Daily Mashriq


پھونک پھونک کر قدم اٹھانے کی ضرورت

پھونک پھونک کر قدم اٹھانے کی ضرورت

پاکستان میں بعض اوقات حکومتوں کے ملک وقوم کے خلاف ہونے والے بڑے فیصلوں کی عوام کو کانوں کان خبر نہیں ہو پاتی اور وقت گزرجاتا ہے ۔ سالوں بعد کہیں کوئی منصف اپنی کتاب یا ڈائری میں ایسی تاریخی باتوں کا کچھ ذکر کر کے عوام کے سامنے لے آتا ہے ، لیکن بعض باتیں اور معاملات اور فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو چھپے نہیں رہتے اور اُن پر عوام کا ردعمل بھی بہت جلد اور تیز آجاتا ہے ، ان سطور میں پچھلے دنوں عرض کیا تھا کہ میڈیا اور بالخصوص سوشل میڈیا کے لوگ عمران خان اور پی ٹی آئی حکومت کے پیچھے خوردبین لگائے ہوئے ہیں ۔ اور جونہی کوئی چھوٹی سی چیز بھی عمران خان کی کسی تقریریا سو روزہ پروگرام کے کسی نکتے کے خلاف مل جاتی ہے تو فوراً دوربین کے ذریعے اپنے چینلوں کے ذریعے عوام کو چٹخارے دار ذائقوں (تبصروں) کے ساتھ دکھانے میں دیر نہیں کرتے ۔ حزب اختلاف اور مثبت و تعمیری تنقید زندہ معاشروں کی علامت اور حسن میں شمار ہوتا ہے ۔ لیکن خواہ مخواہ کی مخالفت اور تنقید برائے تذلیل وانتقام وغیرہ یقیناًمعاشروں کو روبہ زوال کرنے میںاہم کردار ادا کرتا ہے ۔ ان ہی سطور میں عمران خان کی حکومت کے لئے یہ بھی عرض کیا گیا تھا کہ عمران خان عام آدمی ہے اور نہ ہی ان کی حکومت روٹین وروایت والی ۔عمران خان کی ایک ایک حرکت پر سب کی بالخصوص اپوزیشن اور مخالفین کی خصوصی نظر ہے ۔ اس لئے پھونک پھونک کر قدم اُٹھانے کی ضرورت ہے۔پاکستان میں جس شعبے اور میدان میں سب سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے وہ مذہب کا شعبہ ہے ۔ مذہبیات والہیات میں جس عقیدے کی حرمت وحفاظت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ عقیدہ ختم نبوت ہے ۔ اس عقیدے کے حوالے سے پاکستان پر بیرونی اور اندرونی دبائو رہا ہے اور رہے گا ۔اہل بصیرت سے یہ بات پوشیدہ نہیں اور وہ اس کے اسباب بھی جانتے ہیں ۔ 

’’باخدا دیوانہ باش

با محمدؐ ہوشیار‘‘

آج کل سوشل اور ، پرنٹ میڈیا پر عمران خان کی تشکیل کردہ اقتصادی کونسل کے ایک رکن عاطف میاں کے بارے میں بہت زیادہ مخالفانہ مواد آرہا ہے ۔ مذہبی طبقات کی طرف سے ویسے بھی پی ٹی آئی کو کوئی اور رعایت حاصل نہیں اور پھر جب ایسا موقع آئے کہ واقعی بات بن رہی ہو اور مذہب کے حوالے سے پاکستان کی جذباتی قوم کے جذبات بھڑکائے جانے کے امکانات زیادہ ہوں وہاں تو عمران خان کو بالکل کوئی رعایت ملنے کا امکان نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں کو آئین پاکستان میں مکمل حقوق حاصل ہیں اور کئی ایک ایسی شخصیات نے پاکستان میں اعلیٰ عہدوں پر رہ کر اعلیٰ خدمات سر انجام دی ہیں۔ ہماری عدلیہ کے دو معتبر ججوں کا نام جسٹس اے آر کارنیلئس‘ جسٹس دراب پٹیل آج بھی عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔ رانا بھگوان داسکا اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنا ابھی کل کی بات ہے۔ پاک افواج اور فضائیہ کے مایہ ناز پائلٹ اور 1965ء کے ہیرو چودھری سیسل کو اتنی ہی عزت حاصل ہے جتنی کسی اور فوجی ہیرو کو۔ لیکن پاکستان میں قادیانیوں کے حوالے سے عوام کے جذبات وہ نہیں ہیں جو دیگر اقلیتوں کے بارے میں ہیں۔ اس کی سب سی بڑی وجہ یہ ہے کہ دیگر اقلیتیں واضح طور پر غیر مسلم ڈیکلیئرڈ ہیں اور پاکستان میں اس حوالے سے ان کے انسانی ‘ شہری اور دیگر حقوق بھی واضح ہیں لیکن قادیانی ختم نبوتؐ کا عقیدہ نہ رکھتے ہوئے بھی اپنے آپ کو مسلمان اور ہم مسلمانوں کو غیر مسلم سمجھتے ہیں۔ دیگر اقلیتیں آئین پاکستان کو قبول و تسلیم کرتی ہیں لیکن قادیانی آئین پاکستان جس میں ان کو غیر مسلم قرار دیاگیا ہے وہ اپنے آپ غیر مسلم نہ سمجھتے ہوئے آئین پاکستان کے انکاری بنتے ہیں۔ دنیا بھر میں ان کے مشنز بالخصوص براعظم افریقہ میں اسلام کے نام پر قادیانیت کی تبلیغ و دعوت میں مصروف رہتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے غلط عقائد پر اسلام کا لیبل لگا کر لوگوں میں پھیلاتے ہیں اور لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ اسلامی فقہ کی اصطلاح میں ایسے فرقوں کو زنادقہ میں شمار کیاگیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں قادیانیوں کی تین چار شخصیات کا کردار پاکستان کے مفادات و سا لمیت کے خلاف رہا ہے۔ سر ظفر اللہ خان کے دیدہ دانستہ کردار کی وجہ سے گورداسپور کا ضلع بائونڈری کمیشن کے فیصلے کے تحت بھارت کو ملا جس کا نقصان پاکستان آج تک بھگت رہا ہے۔ پاکستان کا وزیر خارجہ ہوتے ہوئے اس نے قائداعظم کے جنازے میں وہاں موجود ہوتے ہوئے شرکت نہیں کی۔ کسی کے پوچھنے پر بتایا کہ یوں سمجھئے کہ ایک مسلمان غیر مسلم (قائداعظم) کے جنازے میں شریک نہ ہوا یا ایک غیر مسلم مسلمان کے جنازے میں شریک نہ ہوسکا۔ ایم ایم احمد جو اقتصادیات کا ماہر تھا اور صدر پاکستان کا اقتصادی مشیر اور پاکستان کی اقتصادی کونسل کا ڈپٹی چیئر مین تھا کا کردار بھی مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے میں یاد کیا جاتا ہے اور ائیر مارشل نور خان جیسی شخصیت نے اس کا تذکرہ کیا ہے جنیوا میں پاکستان کے قادیانی سفارت کار منصور احمد نے قادیانیوں کی طرف اپنے لئے انسانی حقوق کے پیش کردہ مقدمے میں قادیانیوں کی طرف داری کرکے ان کے حق میں فیصلہ دلوایا جو آج تک ریکارڈ پر ہے اور پاکستان اسے بھگت رہا ہے۔ یاد رکھنا ہوگا کہ پاکستان میں یہ معاملہ بہت حساس نوعیت کا ہے کیونکہ اس میں صرف مذہبی جذباتیت شامل نہیں بلکہ اس میں زمینی حقائق کی بنیاد پر پاکستان کا مفاد بھی ہے۔

متعلقہ خبریں