Daily Mashriq


نون لیگ کے سیاپوںکی حقیقت

نون لیگ کے سیاپوںکی حقیقت

نون لیگ کے جنگ بازوں کو کوئی سمجھائے کہ اگر مولانا فضل الرحمن اور اعتزاز احسن کے 124+185ووٹ کسی طور مل بھی جاتے تو یہ 309ووٹ بننے تھے جبکہ تحریک انصاف کے کامیاب ہونے والے صدارتی امیدوار ڈاکٹر عارف علوی نے 353ووٹ لئے ہیں۔ اس طرح جناب عارف علوی کے مجموعی ووٹ حزب اختلاف کے ووٹوں سے 44ووٹ زیادہ ہوئے۔ سیاسی تعلقوں میںجوڑ توڑ سے دو چار ووٹ یقینااپوزیشن کو زیادہ مل جاتے مگر کامیاب تحریک انصاف کا امیدوار ہی ہوتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر 2018ء کے انتخابی نتائج کا سارا بندوبست کسی خلائی مخلوق نے ہی کیا تھا تو پھر وہ مخلوق اپوزیشن کا صدر کیوں منتخب ہونے دیتی؟ تیسری بات یہ ہے کہ اگر نون لیگ کو اعتزاز احسن کے چند بیانات ناگوار گزرے اور مقدس ملکہ وشہزادیٔ عالیہ کی توہین ہو گئی تھی تو ذرا گریبان میں جھانک کر 1988ء سے 1999ء تک کے 12سالوں کے دوران محترمہ نصرت بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو بارے استعمال کی گئی زبان، ہیلی کاپٹروں سے گرائے گئے پمفلٹ، جلسوں میں لگوائے گئے نعروں، اسلامی جمہوریہ اتحاد کے ایک امیدوار حافظ سلمان بٹ کے ’’جہادی خطاب‘‘ کے علاوہ اس نعرے کو بھی یاد کر لیجئے جو ان برسوں میں نواز شریف کو خوش کرنے کیلئے نون لیگ کے متوالے محفلوں میں لگاتے اور داد پاتے۔ کاش صحافتی اخلاقیات کی بندش مانع نہ ہوتی تو وہ نعرہ من وعن ان سطور میں لکھ دیتا۔ آج کی نسل جان پاتی کہ جنہیں آج خواتین کی حرمت کا دورہ پڑا ہوا ہے وہ ماضی میں سیاسی مخالف خواتین بارے کیا زبان استعمال کرتے رہے۔ خواتین سے متعلق زبان دانی ہمارے سماج کا عمومی چلن ہے۔

