Daily Mashriq

نیب کے پرکاٹ دیئے گئے؟

نیب کے پرکاٹ دیئے گئے؟

نیب کا تاجروں کی آرمی چیف سے شکایات کو بلاجواز قرار دینے کے ساتھ نیب کے کسی افسر کا تاجروں سے رابطہ نہ کرنے پر ٹیکس معاملات میں مداخلت اور بینک ڈیفالٹ کے معاملات نہ دیکھنے کا اعلان اس امر پر دال ہے کہ نیب جیسے خود مختار ادارے کے تاجروں کے حوالے سے پر کاٹ دیئے گئے ہیںحزب اختلاف کے سیاستدانوں کے خلاف کارروائی کے علاوہ نیب پر کٹاہی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ نیب جیسا ادارہ جس کے بارے میں وزیراعظم اور وزراء بار بار ان خیالات کا اظہار کرتے آئے ہیں کہ نیب خود مختار ادارہ ہے اور اس کے معاملات وکارروائیوں میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہم سمجھتے ہیں کہ نیب ایک خود مختار ادارہ ضرور ہے لیکن اس کا استعمال مخصوص عناصر کیلئے جس خودمختارانہ انداز میں ہورہا ہے۔اس کی مثال کانے کی ہے جو اس کے وقاروخودمختاری اور غیر جانبدارانہ کردار پر انگشت نمائی کا باعث بنتا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا نیب کے افسران کی جانب سے اب تک تاجر برادری کے خلاف ماورائے قانون اقدامات کئے جارہے تھے جس کی شکایت کی گئی اور اب چیئرمین نیب نے ان کو روکنے کا عندیہ دیا ہے یا پھر نیب کا عملہ قانون کے مطابق اپنے فرائض سرانجام دے رہا تھا۔ اس کی تحقیقات ہونی چاہیئے اگر کوئی افسر اختیارات کے ناجائز استعمال کا مرتکب پایا گیا تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیئے اور اگر ایسا نہیں تھا تو چیئرمین نیب کی تاجروں کو یقین دہانی کی قانونی حیثیت کیا ہے اور نیب کے افسران اس ہدایت پر کس حد تک عملدرآمد کے پابند ہوں گے۔ہم سمجھتے ہیں کہ نیب کو قانون کے دائرے میں رہ کر اپنا کام جاری رکھنا چاہیئے جہاں تک تاجروں کی طرف سے ہراساں کرنے کی شکایات کا تعلق ہے توان کو سب سے بڑی شکایت ایف بی آر اور اس کے قوانین سے ہیں تاجروں کی شکایات حقیقی اور درست کتنی ہیں اور کس حد تک ان شکایات کا علاوہ ازیں پس منظر ہے اس کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیئے۔اگر ملکی معیشت سدھارنا ہے اور ملکی نظام میں اصلاحات لانا چاہیئے تو پھر ڈاکٹروں ،وکلا،اور صحافیوں سمیت ہر شعبے میں نفاذ قانون کو مستحکم بنانا ہوگا اور ملکی قوانین کو تمام اداروںاور گروہوں پر عملی طور پر لاگو کرنا ہوگا۔

