Daily Mashriq

عینک لگا کے دیکھئے نمبر بھی گول ہے

عینک لگا کے دیکھئے نمبر بھی گول ہے

پہلے ہی عرض کرچکا تھا کہ رویت ہلال کے حوالے سے یہ جو مرکزی رویت ہلال کمیٹی اور وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کے مابین ’’ مرغی حرام‘‘ والی کیفیت جنم لے چکی ہے اس کے بارے میں جواب الجواب کا انتظار رہے گا اور بالآخر اپنے گزشتہ روز کے بیان میں چوہدری فواد حسین نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی (جسے وہ رویت جلال کمیٹی پہلے ہی قرار دے چکے ہیں) سے ماہ صفر کے چاند کی غلط تاریخ دینے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا ہے کہ اگر دور بین سے چاند دیکھنا غلط ہے تو عینک سے دیکھنا بھی غلط ہے۔ یوں اگر دیکھا جائے تو رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے ماہ صفر کے ہلال کی رویت کو فواد چوہدری نے صفر (زیرو) سے ضرب دے کر اس لطیفے کی یاد دلا دی ہے جب ایک غبی اور نالائق طالب علم نے سکول کے سہ ماہی یا ششماہی امتحان میں دنیا گول ہونے کے ثبوت پر مضمون باندھتے لکھا تھا‘ عینک لگا کے دیکھئے انڈا بھی گول ہے‘ عینک لگا کے دیکھئے روٹی بھی گول ہے‘ عینک لگا کے دیکھئے پہیہ بھی گول ہے وغیرہ وغیرہ‘ یعنی ہر گول چیز کو عینک لگانے سے مشروط کرتے ہوئے آخر میں نتیجہ یہ نکلا کہ اس لئے عینک لگا کے دیکھئے دنیا بھی گول ہے‘ اس پر استاد نے پرچے پر لکھا عینک لگا کے دیکھئے نمبر بھی گول ( صفر یا زیرو) ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئر مین مفتی منیب الرحمن اپنی عینک کے عدسوں سے اس بیان پر کیا رد عمل دیتے ہیں جبکہ فواد چوہدری نے چار روز پہلے ہی پاکستان کے ایک ساحلی علاقے کی تصاویر بھی ٹویٹر اکائونٹ پر شیئر کرکے دعویٰ کیا تھا کہ مفتی صاحب موصوف کو جس روز ماہ صفر کا چاند دکھائی نہیں دیا اسی روز ملک کے ساحلی علاقے میں یہ واضح طور پر دکھائی دیا تھا یوں رویت ہلال کمیٹی کا فیصلہ غلط ہے‘ تاہم یہ جو موصوف نے رویت ہلال کمیٹی سے اس غلط فیصلے پر معافی منگوانے کی بات کی ہے یہ بھی مناسب نہیں ہے کیونکہ سعودی عرب میں جب بھی رویت کے حوالے سے کوئی غلطی ہوجاتی ے تو غلطی کا احساس ہوتے ہی اس کا باقاعدہ اعلان کرکے اس غلطی کی تلافی کردی جاتی ہے اور متعدد بار فرض روزہ چھوٹنے کے بعد عید کے بعد ایک روزہ رکھنے کی تلقین کرکے صورتحال کو کنٹرول کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔ اس لئے امید رکھنی چاہئے کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی ماہ صفر کے اعلان کے حوالے سے اپنے فیصلے سے رجوع کو انا کا مسئلہ نہیں بنائے گی اور تاریخیں درست کرنے کا اعلان کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ مذکورہ کمیٹی کاٹریک ریکارڈ اس حوالے سے انائوں کا اسیر رہا ہے اور کئی بار رمضان اور عید کے چاند کی رویت کے حوالے سے مسجد قاسم علی خان کمیٹی کے درست اعلان کا بعد میں یعنی چودھویں کے چاند کے موقع پر ثبوت مل جانے کے باوجود اپنے غلط فیصلے سے رجوع کو اپنے لئے ’’ شکست‘‘ سمجھتے ہوئے تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوئی۔ بہر حال دیکھتے ہیں کہ اب مفتی منیب الرحمن کی جانب سے فواد چوہدری کے اس بیان پر کیا رد عمل آتا ہے اور ممکن ہے کہ یہ جواب‘ جواب الجواب‘ مزید جواب در جواب کا سلسلہ دراز ہو کر اگلے رمضان تک چلا جائے۔ تب تک آپ محسن نقوی کے اس شعرکالطف اٹھائیں۔

