Daily Mashriq


آنگنوں میں اُگنے والی بھوک

آنگنوں میں اُگنے والی بھوک

انسان اپنی قوت خرید کا غلام بن کر رہ گیا ہے، آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کے کھوکھلے دعوؤں سے عوام کو اچھے دنوں کی نوید دینے والوں نے بالآخر اسی عطار کے لڑکے سے دوا لینے کا قصد کرتے ہوئے عوام کو ابتدائے عشق کی جھلک بجلی، گیس کی قیمتوں میں اضافے کی صورت دکھا دی ہے جس پر کسی کی چیخیں نکلتی ہیں تو نکلیں کہ آئی ایم ایف نے تھپکی بھی دیدی ہے اور ساتھ ہی ان قیمتوں میں مزید اضافہ کرنے کی ہدایت بھی فرما دی ہے، یعنی وہ جو آج سے چالیس پچاس سال پہلے رسالوں میں ہدایت نامہ برائے شوہر اور ہدایت نامہ برائے بیوی جیسے ناصحانہ اشتہار چھپتے تھے جن کے پڑھنے سے بہتوں کا ’’بھلا‘‘ ہو جاتا تھا۔ اس کی طرز پر ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف ہم جیسی پسماندہ قوموں کیلئے ہدایت نامے پہلے ہی سے تیار رکھتے ہوئے حکومتوں کو وہ طریقے بتاتے رہتے ہیں جن سے عوام کی چمڑی فنکارانہ کمال سے اُتارنا ہینگ لگے نہ پھٹکڑی رنگ بھی چوکا آئے کے مصداق انتہائی سہل ہوتا ہے، اس کے بعد ان کی قوت خرید کا حشر کیا ہوتا ہے اس سے ان اداکاروں کو کیا غرض، کہ ان اداروں پر تو اس بچھو کا گمان گزرتا ہے جس کی فطرت میں ڈنک مارنا ہے

نیش عقرب نہ ازرہ کیں است

مقتضائے طبیعتش ایں است

بازار سے گزر کر ہی اندازہ ہوتا ہے کہ عام آدمی کا کیا حال ہے اور آئندہ مہینوں میں مزید کیا ہونے کے امکانات ہیں، ہر طرف آگ لگی ہوئی ہے، جسے دیکھو اشیاء کی قیمت بڑھا رہا ہے، بیانات تو اس نوع کے ہیں کہ قیمتوں میں استرداد کی کیفیت لئے ہوئے ہیں لیکن ہر کوئی یہ بھی جانتا ہے کہ بڑھی ہوئی قیمتوں میں کمی کا ہمارے ہاں کوئی رواج کوئی روایت ہی سرے سے موجود نہیں ہے اور اب تو حالت کے ناگفتہ بہ ہونے کا نیا بیرومیٹر ناکارہ ہیلی کاپٹر، قیمتی گاڑیاں اور بھینسیں تک فروخت کر کے حکومت نے ایجاد کر لیا ہے، اس کے بعد قوت خرید کی غلامی میں جکڑے گئے عام لوگ کونسا حرف شکایت زبان پر لاسکتے ہیں۔ اس صورتحال نے مجھے جس خوف میں مبتلا کر دیا ہے یعنی عام آدمی کی بے بسی کس درجے پر پہنچنے والی ہے بلکہ اسے کسی ٹھکانے پر ٹیکنے کا موقع بھی مل سکے گا یا پھر پاتال کی طرف یہ سفر راستے میں پڑاؤ کیلئے ہی ترس جائے گا۔ موجودہ حالات نے مجھے اپنے قیام کوئٹہ یعنی 1979ء تا1982ء کا دور یاد دلا دیا ہے، اس دوران دو واقعات نے لرزا کر رکھ دیا تھا۔ آج بھی ان واقعات کو یاد کرتا ہوں تو میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، ایک بار گوشت خریدنے بازار آگیا تو چند گاہک بھی موجود تھے، قصائی ہر ایک کو گوشت تول کر اسے صاف کر کے چھیچھڑے ایک ڈبے میں ڈال رہا تھا، اتنے میں ایک بابا آیا اور قصاب سے چھیچھڑوں کا بھاؤ کرنے لگا۔ تب آٹھ آنے کلو پر فیصلہ ہوا، اس نے ایک کلو چھیچھڑے تلوائے، ایک گاہک نے اس سے پوچھا، بابا یہ کتوں کیلئے لے جا رہے ہو؟ بابا کی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے اور کہا، نہیںبیٹا گوشت خریدنے کی طاقت نہیں، یہ چھیچھڑے لے جا کر اس کی یخنی بنا کر گھر والوں کیساتھ سالن کی طرح کھا کر اللہ کا شکر بجا لاتے ہیں کہ بھوکا مرنے نہیں دیتا۔

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

وہ قرض اُتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

اسی طرح مسلسل کئی روز تک برف باری کے بعد شدید سردی سے لوگ کانپ رہے تھے تو لنڈا بازار سے ایک شخص نے بچوں کیلئے سیکنڈ ہینڈ کپڑے خریدے تو وہ بازار کے درمیان کھڑے ہو کر جو کچھ کہہ رہا تھا اسے میں نے ’’کوئٹہ کا لنڈا بازار‘‘ کے عنوان سے نظم کی صورت ڈھالا۔

وہ اک مفلس سا بے بس آدمی

جو اپنے چھ بچوں کو لیکر ساتھ

خاصی دیر سے تھا سرگراں

جب بھی کوئی ’’دانہ‘‘ اُٹھاتا

کوئی بیگم صاحبہ نخوت میں گم

وہ اس کے ہاتھوں سے جھپٹ لیتی

اور اپنے فرضی نوکر کا سہارا لے کے

اپنی زندگی کے ناخدا کے واسطے

اس کو پرکھ کر اک طرف آرام سے رکھتی

بڑی مشکل سے اس مفلس مگر بے بس سے انساںنے

کئے کچھ گرم کپڑے انتخاب

جب اپنے بچوں کیلئے

تو ہاتھ اٹھا کر یوں دعا کی

’’اے مرے پروردگار!

تو کرم کر اپنے ان بندوں پہ

جو مجھ جیسے مفلس آدمی کے واسطے

اپنے گرم کپڑے بھی

اتنے سستے داموں بھیج دیتے ہیں

خدایا!

تو انہیں جنت کی ساری نعمتوں سے بہرہ ورکر دے

اگر یہ نیک دل بندے نہ ہوتے

تو مرے بچوں کا کیا بنتا

ٹھٹھرتی سردیوں کی برف پروردہ

خنک راتوں میں

میرے گھر کا آنگن

سُونا سُونا سا نہ ہو جاتا؟‘‘

آج جب ان واقعات کو 26/25 برس بیت گئے ہیں، سوچتا ہوں کیا اب پوری قوم ایسے ہی حالات سے دوچار ہونے والی ہے جب مہنگائی سے اُگنے والی بھوک ہمارے آنگنوں میں ڈیرے ڈال کر ہمیں تگنی کا ناچ نچائے گی؟۔

متعلقہ خبریں