Daily Mashriq


احتساب اور اس کے لوازمات

احتساب اور اس کے لوازمات

احتساب گھر‘ محلے اور گلی سے لیکر حکومتی ایوانوں تک کسی بڑے چھوٹے‘ طاقتور اور کمزور‘ گورے اور کالے کے امتیاز کے بغیر کسی بھی معاشرے کے استحکام‘ ترقی اور بقا کا ضامن ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن وحدیث میں اس پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے۔ آج الحمدللہ! پاکستان میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا یہ فرمان عوام کی اکثریت کو معلوم ہے کہ حضورؐ نے صحابہ کرامؓ سے خطاب فرمایا کہ یہ تم سے پہلے معاشرے اسلئے تباہ ہوئے کہ وہاں امیر وغریب کا احتساب یکساں طور پر نہ تھا۔ کوئی کمزور جرم کا ارتکاب کرتا تو پورے کا پورا قانون عمل میں آتا اور امیر کیلئے تاویلات اور حیلوں بہانوں کے ذریعے برائے نام رہ جاتا۔یہودیوں نے تو رشوت لے لیکر اپنا قانون ایسا توڑ مروڑ لیا تھا کہ امیر پیسے کے زور پر قانون کی گرفت سے بالاتر تھا۔ البتہ غریب پر پیسہ نہ ہونے کے سبب نافذ ہو جاتا۔ یہودیوں نے اسی ذیل میں رجم کی سزا کو چند کوڑوں اور منہ کالا کر کے بازار میں پھرانے تک محدود کر لیا تھا۔ یہی حال ہندو معاشرے کا تھا، برہمن کسی شودر کو قتل کر لیتا تو اس کے زیادہ سے زیادہ سر کے بال منڈا لئے جاتے اور شودر‘ برہمن کیخلاف کسی غلطی اور جرم کا مرتکب ہوتا تو اس کو بمعہ خاندان کھولتے تیل کی کڑاہی میں جلنا پڑتا۔ یہی حال عرب کا اور دنیا کے دیگر معاشروں اور اقوام کا کم وبیش تھا۔خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مدنی معاشرے اور ریاست کی پہچان عدل وانصاف اور بے لاگ احتساب تھا۔ فرمایا‘ میری بیٹی فاطمہ (رضی اللہ عنھا) بھی چوری کرتی تو ان کا بھی ہاتھ ہی کاٹا جاتا۔ غزوہ حنین کے موقع پر چند نوعمر مسلمانوں نے مال غنیمت کی تقسیم کے حوالے کوئی چہ میگوئی کی تو سب کو جمع کرکے خطاب فرمایا کہ زمین کے اوپر مجھ سے زیادہ کون عدل وانصاف قائم کر سکتا ہے۔ میں نے یہاں مال غنیمت کو جس طرح تقسیم کیا ہے وہ عین عدل کے مطابق ہے۔ اس دار فنا سے رحلت سے چند دن پہلے صحابہ کرامؓ سے فرمایا کہ میری ذات سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو یا مجھ پر کسی کا کسی قسم کا لین دین اور قرض وغیرہ ہو تو میں حاضر ہوں۔ ان ہی خطوط وتعلیمات پر خلفائے راشدین نے جو نظام حکومت قائم کیا اور چلایا اس کا مطالعہ کرتے ہوئے آج صاحب احساس وضمیر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ خلیفہ منتخب ہونے کے بعد بھی گھر کے اخراجات پورے کرنے کیلئے کپڑے کا تھان کندھے پر رکھ کر بازار چلتے ہیں۔ یہاں تک کہ حکومتی ذمہ داریوں کے سبب جب کابینہ ان کیلئے روزینہ مقرر کرتا ہے تو آپؓ خود ہی ایک مزدور کی دیہاڑی کے برابر مقرر کرتے ہیں اور پوری مدت خلافت اسی طرح گزرتی ہے۔ یہاں تک کہ وفات کے بعد کفن کا نیا کپڑا کسی غریب مستحق کیلئے چھوڑتے ہوئے خود اپنے پہنے ہوئے کپڑوں میں لحد میں اُتار دئیے جاتے ہیں۔