طورخم سرحد پر رشوت وصولی کی باضابطہ شکایت

تاجکستان کے اعزازی قونصل جنرل کی جانب سے سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کوارسال کردہ مراسلہ میںبارڈر مینجمنٹ سٹا ف کی جانب سے پیدا کردہ مسائل کے باعث تجارت میں نمایاں کمی کا انکشاف وزیراعظم کی طرف سے سرحد کھلی رکھ کر تجارت میں اضافہ کی سعی کو ناکام بنانے کی سازش ہے۔مراسلہ کے مطابق تجارتی کنٹینرزسے10روپے سے لیکر15ہزار روپے تک رشوت وصول کی جاتی ہے۔طورخم سرحد کو مسلسل کھلا رکھنے کے اقدام سے دونوں ملکوںکے درمیان تجارت میں اضافہ اورآمدورفت میں اضافے کے باعث جن فوائد وثمرات کی امید تھی وہ خوش فہمی اور اندازوں کی حد تک نہیں بلکہ حقیقت تھی اور ان اہداف کا بآسانی حصول ممکن تھا اس ضمن میں حکومتی سنجیدگی اس حد تک تھی کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے علاوہ صوبائی وزیرخزانہ اور وزراء نے طورخم جاکر معاملات کا موقع پر جائزہ لیا وزیراعظم کی طرف سے باقاعدہ افتتاح سے قبل آزمائشی بنیادوں پرکام کر کے مشکلات اور خامیاں دور کی گئیں جس کے بعد وزیراعظم نے افتتاح کیا اس کے بعد بجائے اس کے کہ مزید بہتری اور سرحدی آمدورفت کو تیز شفاف اور سہل بنانے کے انتظامات کئے جاتے تو ایک دوست ملک کے سفارتکار کو باقاعدہ شکایتی مراسلہ لکھناپڑا جسے غلط قرار دینے کی کوئی وجہ نہیںطورخم سرحد سمیت دیگر سرحدات پر باربرداری کنٹینر ٹرکوں اور دیگر گاڑیوں سے پھل سبزی دیگر اشیاء نکالنے اور رشوت وصولی کی شکایات پہلے بھی تھیں اور اب بھی ہوں گی ان شکایات کا ایک موقع پر وزیراعظم نے بھی نوٹس لیکر اس کے حامل عناصر کو تنبیہہ کی تھی لیکن لگتا ہے کہ اعلیٰ ترین سطح کی ہدایت بھی کام نہ آئی۔توقع کی جانی چاہیئے کہ اس صورتحال کے مکمل تدارک میں لمحہ بھر بھی تاخیر نہیں کی جائے گی۔

خصوصی افراد کی خالی آسامیاں بلا تاخیر پر کی جائیں

خیبرپختونخوا کے اکیس محکموںمیں خصوصی افراد کی ایک ہزار تین سو تراسی آسامیاں جن وجوہات کی بناء پر بھی خالی ہوں متعلقہ محکمے ان کی جو بھی توجیہہ پیش کریں وہ قابل قبول نہیں یہ درست ہے کہ صرف خصوصی افرد کیلئے مختص آسامیاں ہی خالی نہیں بلکہ جسمانی طور پر تندرست افراد کی آسامیاں بھی خالی پڑی ہیں لیکن جیسا کہ جسمانی طور پر تندرست افراد کو خصوصی افراد کا درجہ دیا گیا ہے اسی طرح ان کیلئے مختص اسامیوں کو بھی خصوصی اقدامات کے تحت پر کرنے کی ضرورت ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ معاشرے کے یہ افراد دماغی طور پر اور صلاحیتوں کے لحاظ سے نہ صرف عام افراد کے ہم پلہ ہیں بلکہ ان سے زیادہ ہونے کا عملی مظاہرہ مختلف مواقع پر سامنے آتا ہے خوا ہ کھیلوں کا مقابلہ ہی کیوں نہ ہو۔اس قسم کے افراد زیادہ حساس،محنتی اور کام وفرائض سے لگن رکھنے والے ہوتے ہیں بہرحال ان خصوصیات سے قطع نظر یہ افرادخاص توجہ کے مستحق ہیں ان افراد میں بیروزگاری کی شرح بھی کافی ہے جبکہ یہ اپنی جسمانی معذوری کے باعث ان کیلئے پیشہ وارانہ مواقع بھی قدرے محدود ہوتے ہیں اس طرح کے افراد کا خصوصی کوٹہ بڑھایا جانا چاہیئے کجا کہ ان کی مقررہ آسامیوں پر بھرتی میں تساہل کا مظاہرہ کیا جائے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو اس معاملے کا خصوصی نوٹس لینا چاہیئے اور تمام محکموں کو خصوصی افراد کی خالی آسامیوں کو خصوصی طور پر پر کرنے کے احکامات دینے چاہئیں اس ضمن میں اگر قوانین میں نرمی کی ضرورت پیش آئے تو اس کی بھی وزیراعلیٰ منظوری دیں تاکہ زیادہ سے زیادہ خصوصی افراد کو سہل اور سادہ طریقے سے سرکاری ملازمتیں دی جا سکیں۔

متعلقہ خبریں