Daily Mashriq


کیا اس لئے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے

کیا اس لئے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے

آج 8 ستمبر کو پاکستان سمیت ساری دنیا میں تعلیم و تعلم کا عالمی دن ورلڈ لٹریسی ڈے کے عنوان سے منایا جارہا ہے۔ آج کے دن کا مقصد دنیا والوں کو تعلیم و تعلم یا درس وتدریس کی افادیت اور اس کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں مختلف مکاتب فکر کے ہاں سیمینار منعقد ہونگے مناظرے مذاکرے اور مباحثے برپا کئے جائیں گے۔ ریلیاں نکالی جائیں گی وڈیوز بنیں گی کیمرہ سیشنز ہونگے جن کی تشہیر ورقی اور برقی ذرائع ابلاغ کی وساطت سے کی جائے گی اور پھر آج شام کا سورج اس داستان پارینہ کو لیکر مغرب کی اوٹ میں غروب ہوجائے گا اور یہ موضوع ٹائیں ٹائیں فش ہوکر کالی رات کی تاریکیوں کی نذر ہوجائے گا۔ ان سب باتوں کا اثر وہی قومیں قبول کرتی ہیں جن کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال باہر کرنے کی عادت نہ ہو۔ یہ جو تعلیم و تعلم کی اہمیت اور اس کی افادیت کو اجاگر کرنے کے لئے آج اور صرف آج کا دن منارہے ہیں آج کے دن کے حوالے سے ہم انہیں بتادینا چاہتے ہیں کہ تعلیمات اسلام میں علم کا حصول ہر مسلمان زن و مرد پر فرض قرار دیا گیا ہے۔ جس کے لئے وقت حالات یا عمر کی کوئی قید نہیں ، حکم ہوتا ہے کہ مہد سے لحد تک حصول علم کا سلسلہ جاری رکھو۔ مہد پنگھوڑے جھولے گہوارے یا ماں کی گود کو کہتے ہیں اور محد مرقد خاکی کا وہ گوشہ ہے جہاں پہنچ کر ابن آدم منوں مٹی تلے ابدی نیند سوجاتا ہے۔ ہم ماں کی گود یا آغوش مادر سے جس زبان میں حصول علم کا آغاز کرتے ہیں اسے ہم زندگی بھر ماں بولی یا مادری زبان کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ماہرین نفسیات اور میڈیکل سائنس کے ماہرین اس ناقابل تردید حقیقت کی گواہی پیش کرتے ہیں کہ اس دنیا میں آنکھ کھولنے والا بچہ شکم مادر کے اندر ہی ان آوازوں اور اس زبان کے اتار چڑھاؤ سے مانوس ہوجاتا ہے جو اس کو اپنی ماں باپ بہن بھائیوں اور قریبی رشتہ داروں کی زبان میں سننے کو ملتی ہیں۔ اگر بچہ کسی مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا ہے تو اس کے کان میں آذان دیکر اس تعلیم کا آغاز کردیا جاتا ہے جسے ہم تعلیم دین متین کا منبع و مبدا کہہ سکتے ہیں۔ وہ آغوش مادر کا پہلا نغمہ ماں کی مامتا بھری لوری کی صورت اپنے ذہن و شعور کے نہاں خانوں میں سمونے لگتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب وہ ہوش کے ناخن لیتا ہے تو اپنے ارد گرد کے ماحول اپنے لاڈ اور پیار منانے والوں کے علاوہ اپنے ہم عمر سنگی ساتھیوں اور ہمجولیوں سے جو کچھ سیکھتا ہے وہ اسے

