وزیر اعظم کا پرائی جنگ نہ لڑنے کاواضح اعلان

08 ستمبر 2018

جنرل ہیڈ کوارٹر(جی ایچ کیو)میں یوم دفاع و شہدا کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے بڑے واضح طور پر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان مستقبل میں کسی اور کی جنگ میں شریک نہیں ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان کی تقریر سے قبل یوم دفاع کی مرکزی تقریب سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے دوسرے دشمن بھوک افلاس غربت ہیں جس کے خلاف جنگ کو بھی ہمیں جاری رکھنا ہے۔یوم شہداء کی تقریب سے وزیر اعظم اور آرمی چیف نے دو باتیں بڑی واضح طور پر کیں۔ وزیر اعظم کی جانب سے ملک کی سول اور فوجی قیادت کی موجودگی میں آئندہ کسی کی جنگ میں شریک نہ ہونے کا اعلان جہاں ایک واضح پالیسی بیان ہے وہاں اس کا مخاطب وہ ملک یا ممالک بھی ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کسی نہ کسی صورت ایسے بین الاقوامی معاملات میں بہ امر مجبوری ملوث رہا ہے جس سے ملک کی خارجہ پالیسی ہی نہیں بلکہ ہماری داخلی صورتحال بھی متاثر رہتی ہے۔ شاید یہ اس وقت کے حالات کا جبر اور مجبوری تھی اور پاکستان کو ان معاملات میں ملوث ہوئے بغیر رہنا ممکن نہ تھا لیکن اس کی جو بھاری قیمت پاکستان کو چکانا پڑی اس سے بھی انکار ممکن نہیں ۔اس لحاظ سے پاکستان کو دو مرتبہ عالمی طاقتوں کے ہاتھوں بقاء کی جنگ لڑنی پڑی۔ صرف یہ نہیں بلکہ اس وقت بھی ہماری فوجیں ایک دوست ملک میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ بہر حال جس طرح ہم سوویت یونین اورامریکہ کی افغانستان میں مداخلت کے حالات سے نکلے اس طرح توقع کی جانی چاہئے کہ سعودی عرب بھی بہت جلد اپنی بقاء کی جنگ خود لڑنے کے قابل ہوگا۔ بہر حال چونکہ سعودی عرب ہمارا برادر اسلامی ملک ہے اوراس سے ہماری دوستی ہی نہیں عقیدت اور عقیدے کا بھی رشتہ ہے اس لئے سعودی فوج کی تربیت اور وہاں خدمات کی انجام دہی ہمارے لئے سعادت ہے بار نہیں۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ پاک فوج اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ اب موجودہ حکومت کے شانہ بشانہ بھوک افلاس اور غربت کے خلاف بھی سینہ سپر ہونے کو تیار ہے۔ اگرچہ پاک فوج کی ہر مشکل وقت میں حکومت اور عوام کی مدد کوئی نئی بات نہیں لیکن اس موقع پر آرمی چیف کا خاص طور پر اس امر کا عندیہ اس جدوجہد میں حکومت سے یکجہتی کا مظاہرہ کرنا اور ان دشمنوں کا بھی مقابلہ کرنے کی ضرورت و اہمیت کا عملی احساس دلانا تھا۔ وزیر اعظم کے واضح اعلان کا ملکی خارجہ پالیسی کے ناقدین کی طرف سے بھی خیر مقدم کرنا فطری امر ہے جس سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وطن عزیز کی واضح اور غیر جانبدارانہ پالیسی کی تشکیل میں اب مزید تاخیر نہیں ہوگی اور ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرنے کی بھی سعی ہوگی۔

توقعات سے بڑھ کر امید نہ دلائی جائے

جعلی اکائونٹس کیس اور ملک کی لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کے حوالے سے آئے روز جو نت نئی امیدیں قوم کو دلائی جا رہی ہیں یہ حددرجہ خوش آئند ضرور ہیں لیکن عملی طور پر ایسا ممکن بنانا بہت دشوار امرہوگا۔پاکستان کی نو منتخب حکومت نے غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک منتقل کیا جانے والا سرمایہ واپس لانے کے لیے ایک ٹاسک فورس قائم کی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سرمائے کی یہ واپسی اتنی آسان ہے؟معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں کئی رکاوٹیں اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔تمام تر خدشات کے باوجود مجموعی طور پر مثبت پیش رفت ہے۔اس ضمن میں قانونی پیچیدگیاں راہ کی رکاوٹ ہوں گی جس میں غیر قانونی اثاثے یہ ثابت کرنا ہے کہ یہ صحیح طریقوں سے نہیں بنائے گئے بلکہ ٹیکس چوری، منی لانڈرنگ یا کرپشن سے بنائے گئے ہیں، اس کے بعد ان الزامات کو اپنی عدالتوں میں ثابت کرنا ہو گا وہ ثابت ہو جائیں اور عدالتوں کے فیصلے ہوں تو پھر حکومت کے ہاتھ مضبوط ہو جائیں گے اور وہ تقاضا کر سکتی ہے۔چونکہ ہم بہت جذباتی قوم ہیں اور توقعات کے خواب بکھرنے کو برداشت کرنا ہمارے لئے مشکل ہوگا اس لئے اس ضمن میں میڈیا اور حکمرانوں دونوں کو ایسے خواب دکھانے سے گریز کرنا چاہئے جس کی تعبیر یقینی نہ ہو۔ قومی اثاثے لوٹنے والے کسی رو رعایت کے مستحق نہیں لیکن ایسا اس وقت ہی قرار دیا جاسکتا ہے جب ایسا ہونا فطری طور پر ثابت ہوجائے جس کے بعد ہی اس کی واپسی کا مرحلہ آئے گا جو پہلے مرحلے سے بھی زیادہ دشوار ہوگا۔

مزیدخبریں