Daily Mashriq

خیبرپختونخوا: طالبات میں برقعے کی تقسیم پر سوشل میڈیا صارفین برہم

خیبرپختونخوا: طالبات میں برقعے کی تقسیم پر سوشل میڈیا صارفین برہم

پشاور: خیبرپختونخوا میں مقامی حکام کی جانب سے اسکول کی طالبات کو برقعے تقسیم کرنے کی تصاویر وائرل ہونے کے بعد سماجی روابط کی ویب سائٹس پر ملک بھر سے برہمی کا اظہار کیا گیا۔

خیال رہے کہ چینہ نامی گاؤں کے سرکاری اسکول میں ضلعی کونسلر نے بلدیاتی فنڈ سے 90 ہزار روپے خرچ کر کے 90 طالبات میں برقعے تقسیم کیے تھے۔

مقامی عہدیدار مظفر شاہ نے بتایا کہ اپنے عہدے کی 4 سالہ مدت کے اختتامی اقدام کے طور پر انہوں نے یہ برقعے والدین کی درخواست پر خریدے جو خود خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’90 فیصد طالبات پہلے ہی برقع اوڑھتی ہیں لہٰذا میں نے سوچا کہ غریب لڑکیوں کو بھی نئے برقعے دینے چاہیئں‘۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس سے پہلے انہوں نے یہ فنڈز اسکول کے لیے شمسی توانائی کے پینلز خریدنے، بیت الخلا کی تعمیر اور نیا فرنیچر خریدنے میں خرچ کیے تھے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی 2 تصاویر نے برہمی کی لہر دوڑا دی جس میں سے ایک میں برقعوں کا ڈھیر رکھا ہوا جبکہ دوسری تصویر میں طالبات برقعے اوڑھی ہوئی تھیں۔

ایک ٹوئٹر صارف فاطمہ علی نے کہا کہ ’تعلیمی میعار بہتر بنانے، ہراساں کرنے، بدسلوکی اور ریپ کرنے والوں کے خلاف سخت قوانین کے نفاذ کے بجائے برقعے خرید لیے گئے‘۔

اس کے علاوہ حال ہی میں ملک چھوڑ کر امریکا جانے والے خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکن گلالئی اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ ’مجھے یہ تبدیلی دیکھ کر خوشی ہوئی کہ لوگ خواتین کو کوئی شے سمجھنے کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں‘۔

اس حوالے سے مظفر شاہ کا کہنا تھا کہ ’مجھ پر ہونے والی تنقید سمجھ سے باہر ہے مقامی افراد مجھ سے بہت خوش ہیں، اگر میں لڑکیوں میں جینز تقسیم کرتا تو میڈیا اور لبرلز میری تعریف کرتے‘۔

اس ضمن میں صوبائی وزیر تعلیم ضیا اللہ بنگش نے بتایا کہ معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے اس کے علاوہ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ برقع اسکول یونیفارم کا حصہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسکول یونیفارم میں سفید شلوار اور نیلی قمیض شامل ہے اور یہ طالبات پر منحصر ہے کہ وہ برقع اوڑھنا چاہتی ہیں یا نہیں ہم انہیں مجبور نہیں کرسکتے۔

خیال رہے کہ برقع تقسیم کرنے سے 2 ہفتے قبل حکومت طالبات کے لیےجاری کردہ ایسے ہی ایک حکم نامے کو منسوخ کرنے پر مجبور ہوگئی تھی جس میں طالبات کو لازمی برقع اوڑھنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

خیال رہے کہ قدامت پسند پشتون علاقوں میں برقع اوڑھنے کی روایت صدیوں سے موجود ہے اور یہ بین الاقوامی توجہ کا مرکز اس وقت بنا جب طالبان نے برقع نہ اوڑھنے پر خواتین کو سزائیں دیں۔

متعلقہ خبریں