Daily Mashriq


درخت، مہربان دوست

درخت، مہربان دوست

خیبر پختونخوا میں ایک ملین درخت لگانے کی مہم کے بعد شجر کاری کا موسم جانے سے پہلے وزیر اعظم عمران نے ملک بھر میں پانچ سال کے دوران ایک کھرب درخت لگانے کی مہم کا آغاز کیا ۔ درخت انسان کے قدیمی دوست ہیں۔ یہ انسان کے سانس لینے کے لیے ہوا کو صاف کرتے ہیں۔ سایہ فراہم کرتے ہیں۔ پھل دیتے ہیں۔ زمین کو کٹائی سے بچاتے ہیں ‘ اس کی زرخیزی بحال رکھتے ہیں۔ پرندوں کا مسکن بنتے ہیں جو کیڑوں سے فصلوں کی حفاظت کرتے ہیں اور بارشوں کے برسنے کا سبب بنتے ہیں۔ جن سے زمین کو پانی حاصل ہوتا ہے اور انسان کے کام آتا ہے۔ اور جب مر جاتے ہیں تو ان کی لکڑی سالہا سال تک انسان کے کام آتی رہتی ہے۔ ایسے مہربان دوست اور قیمتی اثاثے کے سہارے ملک میں جو قدر ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہوتی۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس کی طرف توجہ دی ہے ۔ تحریک انصاف کے سابقہ دور حکومت کے دوران خیبر پختونخوا میں ایک ملین درخت لگانے کی مہم شروع ہوئی تو ان کے سیاسی مخالفین نے اس کارخیر میں بھی کیڑے نکالنے شروع کر دیے ‘ طرح طرح کے طعنے دیے گئے اور یہ بھی کہا گیا کہ یہ درخت کہیں نہیں لگائے گئے محض افسانہ ہے۔ حالانکہ اس میں اندازوں کے گھوڑے دوڑانے کی ضرورت نہیں تھی۔ درخت بھی حاضر تھے اور زمین بھی، لوگ چاہتے تو انہیں گن سکتے تھے۔ خیبر پختونخوا کی زمین درخت دوست ہے۔ پاکستان میں جو جنگلات کا تھوڑا بہت رقبہ ہے اس میں خیبر پختونخوا کا رقبہ سب سے زیادہ ہے۔ یہ جو ایک ملین پودے صوبے میں گزشتہ سال لگائے گئے ہیں ان کے درخت بننے میں مزید تین چار سال لگیں گے، اس دوران ان کی حفاظت اور پرورش ضروری ہو گی۔ امید کی جانی چاہیے جہاں جہاں پودے لگائے گئے ہیں وہاں ان کی حفاظت بھی ہو رہی ہوگی۔ خیبر پختونخوا حکومت کو ان پودوں کی حفاظت اور پرورش کی طرف مسلسل توجہ دینے کی ضرورت ہوگی۔

وزیر اعظم کی دیکھا دیکھی وزرائے اعلیٰ نے بھی پودے لگائے اور دیگر مشاہیر نے بھی پودے لگائے ۔ ٹی وی میں ایسے پودے جو لگتے ہوئے نظر آتے ہیں وہ بالعموم آرائشی درختوں کے پودے تھے۔ کہا جا رہا ہے کہ شجرکاری کا موجودہ موسم ختم ہونے سے پہلے 15لاکھ پودے لگائے جا چکے ہوں گے ۔ یہ پودے کن نرسریوں سے حاصل ہو ں گے ‘ ان کی اقسام کیا ہوں گی ‘ ان پر کتنا خرچ آئے گا اور ان کی حفاظت و پرورش کا کیا بندوبست ہو گا، اس کے بارے میں کوئی مستند معلومات دستیاب نہیں۔ شجرکاری کی مہمیں خیبر پختونخوا میں ایک ارب پودے لگانے کی مہم سے پہلے بھی ملک بھر میں چلتی رہی ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب غیر ملکی مہمان اکابرین سے بھی پودے لگوائے جاتے تھے تاکہ ان کے دورے کی یادگار رہیں۔ ہر سال دو بار شجرکاری کا موسم آتا ہے اور سالہا سال سے شجرکاری کی مہمیں چلتی آئی ہیں لیکن ان مہموں میں لگائے جانے والے درختوں کے ماحولیات پر اثرات نظر نہیں آتے۔ الٹا یہ ضرور نظر آتا ہے کہ نئی سڑکیں اور ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنانے کے لیے ہزاروں درخت کاٹ دیے جاتے ہیں ۔ اور ان پر کسی کا زور نہیں چلتا۔ راولپنڈی اور لاہور میں کبھی کبھار سول سوسائٹی کے لوگوں نے احتجاج کیے لیکن تعمیرات کی لہر کے سامنے زمین کی صحت ‘ پرندوں کے مسکن اور انسانوں کے لیے صاف ہوا کے ذریعہ کی حفاظت کے لیے اٹھنے والی آواز کون سنتا۔ نہ لوگوں کے دلوںمیں درختوں سے درمندی اجتماعی آواز بنتی ہے اور نہ معاشرے میں کوئی مؤثر قانون ہے۔ پاکستان کے تمام شہروں میں سب سے زیادہ درخت اسلام آباد میں نظر آتے ہیں ۔ جس رقبہ پر اسلام آباد آج آباد ہے وہاں کہتے ہیں صاف شفاف پانی کی سات ندیاں بہا کرتی تھیں۔ اسلام آباد کی تعمیرات شروع کرنے سے پہلے یہاں ہوائی جہازوں کے ذریعے دنیا بھر سے درختوں کے بیج بکھیرے گئے جو آج درخت بن چکے ہیں۔ کتنی انواع کے درخت ہیں یہ گنتی مشکل ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اسلام آباد میں الرجی کے مریضوں کی تعداد دیگر شہروں سے زیادہ ہے ، شاید اعداد و شمار اکٹھے کرنے والوں کی غلطی ہو۔ یہ تاثر بھی ہے کہ غیر ملکی درخت بھی اس کی ایک وجہ ہے۔ ایک درخت جس کے تنے میں گومڑ بنتے تھے اور جس کے سائے میں گرمی لگتی تھی بہت حد تک چپکے چپکے تلف کیا جا چکا ہے۔ درج باتیں صحیح ہیں یا غلط کہنا یہ مقصود ہے کہ درختوں کی مختلف انواع ہوتی ہیں ۔ ان کے طبی فوائد بھی ہوتے ہیں اور بعض علاقے کچھ انواع کے درختوں کے لیے موزوں ہوتے ہیں اور کچھ ناموزوں۔ مثلاً نیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایک سو ایک بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ پنجاب میں اکثر ہوتا ہے ۔ شارجہ والے نیم کے پودے مٹی سمیت لے گئے اور آج وہاں یہ درخت بڑے ہو چکے ہیں۔ لیکن یہ زیر درختی نہیں اگنے دیتا اس لیے الگ صحنوں میں یہ درخت اگاتے ہیں(باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں