Daily Mashriq

ریگولیشن میں عوامی مفاد کا بھی تحفظ کیا جائے

ریگولیشن میں عوامی مفاد کا بھی تحفظ کیا جائے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں پرائیویٹ ہائوسنگ سکیم ریگولیشن2019ء کی منظوری میں تمام متعلقہ اداروں پر مشتمل کمیٹی کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد ہائوسنگ سوسائٹیز کی منظوری اور خاص طور پر ہائوسنگ سکیم ریگولیشن کے نفاذ کے بعد صرف پی ڈی اے کو این اوسی جاری کرنے کا مجاز ادارہ بنانے کا فیصلہ ہائوسنگ کے شعبے میں اصلاحات اورقوانین کی پابندی کرانے کیلئے اہم قدم ہوگا۔ہم سمجھتے ہیں کہ شہر میں مختلف اداروںکے یکساں قسم کے اختیارات عدم ارتکاز اختیارات کے ساتھ ساتھ کسی مرکزی اتھارٹی کا نہ ہونا ہر چھوٹے بڑے علاقے اور ناموزوں مقامات پر ہائوسنگ سکیم قائم کر کے لوگوں کودھوکہ دینے خاص طور پر زرعی اراضی پررہائشی سکیم قائم کرنے کی روک تھام کی راہ ہموارہوگی صوبائی دارالحکومت پشاور اور اس کے ارد گرد کا سروے کرنے سے یہ بات سامنے آئے گی کہ صوبائی دارالحکومت میں شہرائو کے تیز رفتار عمل سے فائدہ اٹھا کر ہائوسنگ سکیمز کے نام پر جس طرح لوگوں کو دھوکہ دیا جاتا رہا اس کے باعث مختلف قسم کے ایسے مسائل سامنے آئے جو حکومتی اداروں سمیت ان کا لونیوں کے مکینوں کیلئے بھی سخت مشکلات کا باعث اور لاینحل ثابت ہورہے ہیں۔ہم مثال کے طور پر ایک ایسے ہی ٹائون کا حوالہ دیتے ہیں جس کا افتتاح ایک خودکش حملے میں شہید ہونے والے سینئر صوبائی وزیر بلدیات نے کیا تھا جس کے ماسڑ پالان کی منظوری اور عوام سے اس حوالے سے کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد کا تنازعہ ہنوزلاینحل ہے معاملے کا نیب نے بھی نوٹس لیا گرفتاریاں ہوئیں مگر صورتحال جوں کی توں ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی صورتحال سے بچنے کیلئے محولہ ریگولیشن کڑی شرائط اور ایک خودمختار اتھارٹی کو مجاز بنانے کا عمل خوش آئند ہوگا۔ اس کے باوجود سیاسی دبائو اور حکومتی اراکین کے اثرانداز ہونے کا امکان پوری طرح ختم ہوتا خواب ہی نظر آتا ہے۔ البتہ کھیتوں اور کھلیانوں ،ایسے نامناسب جوہڑ نما جگہوں جن کو ہائوسنگ سکیمز کے خوشنما دعوئوں سے فروخت کر کے عوام کو لوٹنے والوں کا راستہ روکنے کی سبیل نکل آئے گی ہم سمجھتے ہیں کہ اس ریگولیشن میں یہ شرط بھی شامل کی جانی چاہیئے کہ پی ڈی اے کسی ایسی جگہ پر ہائوسنگ سکیم کی منظوری اس وقت تک نہ دے جب تک کسی جو ہڑ نما دلدلی علاقے کو سائنسی طور پر اس قابل نہ بنایا جائے کہ مکانات کی تعمیر کی کھدائی کے دوران پانی نکل آئے اور مکان سیم زدہ ہو کر مخدوش ہونے کا خطرہ ہو صوبائی دارالحکومت کے اطراف میں کھیتوں اور کھلیانوں باغات اور زرعی زمینوں کا تحفظ اس طرح یقینی بنایا جائے کہ کسی کو ان مقامات پر ذاتی پدری ملکیتی قطعہ اراضی پر مکان کی تعمیر کی اجازت نہ ہو ایسا تبھی ممکن ہوگا جب پی ڈی اے ہائوسنگ کے شعبے میں اپنا کھویا اور سخت شکستہ ومجروح وقار بحال کرنے میں کامیاب ہو ۔سالوں سے ریگی للمہ ٹائون شپ کی حالت زار پی ڈی اے کا بعض سیکٹرزکی اراضی کے حصول تک میں ناکامی،بجلی کا ناقص وناکافی انتظام اور ریگی للمہ ٹائون شپ کے مکینوں کو کمرشل نرخوں پر گیس کی فراہمی کا عجیب اقدام بائونڈری وال اور سیکورٹی کے ناقص انتظامات ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی سکول وکالج اور ہسپتالوں کا وجود ہی نہ ہونا ریگی للمہ ٹائون شپ کو سالہاسال بعد بھی کینال روڈ کی بہتر تعمیر اور جمرود روڈ سے ہائوسنگ سکیم کو بذریعہ سڑک نہ ملانا اور یونیورسٹی روڈ سے لنک روڈ کی تعمیر میںناکامی کے علاوہ رینگ روڈ کی عدم تعمیر جیسے معاملات نہ صرف پی ڈی اے پر عوام کا اعتماداٹھ جانے کا باعث ہے بلکہ اس ہائوسنگ سکیم کی بری طرح ناکامی کے بعد پی ڈی اے کی کسی سکیم میں عوام بھی اعتماد سے سرمایہ کاری اور پلاٹ لینے کی طرف متوجہ نہیں ہوتے جہاں ریگولیشنز بنائے جائیں اس کے قوانین صرف سرکاری اداروں ہی کے مفادوموافق نہیں ہونے چاہئیں عوامی مفاد کا تحفظ اور ادارے کے احتساب کا طریقہ کار بھی وضع کیا جائے تاکہ عملی طور پر ان کا اطلاق ہو اور یہ قابل عمل،قابل اعتماد اور قابل قبول بھی گردانے جائیں۔

متعلقہ خبریں