حضر عمر فاروقؓ کی تو شخصیت عبقری ہے اور یہ لقب (عبقری) جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے عطا فرمایا تھا۔ چھبیس لاکھ مربع میل مملکت کے خلیفہ کے لباس میں کئی پیوند لگے ہوتے تھے جن میں سے ایک پیوند سرخ چمڑے کا بھی تھا۔ یہی وہ خلیفہ المسلمین تھا جس سے قیصر وکسریٰ کانپتے تھے۔ آج عالم اسلام اور وطن عزیز میں اس قسم کے واقعات معاشرے کے افراد اور بالخصوص حکمرانان وقت کے سامنے بیان کریں تو فوراً پکار اُٹھتے ہیں۔ اوہ یار‘ وہ دور اور لوگ کہاں اور ہم کہاں‘ ان کی تربیت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمائی تھی اور ہم چودہ صدیاں بعد کی پیداوار ہیں اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ یہ درست لیکن آخر قرآن وسنت تو قیامت تک کیلئے ہیں۔ یہ صرف تلاوت، مُردوں کے پیچھے ختم شریف اور دلہنوں کے سروں پر پکڑنے اور تعویز وتشت وغیرہ کیلئے تو نازل نہیں ہوا ہے؟ زندگی کے انفرادی واجتماعی امور ومعاملات کو ان احکام کی روشنی میں کم ازکم اس حد تک ڈھالنا کہ مسلمانوں کی سلامتی اور حرمت وآبرو کی حفاظت تو ممکن ہو لیکن چونکہ یہ بات ان کے دل ودماغ میں راسخ نہیں ہو پا رہی جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وطن عزیز میں ستر برس ہوگئے ہیں یہاں کوئی ایسی حکومت قائم نہیں ہوسکی جس میں خیر غالب ہو۔ خیر سے مراد یہ ہے کہ یہاں عدل وانصاف ہو اور حرام وحلال کی تمیز ہو۔ حرام کرنا مشکل ہو اور حلال آسان ہو۔ اس میں شک نہیں کہ لالچ وحرض اور شیطانی ترغیب کے سبب دنیا کے سارے ملکوں میں کرپشن ہوتی ہے لیکن وطن عزیز میں اسلام کے احکام‘ قرآن وسنت کی موجودگی اور پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الااللہ کے باوجود جس پایے اور غضب کی کرپشن کی کہانیاں گزشتہ دو عشروں میں سامنے آئی ہیں اس سے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ ظالم حکمران تو گویا ملک وقوم کو سموچی نگلنا چاہتے تھے اور یہ مگرمچھوں کی عادت ہوتی ہے اسلئے ہمارے ہاں عوامی نعرہ یہ ہے کہ جب تک بڑے مگرمچھوں کو سمندر سے پکڑ کر نکال باہر نہیں کیا جاتا تب تک ملک وقوم کو لاحق خطرات کم نہ ہوں گے۔لیکن مصیبت یہ ہے کہ وطن عزیز میں جب کبھی احتساب کا نعرہ لگا ہے وہ منطقی انجام کو نہیں پہنچا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ احتساب کرنے والوں میں بھی کمی کوتاہیاں موجود ہوتی ہیںلیکن یاد رکھنا ہوگا کہ کسی پر بھی بغیر ٹھوس ثبوت کے ہاتھ ڈالنا اور پھر اس کو منطقی انجام تک کسی بھی وجہ سے نہ پہنچانا ملک وقوم کیلئے بہت نقصان دہ ثابت ہونے کے علاوہ نظام احتساب وعدل پر لوگوں کے اعتماد کو ڈانواڈول کرنے کے مترادف ہوگا۔ لیکن اگر ٹھوس شواہد کیساتھ کسی کی کرپشن ثابت ہوتی ہے تو اسے قرار واقعی سزا ملنی چاہئے تاکہ لوگوں کو عبرت ہو اور معاشرے اور ملک کی بقاء، استحکام اور ترقی کی طرف سفر جاری رہ سکے۔

متعلقہ خبریں