Daily Mashriq

دھرنے کا ’’ بینیفیشری‘‘کون ہوگا؟

دھرنے کا ’’ بینیفیشری‘‘کون ہوگا؟

حالات میں جب ہر طرف افراتفری کا عالم ہے جو بھی کچھ دیکھنے اور پڑھنے کو مل رہا ہے وہ تلخی سے بھرپور شکل میں ہے ایسے میں ایک شاگرد کی اپنے مرحوم استاد کے گھر کی جانے والی کال یاد آرہی ہے جب استاد کے مرنے کے دوسرے ہی دن شاگردنے کال کی اوراستاد کی بیوہ نے اسے بتایا کہ اب استاددنیامیں نہیں رہے اورفوت ہوچکے ہیں، تیسرے دن پھر اسی شاگرد کی کال آئی، اسے یہی جواب ملا، چوتھے دن پھراسی کی کال پرگھروالوں کا ماتھا ٹھنکا کہ آخر استاد کے مرنے کا معلوم ہونے کے باوجود یہ لڑکا مان کے کیوں نہیں دے رہا اورروزانہ ٹیلی فون کرکے ایک ہی سوال کیوں کرتا ہے کہ کیا استاد صاحب سے بات ہوسکتی ہے اورگھروالوں کی جانب سے استاد کے مرنے کا سن کر فون کیوں بند کرتا اوردوسرے دن پھر کیوں کال کرتا ہے؟ پانچویں دن جب پھر کال آئی تو خاتون خانہ یعنی نئی نئی بیوہ نے پوچھ ہی لیا کہ جب اس کو بتادیا گیا ہے کہ استاد دنیا میں نہیں رہے تو وہ کیوں کال کرتا ہے تواس کا جواب کچھ یوں تھا۔ "مجھے معلوم ہے کہ وہ اب دنیا میں نہیں رہے لیکن کیا کروں ان کے مرنے کی بات سن کر جو سکون حاصل ہوتا ہے اس کا مزہ کہیں اورکہاں؟ اس لئے کال کرتا ہوں اورجب آپ بتاتے ہیں کہ وہ مرچکے ہیں توبس ان کی زندگی میں ڈھائے جانے والے مظالم کا درد جاتا رہتا ہے"۔ یہی حال ہمارا ہے الیکشن کے دنوں میں ہمیں ناسمجھی اورخواہ مخواہ کی صحافت سے چمٹے رہنے کے طعنے دینے والے تحریک انصاف کے بعض بڑے حامی دوست جب آج کل چائے پینے کے بہانے ہمارے پاس آتے ہیں اورساتھ ہی یہ سوال پوچھتے ہیں حکومت کب جائے گی؟ اورہم معصوم بن کرجب ان سے الٹا سوال پوچھتے ہیںکہ وہ تو خود اس حکومت کو لانے والے تھے وہ اتنی جلدی کیوں نالاں ہوگئے تو ان کا جواب جو ہمیں پہلے سے معلوم ہوتا تھا لیکن ان کی حالت دیکھ کر جو "چس"آتی ہے وہ ان کے ہمیں الیکشن کے دنوں میں ان کا ساتھ نہ دینے کے طعنوں کا واحد ٹھیک جواب ہوتا ہے۔ 