چاند نکلا ہے ترے بعد تو یوں لگتا ہے

میرے آنگن کا پتہ بھول گیا ہو جیسے

جیسے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور وزارت مذہبی امور کا ذیلی ادارہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی ایک پیج پر نہیں ہیں اسی طرح لگتا ہے کہ کرپشن کے حوالے سے بھی حکومتی حلقوں میں بعد المشرقین والی کیفیت پائی جاتی ہے۔ سینئر صوبائی وزیر خیبر پختونخوا عاطف خان نے گزشتہ روز ایک بیان میں حکومتی موقف کو ایک بار پھر دہراتے ہوئے کہا ہے کہ لوٹی ہوئی دولت ہر صورت واپس لائیں گے‘ یہ گویا ایک وفاقی وزیر کے اس بیان کا تسلسل ہے جس میں موصوف نے بلند بانگ دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان آئے گاتو اگلے ہی روز اربوں ڈالر واپس لائے گا۔ اس میں سے کچھ آئی ایم ایف کے منہ پر دے مارے گا‘ وغیرہ وغیرہ۔ اب اسی بیانئے کو عاطف خان نے بھی آگے بڑھانے کی کوشش کرکے عوام کو امید دلا دی ہے کہ فکر نہ کرو‘ لوٹی ہوئی دولت بس آئی کہ آئی‘ مگر چیئر مین ایف بی آر شبر زیدی نے جو کچھ کہا ہے امید ہے کہ کرپشن کے ذریعے مبینہ لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے دعوے کرنے والے اس تازہ بیان پر بھی غور کرنے کی زحمت ضرور کریں گے۔ شبر زیدی نے کہا ہے کہ بیرون ملک سے سرمایہ واپس لانے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ پیسہ اب بھی جا رہا ہے جبکہ کرپشن کا پیسہ پندرہ سے بیس فیصد ہے۔ یوں دیکھا جائے تو چیئر مین ایف بی آر نے سارا بیانیہ ہی الٹ دیا ہے اور غور سے دیکھیں تو ’’ مبینہ کرپشن‘‘ کی بنیاد پر کھڑی دیوار دراصل ریت کا محل ہے یا پھر اسے آپ رائی کا پہاڑ بھی کہہ سکتے ہیں‘ ویسے بھی جن پر کرپشن کے الزامات لگائے جا رہے ہیں وہ ٹس سے مس نہیں ہو رہے ہیں۔ وہ جیلوں کے عادی ہوچکے ہیں اور اب انہیں مزید پس زنداں رکھنے سے ‘‘گوہر مقصود‘‘ تو حاصل نہیں ہوسکتا‘ اب یہی دیکھ لیں وہ جو تازہ تازہ گرفتار بلا ایک شخص کے گھر اور لاکروں سے بیش بہا خزانے دریافت ہوئے ہیں اس نے بھی پینترا بدل کر کہہ دیا ہے کہ جو کچھ برآمد ہوا ہے اس کی ملکیت کسی اور کی ہے یعنی وہ آٹھ بھائی ہیں سب مشترکہ خاندانی نظام میں رہتے ہیں‘ گاڑیاں بھی میری نہیں‘ در اصل موصوف کو پتہ ہے کہ جو کچھ برآمد ہوا ہے وہ تو جائے گا ہی تو کیوں نہ ملکیت سے انکار کرکے رہائی کی سبیل کی جائے اور باہر آگیا تو ضبط شدہ مال بھی کسی نہ کسی طرح (عدالتی جنگ) سے حاصل کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے‘ یعنی بقول یاس یگانہ چنگیزی

صلح کرلو یگانہؔ غالبؔ سے

وہ بھی استاد تم بھی اک استاد

متعلقہ خبریں