Daily Mashriq


’’عزت کرو عزت کروائو‘‘

’’عزت کرو عزت کروائو‘‘

پاک امریکہ تعلقات کاماضی کا فارمولہ’’ اُجرت دو خدمت لو‘‘ تھا جب امریکی پاکستان کی امداد بڑھاتے اور پاکستان تھینک یو امریکہ کا کتبہ اونٹوں کے گلے میں لٹکا کر شکرگزاری کا مظاہرہ کرتا۔دونوں کے تعلقات پر دہائیوں تک اسی اصول اور فارمولے کے سائے منڈلاتے رہے ۔ وقت کچھ ایسا بدل گیا کہ اب نہ امریکہ پاکستان کو اجرت دینے پر تیار ہے اور نہ پاکستان اُجرت لینے اور اس کے بدلے ہر حکم بجا لانے پر آمادہ ہے ۔قوموں کی زندگی میں شاخِ شجر کی طرح لچک اور جھکائو کی ایک حد ہوتی ہے اور یہ حد پار ہوجائے تو شاخ ٹوٹ جاتی ہے ۔شاید امریکی دبائو اور پاکستان کی لچک اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ جہاں اسے کچھ تلخ فیصلے کرنا تھے اور پاکستان بھی وہ فیصلے کرچکا ہے ۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو پاکستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد دورہ کرنے والے دوسرے غیر ملکی نمائندے ہیں۔اس سے پہلے ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف پاکستان کا دورہ کرچکے تھے۔ مائیک پومپیو نئے پاکستان میں تانک جھانک کرنے اور عمران خان کو امریکی مطالبات اور ترجیحات سے آگاہ کرنے آئے تھے ۔وہ پاکستانی حکومت کا موڈ دیکھنا بھی چاہتے تھے ۔وہ یہ اندازہ بھی کرنا چاہتے تھے کہ امریکی خواہشات کے علی الرغم پاکستان میں آنے والی تبدیلی کس رخ جا رہی ہے ؟۔مائیک پومپیو کو شاید حالات کا اچھی طرح انداز ہ ہوگیا کہ پاکستان اب بدلا ہوا ہے ۔ڈومور کی مسلسل گردان نے پاکستانیوں کو حالات سے بے پروا کیا ہے۔مائیک پومپیو کا استقبال نورخان ائیر بیس پروزارت خارجہ کے ایک افسر نے کیا ۔پاک امریکہ تعلقات کی روایت کے مطابق یہاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو موجود ہونا چاہئے تھا ۔شاہ محمود قریشی کی عدم موجودگی نے مائیک پومپیو کو کچھ نہ کہتے ہوئے بہت کچھ سمجھا دیا ہوگا۔ان کی پہلی ملاقات دووفود کی سطح پر ہوئی جہاں ایک طرف مائیک پومپیو اور ان کے ساتھی تھے تو سامنے شاہ محمود قریشی اور ان کے ساتھی ۔ان کی ایک اہم ملاقات وزیر اعظم عمران خان سے ہوئی اور اس موقع پر وزارت خارجہ کے اہلکار اور فوجی قیادت موجود تھی۔مہمان اپنی نشستوں پر براجمان تھے او ر وزیر اعظم عمران خان کمال بے نیازی سے ہال میں داخل ہوئے اور مائیک پومپیو سے ہاتھ ملا کر بیٹھنے لگے تو جنرل قمر جاوید باجوہ نے انہیں امریکی جنرل جوزف ڈنفرنڈ کی طرف متوجہ کیا اور یوں انہوںنے وفد کے دوسرے ارکان سے بھی مصافحہ کیا ۔عمران خان کرسی ٔ صدارت پر اپنی سناتے اور ان کی سنتے رہے ۔یہ بھی ایک بدلی ہوئی فضاء کا اشارہ تھا ۔ماضی میں امریکی خود تو امریکی ریاست کے نمائندوں کے طور پر پاکستان آتے اور امریکی ریاست کا پیغام دے جاتے مگر پاکستان میں وہ فوجی اور سویلین حکام سے الگ الگ ملاقاتیں کرتے اوراس الگ الگ کانا پھونسی سے بہت سے ابہامات پیدا ہوتے ۔