Daily Mashriq


مسئلہ کشمیر کو چھیڑے بغیر مذاکرات!

مسئلہ کشمیر کو چھیڑے بغیر مذاکرات!

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت اور فوج دونوں ہی خطے میں امن کے لیے انڈیا سے بات چیت کے خواہشمند ہیں ۔عمران خان کی جانب سے دہلی کو اس کے کئی اشارے بھی دیے جا چکے ہیں لیکن ابھی تک ان کا مثبت جواب نہیں ملا۔عمران خان نے وزیراعظم بنتے ہی انڈین کھلاڑیوں کو دعوت دی۔ انہوں نے اپنی پہلی تقریر میں کہا کہ دہلی ایک قدم بڑھائے تو ہم دو بڑھائیں گے۔ انہوں نے بھارت کے وزیراعظم سے بات چیت بھی کی۔تاہم انڈیا کا مسئلہ یہ ہے کہ نریندر مودی نے جس طرح پاکستان مخالفت پر اپنی الیکشن مہم چلائی ہے اب بی جے پی آنے والے اس سوچ میں پھنسی ہوئی ہے کہ کہیں پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے سے اس کے ووٹرز پر کوئی فرق نہ پڑ جائے۔اس سوال کے جواب میں کہ پی ٹی آئی کی انڈیا پالیسی گزشتہ حکومت سے کس طرح مختلف ہے، فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اس میں سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ اس میں تمام ادارے ایک صفحے اور ایک سوچ پر جمع ہیں اور یہ نوازشریف کی طرح عمران خان کی خارجہ پالیسی نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہے۔ماضی میں امریکہ اور مغرب کو یہ شکایت تھی کہ سیاسی قیادت ایک بات کرتی ہے اور عسکری قیادت دوسری۔ لیکن اب یہ شکایت دور ہو گئی ہے۔ ہم اداروں کے ساتھ ہیں اور ادارے ہمارے ساتھ ہیں۔ اگرچہ اس امر کا عندیہ مل رہا تھا کہ پاکستان کی نئی قیادت فوج کے ساتھ مل کر بھارت سے معاملت کرنے کی سعی میں ہے اس ضمن میں اشارے بھی مل رہے تھے خود وزیر اعظم عمران خان کا لب و لہجہ بھارت سے تعلقات کے حوالے سے وہ نہیں رہا بلکہ وزیر اعظم بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کے خواہاں دکھائی دئیے۔ ان معاملات پر مہر تصدیق ثبت وزیر اطلاعات نے بی بی سی کو انٹرویو دے کر کی ہے۔ وزیر اطلاعات کا سیاسی اور عسکری قیادت کے عملی طور پر ایک صفحے پر ہونے کے دعوے کی بھی تصدیق کی ضرورت نہیں اس کاواضح اظہار سب کے سامنے ہے۔ ان تمام حالات اور بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت کو تسلیم کئے جانے کے باوجود سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کن معاملات پر بھارت سے بات چیت کرے گا۔ جب بھی پاک بھارت مذاکرات کی بات آتی ہے کشمیر کا مسئلہ سب سے پیچیدہ اور سب سے مشکل بلکہ نا ممکن کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اس مسئلے پر بھارت نہ تو اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد کو تیار ہے اور نہ ہی پاکستان کے ساتھ اس ضمن میں کسی معاملت کا خواہاں ہے۔ ایسا کرنا تو کجا بھارت کشمیر کے مسئلے پر بات کرنے کو تیار نہیں کجا کہ اس پر مذاکرات کئے جائیں۔ صرف یہی نہیں بھارت کے ساتھ سر کریک سیاچن جوناگڑھ اور اس جیسے کئی دیگر معاملات پر بھی بات چیت کی ضرورت ہے۔ لیکن کیا بھارت ان معاملات پر مذاکرات کے لئے تیار ہوگا ہر گز نہیں بلکہ بھارت تو ان معاملات کو مستقل طور پر ایک طرف رکھ کر سطحی معاملات پر بات چیت کا خواہاں ہے گو کہ حکومتی ترجمان سے بی بی سی نے ان معاملات پر سوال کیا اور نہ ہی انہوں نے ان پیچیدہ مسائل بارے کوئی تبصرہ کیا بلکہ انہوں نے ملکی خارجہ پالیسی کو الٹا سابق وزیر اعظم کی ذاتی پالیسی قرار دیا جو مبنی بر حقیقت نہیں۔ اس ملک کا کوئی بھی وزیر اعظم اتنا طاقتور اور با اختیار نہیں آیا کہ وہ ملک کی خارجہ پالیسی سیاسی حکومت کی بصیرت کی روشنی میں ترتیب دے۔ بھارت سے مذاکرات کی نواز شریف نے ذاتی اور حکومتی سطح پر بڑی کوششیں کیں جس پر آج کے مذاکرات کے خواہاں افراد ہی نے ان کو ’’مودی کے یار‘‘ کا خطاب دیا اور آج خود انہی کی جانب سے فوج کی مشاورت اور مرضی سے بھارت سے مذاکرات کی یکطرفہ خواہش کا اظہار سامنے آیا ہے۔ کشمیر کے مسئلے کو ایک طرف رکھ کر نواز شریف اگر بھارت سے مذاکرات کے خواہاں تھے تو آج کی حکومت کی بھی یہی ترجیح نظر آتی ہے۔ اگر ایسا نہیں اور حقیقی معنوں میں تمام اہم متنازعہ امور پر بات چیت ہوتی ہے تب ہی اس امر کی توقع کی جاسکے گی کہ بھارت سے تعلقات کی بہتری کے لئے حقیقت پسندانہ بنیادوں پر مذاکرات ہوں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ پاک بھارت مخاصمت کی بنیاد ہے جس کے بارے میں سیاسی حکومتیں تو مصلحت کاشکار ہوسکتی ہیں مگر فوجی قیادت کے لئے ایسا کرنا ممکن نہ ہوگا۔ اس کے باوجود کہ یہ مصلحت کا تقاضا ہی کیوں نہ قرار دیا جائے مگر کشمیر کے مسئلے کو چھیڑے بغیر بھارت سے مثبت مفید اور پائیداد تعلقات کا قیام ممکن نہیں۔ بہر حال دیکھنا یہ ہوگا کہ الگ الگ صفحات پر موجود قیادت کے برعکس عملی اور حقیقی طور پر ایک صفحے پر موجود قیادت ایسی کیا حکمت عملی اختیار کرے گی کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے والا معاملہ ہو۔ بھارت سے اچھے ہمسایوں جیسے تعلقات اور تنازعات کا بات چیت کے ذریعے منصفانہ حل اور کچھ لو کچھ دو کی پالیسی اختیار کرنے کی مخالفت نہیں کی جاسکتی اور مسئلے کا پائیدار حل بھی اسی طرح ممکن ہے۔ ماضی میں بھارت سے ہونے والے مذاکرات کا حشر کسی سے پوشیدہ نہیں‘ بھارت سے سنجیدہ معاملات کو ایک طرف رکھتے ہوئے سطحی قسم کے معاملات کو آگے بڑھا کر مذاکرات کے تجربات ماضی میں بھی کئے جا چکے ہیں۔ اس قسم کے مذاکرات لا حاصل ہی رہے۔ تنازعات جب تک جوں کے توں رکھے جائیں اور پائیدار مستقل حل کی طرف ان کے بغیر بڑھنے کا عمل کیا جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ پاک بھارت مذاکرات کی اب تک افادیت بہر حال یہ ضرورت سامنے آئی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سخت قسم کی کشیدگی نہیں پائی جاتی اور سرحدوں پر کبھی کبھار ہی معمول کی فائرنگ کا تبادلہ ہوتا ہے باقی معاملات پہلے بھی جوں کے توں پڑے تھے اب بھی کسی واضح بریک تھرو کی توقع نہیں۔

متعلقہ خبریں