی وجود اور عزت اور انا داؤ پر لگانے والے مسلمان حکمرانوں کیلئے سوچنے کا مقام بھی ہے۔ مقام شکر ہے کہ مسلمان حکمران طبقات میں اب ذلت کا احساس پیدا ہونے لگا ہے مگر احساس ہی کافی نہیں بلکہ اس احساس کو عملی صورت دینا لازمی ہے۔ وفاقی کابینہ نے اربوں ڈالر کے تجارتی معاہدات کیساتھ ساتھ سعودی عرب کی طرف سے گوادر میں ایک جدید آئل ریفائنری کی منظوری دے دی۔ حکومت کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اس آئل ریفائنری کی استعداد اورسرمایہ کاری کا بعد میں جائزہ لیا جائیگا۔ موجودہ حکومت نے یہ اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب سی پیک کا تیسرا شراکت دار بننے کا خواہش مند ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں نئے انداز کی گرم جوشی سے اس بات کا خدشہ موجود تھا کہ ایران سعودی عرب کیساتھ اپنی روایتی علاقائی اور سیاسی اختلافات کے باعث اس نئی صورتحال سے کبیدہ خاطر ہوگا۔ یہ تاثر اس وقت زائل ہوگیاجب پاکستان میں ایران کے سفیر مہدی ہنر دوست نے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک گیم چینجر ہے اور ایران کو اس میں سعودی عرب کی شمولیت اور سرمایہ کاری پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ اس عمل کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا جان چکی ہے کہ ترقی کا راستہ جنگ نہیں باہمی روابط ہیں۔ ایرانی سفیر کی طرف سے پاک سعودی تعلقات اور سعودی عرب کی سی پیک میں شمولیت کا کھلے دل سے خیرمقدم حددرجہ خوش آئند ہے۔ اس کا اثر صرف پاک ایران تعلقات پر ہی نہیں ایران اور سعودی عرب کے تعلقات اور خلیج بالخصوص یمن اور شام کی خانگی جنگوں اور فلسطین کے حالات پر بھی پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ جس طرح مسلمان ملکوں کو ایک ایک کرکے بے عزت اور تنہا کر رہے ہیں وہ مسلمانوں کے اندر ایک احساسِ زیاں پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ پاکستان اگر سعودی عرب اور ایران کو قریب لانے میں کامیاب ہوتا ہے اور دونوں شام، لبنان، یمن اور عراق میں پراکسی لڑائیاں ختم کرنے پر مائل ہوتے ہیں تو یہ نئی صبح کا عنوان بن سکتا ہے اور شاید اپنے من میں ڈوب کر سراغ ِزندگی پانے کے سوا اب مسلمان دنیا کے پاس کوئی راہ باقی نہیں۔

متعلقہ خبریں