Daily Mashriq

قائمہ کمیٹی کی پیمرا کو نجی چیننلز کے افعال منظم بنانے کی ہدایت

قائمہ کمیٹی کی پیمرا کو نجی چیننلز کے افعال منظم بنانے کی ہدایت

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) پر پابندی اور سینسرشپ اور مجوزہ میڈیا ٹریبونل کے بارے میں بات چیت کی۔

کمیٹی نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ایک ٹھوس پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے پیمرا نجی ٹی وی چیننلز پر موثر کنٹرول نہیں رکھ سکتا۔

اجلاس میں چیئرمین پیمرا سلیم بیگ نے کمیٹی کو بتایا کہ کوئی بھی کارروائی یکطرفہ طور پر نہیں کی جاری بلکہ شکایتی کونسل کی جانب سے درج کروائی گئی رپورٹ پر ایکشن لیا جاتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ گزشتہ 6 ماہ کے عرصے میں مختلف خلاف ورزیوں پر متعدد نجی ٹی وی چیننلز پر ڈیڑھ کروڑ روپے تک کا جرمانہ کیا گیا جس میں سے صرف 10 لاکھ روپے کی رقم موصول ہوئی جبکہ باقی چیننلز نے عدالتوں میں مقدمہ دائر کر کے حکم امتناع لے لیا۔

جس پر کمیٹی نے پیمرا کو ہدایت کی کہ نجی میڈیا چیننلز کے نظام کو منظم بنانے کے لیے موجودہ قوانین میں خلا کر پر کرنے کے لیے تجاویز پیش کی جائیں۔

اس کے ساتھ کمیٹی نے متعلقہ وزارت کو بھی ہدایت کی کہ میڈیا کارکنان کی نوکریوں کو تحفظ دینے کے لیے موثر قانون سازی کی جائے۔

اجلاس میں کمیٹی کے اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے اراکین نے ’میڈیا ٹریبونلز‘ کی تجویز پر سخت تنقید کی۔

اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کی رکن مریم اورنگزیب نے کہا کہ کمیٹی اراکین میڈیا ٹریبونلز کے قیام کے حق میں نہیں اور یہ کمیٹی کی ذمہ داری ہے کہ صحافیوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔

اس کے ساتھ انہوں نے سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے اعلان کردہ اصلاحات پر بریفنگ کا مطالبہ کیا جس پر حکام آئندہ اجلاس میں اس حوالے سے ان کیمرہ بریفنگ دینے پر رضامند ہوگئے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رکن ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کمیٹی کے زیِر حراست اراکین آصف علی زرداری اور خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر کو ایون کمیٹیوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

متعلقہ خبریں