چلیں ماضی کی نصیحتوں کو رہنے دیجئے۔ یقینااپوزیشن کا مشترکہ ومتفقہ صدارتی امیدوار ہونا چاہئے تھا۔ مولانا فضل الرحمن سے آصف زرداری نے یہی کہا تھا اعتزاز احسن کے علاوہ دو نام اور بھی دیئے تھے لیکن ہوا یہ کہ مولانا فضل الرحمن نون لیگ کے گھر گئے اور خود صدارتی امیدوار بن گئے۔ ضد کا صرف پیپلز پارٹی پر الزام لگانا درست نہیں، نون لیگ کے بدزبان ٹولے نے جو کچھ کہا وہ ریکارڈ پر ہے۔ ایک سادہ سا سوال ہے۔ آخر نون لیگ کے دست حق پرست پر بیعت ہی جمہوریت پرست ہونے کی ضمانت کیوں ہے؟۔ پنجاب میں پچھلے 10سالوں کے دوران مسلسل حکومت اور وفاق کی پچھلی پانچ سالہ ہر دو کے دوران جمہوریت کیلئے کیا خدمات ہیں؟ لاریب پیپلز پارٹی فرشتوں کی جماعت نہیں ہے جدوجہد اور قربانیوں کی شاندار تاریخ رکھنے والی اس جماعت میں اندرونی نظام اور افراد میں بہت ساری خامیاں ہیں۔ طالب علم بالکل یہ نہیں سمجھتا کہ خامیاں تو ہیں ہی نہیں سارا پروپیگنڈہ ہے لیکن خود نون لیگ کے پلے کیا ہے سوائے اس معافی نامے اور معاہدہ جلاوطنی کے جس سے8سال تک انکار ہوتا رہا؟۔ اس بحث کو اُٹھا رکھتے ہیں، سیاست میں امکانات، اتحاد اور مخالفت سب چلتا ہے۔ نون لیگ جس متحدہ حزب اختلاف کا رونا رو رہی ہے اس بارے تفصیل کیساتھ ان کالموں میں قبل ازیں عرض کرچکا۔ میرے خیال میں ذاتی نوعیت کے بیانات سے زیادہ وہ سنگین الزام نون لیگ کے گلے کی ہڈی بن گیا تھا جو ماضی میں اس جماعت نے اس وقت اعتزاز احسن پر لگایا تھا جب وہ بینظیر بھٹو کی کابینہ میں وزیر داخلہ تھے۔ نون لیگ کے چھوٹے بڑے اور مالکان سبھی یہ کہتے تھے کہ چودھری اعتزاز احسن نے آزادی پسند سکھوں کی فہرستیں بھارتی حکومت کے حوالے کیں۔ اُن دنوں انہی سطور میں عرض کیا تھا کہ آزادی پسند سکھوں میں سے کچھ کے تعلقات سابق فوجی آمر جنرل ضیاء الحق اور مرحوم چودھری ظہور الٰہی سے تھے ایسے میں اعتزازکے پاس وہ فہرستیں کہاں سے آگئیں کہ وہ بھارت کو دیتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان سنگین الزامات کے بعد نون لیگ 3مرتبہ وفاق میں برسر اقتدار آئی، کون اس کی راہ میں حائل ہوا کہ وہ ایک تحقیقاتی کمیشن نہ قائم کر پائی۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس الزام کی پتنگ اڑانے والے سابق بھارتی وزیراعظم گجرال کے اس بیان کو بھول جاتے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ نواز شریف نے انہیں کشمیری حریت پسندوں کے بارے میں معلومات دیں۔ پیپلز پارٹی یا کسی دوسرے نے گجرال کے اس بیان سیاست کا ذریعہ اس لئے نہیں بنایا تھا کہ ان کا خیال تھا بھارتی لیڈر پاکستانی سیاستدانوں کو لڑوا کر ملک کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔

صدارتی انتخابات کے دوران زرداری کی مجبوریوں کے بین کرنے والے پچھلے 20دنوں کے دوران بعض ریاستی شخصیات سے شہباز شریف کی ملاقاتوں کو کیا نام دیں گے؟ اور اگر نون لیگ کے پاکبازوں میں معمولی سی بھی اخلاقی جرأت ہے تو صدارتی انتخابات سے ایک دن قبل زرداری سے ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمن کی شہباز شریف سے ہوئی ملاقات میں شہباز شریف نے اعتزاز احسن اور آصف زرداری کے بارے میں جو ’’پاکیزہ کلمات‘‘ ارشاد فرمائے ہیں انہیں عوام کی آگاہی کیلئے عام تو کر دیں۔ مکرر عرض کرتا ہوں اپوزیشن کا متفقہ امیدوار صدارتی انتخاب جیت ہی نہیں سکتا تھا۔ ابتدائی سطور میں تفصیل عرض کر چکا۔ ترمیم کیساتھ ایک مثال عرض ہے، نون لیگ چاہتی ہے کہ پیپلز پارٹی اس کے کھیت کی گاجریں بھی کھائے اور پیٹ درد کی شکایت بالکل نہ کرے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ نون لیگ آخر یہ کیوں چاہتی ہے کہ پیپلز پارٹی موجودہ سیاسی عمل میں محض اس کے مرید خاص کا کردار ادا کرے؟

متعلقہ خبریں