میرے بچپن کے دن کتنے اچھے تھے دن

آج بیٹھے بٹھائے کیوں یاد آگئے

کے مصداق ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یاد رہ جاتا ہے۔ ماہرین نفسیات اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ بچہ سات سال کی عمر تک 70 فی صد علم حاصل کرتا ہے جب کہ وہ باقی کی ساری کی ساری عمر کے دوران صرف 30 فی صد علم حاصل کرپاتا ہے۔ اور سچ پوچھیں تو وہ ساری عمر اس تذبذب ادھیڑ بن یا الجھن کا شکار رہتا ہے کہ اس کو جس زبان میں تعلیم دی جارہی ہے وہ اس کی مادری زبان جیسی تو نہیں۔ مدرسہ میں بچے کو بغدادی قاعدہ پڑھا کر اس کی تعلیم کا آغاز کیا جا تا ہے تو اسکول میں اسے الف انار اور بے بلی پڑھانا شروع کردیا جاتا ہے۔ اور جب وہ الف با سے واقفیت حاصل کرلیتا ہے تو اس کو اے بی سی پڑھاتے وقت بتا یاجاتا ہے کہ اے بھی الف ہے او بھی الف ہے ای بھی الف ہے یو بھی الف ہے آئی بھی الف ہے ، ہائے بچہ ذہن کا کچا سر پیٹ کر رہ جاتا ہے بے چارہ۔ کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا کے مصداق وہ آدھا تیتر آدھا بٹیر بن کر رہ جاتا ہے۔ اے کاش ہم اسے اس ہی زبان اور لب ولہجہ میں تعلیم دیتے رہتے جو اس نے اپنی زندگی کی پہلی درس گاہ ماں کی گود میں سیکھنا شروع کیا تھا۔ اگر ایسا ہوجاتا تو وہ تعلیم کے میدان میں ارتقاء کی ان بلندیوں کو چھو لیتا جن پر دنیا رشک کرتی رہتی ، ہمارے لٹریسی ریٹ میں قابل قدر اضافہ ہوتا اور ہم اس مقام پر نہ ہوتے جس مقام پر آج اپنا سر پیٹ رہے ہیں ، آٹھویں ترمیم کے فوراً بعد سرحد کو صوبہ پختون خوا کا نام دیا گیا اور صوبائی اسمبلی میں بل پاس ہونے کے بعد ریجنل لینگویج اتھارٹی تشکیل دی گئی جس کے لئے پرائیویٹ سیکٹر سے جو دانشور چنے گئے ان میں راقم السطور کے علاوہ پرویش خٹک ڈاکٹر زبیر حسرت، اور پروفیسر عنایت اللہ فیضی کے نام شامل تھے۔ اس سلسلہ میں ہم نے متعد اجلاس اٹینڈ کرکے بات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی مادری زبانوں کو ذریعہ تعلیم بنانے کے لئے ورکشاپیں منعقد ہوئیں سلیبس بنے کتابیں شائع ہوئیں اور اسکولوں کالجوں میں مادری یا مقامی ز بانیں اختیاری مضمون کے طور پر پڑھائی جانے لگیں ۔ اور پھر یوں ہوا کہ صوبہ خیبر پختون خوا میں جیسے ہی پی ٹی آئی کی حکومت آئی

ہر کہ آمد عمارت نو ساخت

کے مصداق مادری زبان میں تعلیم و تعلم کو حرف غلط کی طرح مٹا دینے کا عندیہ دیا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان کے سو روزہ پروگرام میں یکساں نظام تعلیم کا نعرہ بلند کیا جارہا ہے۔ اللہ کرے یہ نعرہ ملک اور قوم کے حق میں نیک شگون ثابت ہو اور تعلیم و تعلم کے حوالے سے ہم ارتقاء کی ان بلندیوں کو چھو سکیں جس کا حکم ہمیں تعلیمات اسلام نے دیا ہے۔ علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے۔ چین تو ہمارادوست ہمسایہ ملک ہے اور ان کی زبان بھی منفرد اور طرز تحریر بھی جدا گانہ ہے۔ ہم شروع روز سے حصول علم کے لئے ماں کی لوریوں کی قربانی دے رہے ہیں اب بھی قربانی دے دیں گے لیکن ڈرتے ہیں کہ کہیں ایک بار پھر ہمیں کہنا نہ پڑجائے کہ

کیا اس لئے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے

بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگا دے

متعلقہ خبریں