اس کا مطلب یہ بھی تو نہیں کہ ہم تحریک انصاف کی موجودہ حالت سے بہت خوش ہیںبلک ہم تو زیادہ پریشان ہیں کہ یہ حکومت جائے گی تو جو آئے گی اس کی کیا گارنٹی ہے کہ وہ اس سے بہتر ہوگی۔ کیونکہ مسئلہ حکومت کے جانے کا نہیں ہے بلکہ اس اختیاراوراستعداد کا ہے جو حالات کو ٹھیک کرنے کے لئے درکار ہوتی ہے لیکن دستیاب کبھی نہیں ہوتی۔ معیشت اورمعاشرت کو ٹھیک کرنا ان کے بس میں نہیں ہوتا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے پرویز مشرف کا دورتھا میں اسلام آباد میں رہتا تھا ایک دن کسی کام سے پشاورآنا ہوا گاڑی مکینک کے پاس ٹھیک کرنے کے لئے چھوڑکرخود رکشے میں بیٹھ کر گھر کی طرف ہولیا، میرے بیٹھتے ہی رکشہ ڈرائیورنے سوال داغا، یہ پرویزمشرف کی حکومت کب جائے گی؟ مجھے ملکی سیاست کی اتنی نچلی سطح تک جانے پرسخت غصہ آیا کہ ایک رکشہ ڈرائیور کوکیا پڑی ہے کہ چلاتا رکشہ ہے اوربات پرویز مشرف کو ہٹانے کی کرتا ہے۔ میں نے الٹا سوال کیا کہ کیا گارنٹی ہے کہ پرویز مشرف جائے گا تو جو آئے گا وہ اس سے بہتر ہی ہوگا، کیا گارنٹی ہے کہ چیل کے جانے کے بعد کوا نہیں آئے گا، کوئے کے بعد گدھ کی بجائے عقاب یا خرگوش ہی آئے گا؟ مسئلہ وہی پرانا ہے کہ میرے سامنے 12 اکتوبر1999 کو مٹھائیاں بانٹنے والوں نے پرویزمشرف سے اقتدار واپس لینے پر بھی شادیانے بجائے تھے۔اس کی وردی اتری تھی تو انہی لوگوں نے حلوے کی دیگیں پکائی تھیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کے خلاف سڑکوں پرنکلنے والے مولانا فضل الرحمن کو بھی اگر یہ معلوم ہو کہ ان کے دھرنے کی صورت میں اگر عمران خان کی حکومت جاتی ہے اورپھر اقتدار انتخابات کے ذریعے واپس منتخب نمائندوں کونہیں ملتا اوراس پرپھر کوئی مرد حق قابض ہوگیا تو پھر کیا ہوگا؟اس وقت سیاسی جماعتوں میں سے بہت سوں کو ایک ہی خدشہ لاحق ہے کہ اگر مولانا کا سہارا لے کرکسی نے اقتدارپرخود ہی قبضہ کرلیا اوراس جدوجہد میں مولانا فضل الرحمن بھی چندمعتمدین کے ہمراہ مقصد حاصل ہونے کی بجائے جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلے گئے تو پھرکیا ہوگا؟میاں نوازشریف، مریم نواز، آصف علی زرداری، فریال تالپوروغیرہ وغیرہ کو اس سب کچھ کاکیا فائدہ ہوگا؟ خود مولانا اگر ٹریپ ہوکر دھرنے کے دوران یا دھرنے سے پہلے ہی جیل چلے گئے تو پھر کیا ہوگا؟

ایسے بہت سے پھرکیا ہوگا کے سوال ہیں جوبے یقینی کی اس فضا میں چہارسومنڈلا رہے ہیں، جب تک ان پھر کیا ہوگا کے جواب نہیں ملتے تب تک کوئی بھی حتمی قدم اٹھانے میں مولانا کا ساتھ نہیں دے گا اوران کی جانب سے ہررابطے پرکوئی واضح جواب دینے کی بجائے ان کے سامنے اپنی ہی شرائط رکھے گا۔خیبرپختونخوا میں تو حالت ملک بھر سے زیادہ خراب دکھائی دیتی ہے جہاں پر لگتا ہے حکومت باقی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ مشکل میں ہے اس صوبے کی حکومت اور ڈاکٹرز نے حالات کو اس نہج پرپہنچادیا ہے کہ لوگ دونوں سے سخت نالاں ہیں۔ صوبائی حکومت نے جلدی میں قانون کو پاس کرکے جس طرح سے ڈاکٹروں پرتشدد کیا اس کی کوئی ذی ہوش شخص حمایت نہیں کرسکتا اورجب معمولی معمولی مزاحمتوں پر تحریک انصاف اپنے فیصلے بھی واپس لیتی رہی ہوایسے میں اس حکومت سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اپنے ان فیصلوں پرڈٹ کرکھڑی رہے گی ذرا کم عقلمندی ہوگی۔ حکومت کی باتیں لاکھ ٹھیک صحیح لیکن ماضی قریب میں کتنے ایسے فیصلے نافذ ہوتے رہے ہیں جن کے بارے میں یہ یقین ہو کہ وہ ٹھیک تھے۔ایسے میں سوال وہی ہے کہ مولانا کے دھرنے کا بینیفیشری کون ہوگا؟۔

متعلقہ خبریں