Daily Mashriq

بازخوانیٔ قصۂ پارینہ

بازخوانیٔ قصۂ پارینہ

میرے ایک یار ہیں،قلندر ہیں،کبھی میرے اور اُن کے درمیان بڑے رازونیاز تھے،خاندانی تعلقات کے علاوہ ایک لحاظ سے چند دن کی ٹیوشن پڑھانے کے واسطے سے شاگردوں میں شمارہیں، ایک ہی سکول، گائوں اور کھیت کھلیان سے تعلق رکھنے کے سبب بڑے اچھے دوست تھے۔ مجھ سے ایک دو برس چھوٹے تھے ،لیکن بس ہم عمر ہی سمجھئے۔اسلئے پرائمری وہائی سکول بھی مشترک اور اس رشتے سے گویا،

ما و مجنون ہم سبق بودیم در دیوان عشق

او بہ صحرا رفت وما بہ کوچہ ہا رسوا شدیم

اس شعر کی ایک اور شکل شاید اس سے زیادہ میرے اُن کے تعلقات پر بہتر فٹ آتی ہے۔ماوجنون ہم سفر بودیم دردشت جنون ۔ اوبہ مطلب ہارسید وماہنوز آوارہ یم لیکن حقیقتاً میں صحرائے حجاز کی طرف نکل کر وہاں عشرہ کاملہ صحرا نوردی میں مشغول رہا اور میرے یار جامعہ گومل میں علم صحافت کے حصول میں سرگرداں رہے۔ایم اے جرنلزم کرنے کے بعد میرا خیال تھا کہ وہ اپنے خاندانی بزرگ ماسٹر خان گل مرحوم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عملی صحافت میں نام پیدا کریں گے لیکن شاید کچھ مالی مشکلات اور گھریلو حالات کے پیش نظر محکمہ اطلاعات خیبر پختونخوا میں پبلک ریلیشن آفیسر کے عہدے پر فائز ہوگئے۔ ہم یار دوستوں نے اس پر خوشی واطمینان کا اظہار کیا کہ چلو اپنی خداداد علمی وصحافتی وراثت کے بل بوتے پر اپنے خاندان اور علاقے میٹھا خیل، کرک کا نام اپنے بے مثال بزرگ ماسٹر خان گل کی طرح ’’خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر‘‘ کے مصداق تازہ کریں گے،لیکن شومئی قسمت کہ بس عین عالم شباب میں اپنے وسیع مطالعہ ،خاندانی اور آبائی ثقیل وراثت کے بوجھ تلے معاملات زندگی کو سامنے سے لینے کی بجائے قلندری کے انداز میں نمٹانے میں مشغول رہے اور یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ قلندری میں تو بعض مراحل ایسے بھی آتے ہیں کہ جان ومال سے ہاتھ دھونے ہی پڑتے ہیں۔ اسی قلندری کے زمانے میں وہ ہم سے بدگمان بھی رہے اور کنارہ کش بھی۔لیکن ہمیں اس کے باوجود اُس کے ذوق مطالعہ کا اعتراف ہے۔لیکن کاش کہ وہ اس قدر وسیع مطالعہ کو ہضم کرتے، اللہ نے کمال حافظہ عطا فرمایا ہے۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ کسی بھی محفل میں بزم آرائی کا موقع ملے تو بلامبالغہ ایک ہی نشست میں بیسیوں اشعار اور تاریخی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے گھنٹوں میر محفل کی کرسی پر براجمان رہ سکتے ہیں۔میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر ایسے گوہر کمیاب کی صحیح طور پر بروقت خراش تراش ہوجاتی اور عالم شباب میں اُسے رہنمائی وتربیت کیلئے کوئی اچھا استاد ومربی میسر آتا۔تو اُسے شبانی سے کلیم بننے میں زیادہ دیر نہ لگتی۔ پچھلے دنوں اُنہوں نے مجھے ایک دستی خط کے ذریعے اپنے خط میں لکھا ہوا بہت قیمتی مواد بھیجا۔یہ تحریری مواد خیبر پختونخوا کی عملی،سیاسی اور صحافتی بزرگ شخصیت ماسٹر خان گل مرحوم کے بارے میں تھا۔پاکستان اور بالخصوص پختون کا یہ عجیب مزاج ہے کہ ہم اپنے بزرگوں، ہیروز اورابطال کا تسلسل وتربیت کیساتھ ذکر اُس طرح نہیں کرتے جس طرح اُس کا تقاضا ہوتا ہے۔ پختونخوا کے وہ بزرگ جن کی عمریں ستر اسی برس کی ہیں اور سیاست وصحافت پر نظر رکھتے ہیں وہ تو ضرورماسٹر خان گل مرحوم کی شخصیت، سیاست اور صحافتی کردار سے واقف ہیں لیکن نئی جنریشن کے بہت کم لوگ شاید اس عظیم شخصیت کے کردار کی شناسائی رکھتے ہوں، غازی قلندر نے اپنی قلندرانہ شان کیساتھ اس خط میں ماسٹر صاحب کے بارے میں جو معلومات بہم پہنچائی ہیں،اُس کا احاطہ اس تنگ دامن کالم میں ممکن نہیں لہٰذا اُس کی تفصیل کیلئے روزنامہ مشرق کے میگزین کا سہارا لیں گے۔ لیکن یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ آج کی نوجوان نسلوں کو اپنی تاریخ اور بزرگ شخصیات کی زندگیوں اور کارناموں سے باخبر رکھنے کیلئے اخبارات اوررسائل وجرائد میں ان کا ذکر کرنا ناگزیر ہے۔باب العلم حضرت علیؓ کا کمال فرمان مبارک ہے کہ ’’اگر چیزیں دہرائی نہ جائیں تو وہ بھلا دی جاتی ہیں‘‘۔ غازی قلندر (پی آر او، محکمہ اطلاعات پختونخوا) نے اس تحریک کی پیشانی پر اپنے موصوف بزرگ کے حوالے سے بہت برجستہ یہ مصرعہ تحریر کیا ہے

’’رفتید ولے نہ از دل ما‘‘

ابو الفیض فیضی دکنی کا یہ شعر واقعی ہمیں اپنے بزرگوں کے حوالے سے دہراتے ہی رہنا چاہئے تاکہ وہ ہمیں یاد رہیں اور ہم اُن کی تگ ودوہائے زندگی نیا جذبہ لیتے رہیں۔

اے ہم نفسان محفل ما

رفتید ولے نہ از دل ما

یہی بات کسی نامعلوم شاعر نے بانداز دگر کہی ہے

گاہے گاہے بازخواں ایں دفترِ پارینہ را

تازہ خواہی داشتن گر داغ ہائے سینہ را

ماسٹر خان گل مرحوم کی حیات و وفات پر پاکستان اور پختونخوا کے لکھاریوں، صحافیوں اور شعراء نے نذرانہ عقیدت نثر ونظم دونوں میں پیش کیا ہے۔

(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں