Daily Mashriq


اپوزیشن کا بے سمت ٹریک

اپوزیشن کا بے سمت ٹریک

پاکستان میں جو جمہوریت رائج ہے اس مروجہ سسٹم میں برسر اقتدار پارٹی کو ہی مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کو لاکھ برائیوں کے باوجود حق بجانب تصور کیا جاتا ہے‘ حالانکہ اپوزیشن جماعتوں کو بھی لاکھوں روپے تنخواہ‘ کروڑوں کی مر اعات اور فنڈز ملتے ہیں۔ حزب اختلاف کا بنیادی کردار یہ ہے کہ وہ اسمبلی میں عوام کی آواز ہوتی ہے‘ عوامی مفاد میں پارلیمنٹ میں قانون سازی کرکے حکومتی وزراء کو سوال و جواب کے کٹہرے میں لائے‘ حکومت کی منفی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرے اور اصلاح احوال کی کوشش کرے‘ لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں حزب اختلاف کا کردار ہمیشہ عوامی امنگوں کے منافی رہا ہے‘ ان کی سیاست فقط اقتدار کی سیاست ہی رہی۔ جو نہی حکومتی امور کی انجام دہی کا آغاز ہوتا ہے ‘ اس وقت سے ہی بھرپور کوشش کی جاتی ہے کہ کسی بھی صورت میں حکومت کو چلنے نہ دیا جائے‘اسے نان ایشوز میں الجھایا جائے ، الیکشن میں دھاندلی کے نام پر تحریکیں چلتی ہیں‘ کبھی دھرنوں کی صورت میں حکومتی کاموں میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے۔ مظاہرے‘ دھرنے سے عوام جذبات کا رخ موڑنے کا کام تو کرسکتے ہیں لیکن سنجیدہ اور مستحکم سیاسی استحکام کی بنیاد نہیں بن سکتے۔ دنیا بھر میں یہ ضروری سمجھا جاتا ہے کہ حزب اختلاف کی حزب اقتدار کے ساتھ شراکت ہو‘ بالخصوص قومی ایشوز پر تو حزب اختلا ف اور حزب اقتدار کو ایک پیج پر ہونا چاہیے۔جمہوری روایات کا تقاضا ہے کہ اپوزیشن کی جماعتیں پی ٹی آئی کی حکومت کو کام کرنے کا پورا پورا موقع فراہم کریں‘ پانچ سال پورے کرنا پی ٹی آئی کا آئینی و جمہوری حق ہے جبکہ صورتحال یہ ہے کہ اپوزیشن کی جماعتیں ایک ماہ بعد ہی حکومت سے کارکردگی کا حساب مانگ رہی ہیں۔ 25 جولائی کے انتخابی نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے انہی سطور میں لکھا تھا کہ مضبوط اپوزیشن کی وجہ سے جمہوری عمل کو فائدہ ہوگا کیونکہ ہماری ملکی تاریخ میں ایسا پہلی بار دیکھنے کو ملا ہے کہ جیتنے والی پارٹی پی ٹی آئی میں اکثریت نوجوانوں کی ہے جبکہ بزرجمہر حزب اختلاف کی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں یوں ہمارے منجھے ہوئے سیاستدان مثبت تنقید کرتے ہوئے نومنتخب نوجوانوں کو مکمل سپورٹ کریں گے جس سے نوجوانوں کو سیکھنے کا موقع ملے گا اور اس عمل سے ہماری جموری اقدار مضبوط ہوں گی۔لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ اس کے برعکس حزب اختلاف کے نزدیک صرف ایک ماہ میں ہی عمران خان اور اس کی پوری ٹیم ناکام ہوچکی ہے‘ حزب اختلاف ایسے بیانات دے رہی ہے جس سے یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کہ اگلے چند ماہ میں پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن کی جماعتوں سے میرا سوال یہ ہے کہ اگر واقعی پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہو جاتی ہے یا مختلف حیلے نہانوں سے اسے ختم کر دیا جاتا ہے تو آئینی لحاظ سے یہ عمل کیسا ہوگا، کل تک جو قائدین کہہ رہے تھے کہ ’’ووٹ کو عزت دو‘ ہم عوام کا مینڈیٹ لیکر اقتدار میں آئے ہیں اپنی آئینی مدت پوری کیے بغیر ہرگز نہ جائیں گے‘‘ آج ان قائدین کے پاس کیا اخلاقی جواز ہے جو پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کو چلنے نہیں کرنے دے رہے۔ اگر بالفر ض پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کا تختہ دھڑن کردیا جاتاہے تو کیا ملکی خزانے میں اتنے پیسے موجود ہیں جس سے دوبارہ انتخابات کروائے جاسکیں؟

اپوزیشن کی جماعتوں کو تنقید کیلئے پی ٹی آئی کی حکومت پورا پورا موقع فراہم کررہی ہے۔ عمران خان اور اس کے وزراء عجلت میں ایسے فیصلے کررہے ہیں جو بظاہر عوام دشمن تصور کیے جاتے ہیں‘ مثلاً بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنا‘ منی بجٹ کے ذریعہ اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ایسا عمل ہے جس سے عام آدمی کی زندگی متاثر ہورہی ہے جبکہ پی ٹی آئی نے اپنی انتخابی مہم میں کہا تھا کہ امیروں سے پیسے وصول کرکے غریبوں پر خرچ کریں گے ، حقیقی معنوں میں اس نعرہ میں کوئی صد اقت نظر نہیں آرہی ہے‘ کاشتکاروں کو بھی کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ہے‘ ریڈیو پاکستان سمیت دیگر اداروں میں ڈائون سائزنگ کا ذمہ دار بھی موجودہ حکومت کو ہی تصور کیا جارہا ہے‘ حکومت کے یہ اقدامات ایسے ہیں کہ جس سے عام آدمی کی زندگی متاثر ہورہی ہے جسے بنیاد بناکر اپوزیشن حکومت کو مورد الزام ٹھہرانے کے ساتھ ساتھ حکومت کی ناتجربہ کاری کو اجاگر کرکے یہ مؤقف اختیار کررہی ہے کہ اگر ایسے لوگوں کو پانچ سال حکومت کا اختیار دے دیا گیا تو ملک تباہ ہو جائے گا۔ہم سمجھتے ہیں اپوزیشن پی ٹی آئی کی حکومت کو ناکام ثابت کرنے کیلئے جو اقدامات پارلیمنٹ سے باہر کر رہی ہے وہی کام پارلیمنٹ کے اندر کرے ،اپوزیشن کے پیش نظر حکومت کو ناکام ثابت کرنا نہ ہو بلکہ اس کے پیش نظر ایسی تنقید ہو جو ملک وقوم کے فائدے میں ہو ،اگر اپوزیشن جماعتیںبے سمت ٹریک کو چھوڑ کر اپنا قبلہ درست کر لیں توکوئی وجہ نہیں کہ حکومت عوامی مسائل کے حل میں ناکام ہو۔

متعلقہ خبریں