سویلین حکام سرگوشیوں میں اپنی بے بسی کا اظہار بھی کرجاتے اور جواباََ امریکی ان کے کان میں ’’قدم بڑھا ئو ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘ کا منتر پھونک جاتے ۔اسی ہلہ شیری کے باعث قدم بڑھانے والے اس سوز وساز کے ساتھ قدم بڑھاتے چلے جاتے کہ کسی بند گلی اور جادو نگری میں پہنچ جاتے ۔مشترکہ ملاقات نے اس روایت کو بدل دیا ۔اب ریاست امریکہ نے جو کچھ کہا ریاست پاکستان سے کہا اور جواب میں ریاست پاکستان نے اپنا موقف بیان کیا ۔ یہ ماضی کے قطعی برعکس عمران خان کا موقف تھا نہ جنرل باجوہ کا۔ مائیک پومپیو کے ساتھ بھی ایک جنرل جوزف ڈنفرنڈ کی موجودگی معنی خیز تھی تو مشترکہ ملاقات کی محفل میں جنرل باجوہ کی موجودگی میں بھی گہری معنویت تھی۔امریکہ اور پاکستان کے درمیان کوئی سیاسی جھگڑ ا نہیں بلکہ اس کی بنیادی جہت فوجی ہے ۔امریکی فوج سترہ برس سے افغانستان میں مار کھا رہی ہے اور اس کا خیال ہے کہ وہ یہ مار پاکستان کی منصوبہ بندی کی وجہ سے کھانے پر مجبور ہیں جبکہ خود پاکستان جو فوجی تکالیف اُٹھا رہا ہے اس کو یقین ہے کہ یہ افغانستان میںا مریکی فوج کی پیدا کردہ ہیں۔وزیر خارجہ شاہ محمو د قریشی نے تو یہ دعویٰ کیا کہ ملاقات میں ’’ڈومور ‘‘ نہیں ہوا ۔اب اس بات کی قطعی اہمیت نہیں کہ امریکہ ڈومورکہتا ہے یا نہیں اور اگر کہتا ہے تو الفاظ واصطلاحات کیا ہوتے ہیں؟۔ اب یہ امریکہ کی فطرت ثانیہ ہے اور جواب میں پاکستان بھی ایک لکیر کھینچ چکا ہے ۔اس لئے یہ راگ جا ر ی رہے گا مگر امریکہ کے ساتھ برابری پیدا کرنے اور امریکیوں کی بگڑی ہوئی عادتیں ٹھیک کرنے کا جو عمل شروع ہوا ہے یہ اسی تسلسل اورانداز میں جا ری رہنا چاہئے ۔پاک امریکہ تعلقات میں جو خرابی پیدا ہوئی ہے اس میں راتوں رات بہتری کی قطعی کوئی امید نہیں ۔افغانستان میں اتفاق ہو بھی جاتا ہے تو پاک چین اقتصادی تعلقات جن پر حال ہی میں امریکی تشویش ظاہر کرچکے ہیں ایک اور مسئلہ ہوگا یوں امریکی فرمائشیں اور خواہشیں ہزاروں اور رنگا رنگ ہیں مگر پاکستان کے لئے سارے ارمانوں کا پورا کرنا ممکن نہیں۔پاک چین تعلقات اور پاک بھارت تعلقات امریکہ کے لئے ایک دلدل ہے ۔دونوں ملکوں کے درمیان تعاون اور تعلق بڑھانے اور تجدید تعلقات کی بہترین پچ افغانستان ہے ۔امریکہ افغانستان میں امن کو چین اور بھارت کے ساتھ جوڑنے کی بجائے افغانستان کو افغانستان کی عینک سے دیکھے تو یہ تعاون کی کلید ثابت ہو سکتی ہے۔امریکہ اور پاکستان دونوں کے لئے افغانستان کا رستا ہوا ناسور دردِسر ہے ۔امریکہ اور پاکستان کی فوجیں اپنے اپنے انداز سے افغانستان کی جنگ کی قیمت چکار ہی ہیں۔دونوں ملکوں کے لئے یہ محض فوجی اثرات ہی نہیں بلکہ افغانستان میں جنگ کی طوالت امریکہ کو ایک کمزور ہوتی ہوئی عالمی طاقت بنا رہا ہے اور اس سے امریکہ کا عالمی دبدبہ کم ہورہا ہے جبکہ یہ جنگ پاکستان کو سیاسی ،سماجی اور اقتصادی حوالوں سے نقصان پہنچا رہی ہے ۔

متعلقہ خبریں