Daily Mashriq

کرتار پو ر اہم کیو ں ۔۔۔؟

کرتار پو ر اہم کیو ں ۔۔۔؟

بھارت کی طرف سے کشمیر کی خون ریز ڈکیتی کے بعد کرتارپور راہد اری پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنا اور اسی طر ح پا کستان کی طر ف سے کشمیر کے بارے میں بھارت کی جا نب سے آئینی ، اخلا قی اور قانو ن کی عالمی سطح پر دھجیا ں بکھیر نا اور پو ری کشمیر قوم کو بندوق اور ٹینکوں کے دھا نو ںکی قوت پر یر غمال بنانے کے باوجو د مذاکرات جاری رکھنا باعث حیر ت ہے ، ادھر تازہ ترین بھارتی اقدام یہ ہو ا ہے کہ بھارت نے جیش محمد کے اظہرمسعود اور جمعتہ الدّعوة کے امیر کو دہشت گرد قرا ر دیدیا ہے جس پر امریکا کی جانب سے بھارتی اقدام پر بہت خوشی کا اظہا ر کیا جارہا ہے ، ایسے حالات میں کرتارپور راہداری کو اہمیت دینا ایسا محسوس ہو تا ہے کہ دونوں ملکو ں کے لیے پنجا بی بڑی اہمیت کے حامل ہیں ، اس حد تک بات تو درست ہے کہ بھارت سے مقبوضہ کشمیر جا نے کا آسان ترین راستہ گورداس پور سے ہی گزر تاہے اور پنڈت نہرونے پا کستان کا کشمیر سے مواصلا تی راستہ منقطع کرنے کی غر ض سے عین وقت تقسیم پر گورداس پور کو پاکستان سے کا ٹ کر بھارت کے حصہ میں شامل کر لیا ، حالانکہ تقسیم ہند کے فارمو لے کے مطا بق یہ ضلع پاکستان کے حصہ کا تھا ۔ سابق بھارتی کرکٹ ٹیم کے کھلا ڑی اور شوبز دنیا میں معروف نا م کما نے والے سدو سنگھ کے اپنے دیر ینہ دوست وزیر اعظم عمر ان خان کی حلف برداری میں شرکت کے مو قع پر پاکستان کے سپہ سالا ر سے کرتارپور راہد اری کھولنے کی تجو یز دی تھی جو بظاہر یہ ہی محسو س کی جارہی تھی کہ یہ تجو یز مذہبی بنیا د پر دی گئی ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ سکھ برادری کو کرتارپور کے درشن کے لیے آسانی میسر ہو جا ئے ۔ چنانچہ اس پر پاکستان کی جانب سے تیزی سے کا م ہو ا تاہم بھارت نا چاہتے ہو ئے بھی مجبو ر ہو ا کہ وہ کر تا رپو رہ راہداری کھولنے کے لیے قدم بڑھا ئے بصورت بھارت کو پنجاب میں ایک شدید ترین مشکلات کا سامنا کر نا پڑ جائے گا یہ جانتے ہو ئے بھی بھارتی حکومت ڈھل مل سے کا م لیتی رہی ہے اوراب بھی لے رہی ہے گزشتہ بدھ کو بھارت اور پا کستان کے درمیا ن کر تا ر پورہ راہداری کو کھولنے کے بارے میں مذاکرات ہوئے جو بظاہر کسی حتمی فیصلے کے بغیر ختم ہو گئے کیو ں کہ بھارت کو پاکستان کی جا نب سے کر تار پور ہ کی یا تر ا کی جو شرائط رکھی گئی ہیں ان پر تحفظات ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ کر تارپو رہ کی یاتر اکرنے والو ں کو پندرہ امریکی ڈالر کے قریب سروسز چارجز ادا کرنا ہو ں گے جبکہ کر تا رپور میں سکھ زائرین کے قیا م کی مدت کے حوالے سے بھی بھارتی حکام کو اعتراض ہے کیو ں کہ پا کستان کی جا نب سے یا تر ا کے لیے پاکستان میں قیا م صبح سے شام تک کا وقت مقرر کر نے کی تجو یز ہے جبکہ بھارت اس میں توسیع چاہتا ہے بھارتی پنجا ب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن ارمیندر سنگھ نے اپنے ٹیو ٹر پیغام میں ان شرائط کو شرمناک قرا ر دیا ہے اور اس کو سکھ برادری کے مذہبی پیشوا گرو نا نک دیو جی کی تعلیما ت سے متصادم قر ار دیا ہے ، بھارتی پنجا ب کے وزیر اعلیٰ نے یہ مئو قف بھی اختیار کیا ہے کہ ایسی شرائط سے کر تا پو رہ راہداری کی تعمیر میں رکا وٹیں حائل ہو جا ئیں گی ۔چنا نچہ شرائط پر پاکستان اور بھارت کے ما بین اتفاق نہ ہو سکا اس بناء پر بات چیت ادھو ری رہ گئی ۔ اس ادھوری بات چیت کے پس منظر میں کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل میں دونوں ملکوں کے درمیا ن بات چیت کا کوئی امکا ن با قی نہیں رہ گیا ہے اس کے باوجو دونو ں ملک ایک میز پر آئے اور عوامی سہولیا ت کے لیے با ت چیت کی پھر بھارت کشمیر جیسے سنگین مسئلے کے لیے بات چیت کے لیے ایک میز پر کیوں آنے کو تیا ر نہیں ہے ۔ ویسے بھی پاکستان کے مقابلے میں بھارت کے لیے کر تار پور ہ کی راہداری کی تعمیر اہمیت کی حامل ہے کیو ں کہ بھارت کو ما ضی بعید میں اپنے پنجا ب میں خالصتا ن تحریک کا سامنا کر نا پڑا تھا اور اس نے بھارت کے لیے بڑی مشکلا ت پید ا کر دیں تھیں اس امرکا امکا ن پید ا ہو گیا تھا کہ بھارتی پنجاب بھارت سے کٹ کر خالصتان میں تبدیل ہو جائے گا۔ جس انداز میں خالصتا ن تحریک کو بھارت نے کچلا اسی کا نتیجہ تھا کہ سابق بھارتی وزیر اعظم آنجہا نی اندرا گاندھی کو ان کے دو سکھ محافظین نے فائر کھو ل کر قتل کر دیا تھا اگرچہ ان حالا ت وواقعات کو برسو ں گزر گئے ہیں لیکن زخم ابھی ہر ے ہر ے سے ہو جا تے ہیں۔ اب تو مقبو ضہ کشمیر بھی بھارت کے لیے ایک خطر نا ک ناسو ر بن گیا ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ بھارت کب تک بندو ق اور جبر کی نوک پر کشمیر پر قابض رہ سکتا ہے ، کشمیر کی آزادی کی تحریک اس وقت عروج بام پر ہے جہا ں سے اس کا مٹ جا نا ممکن نہیں رہ ہے آخر بھارت کب تک مقبوضہ کشمیر میں غیر اعلا نیہ کر فیو کے ذریعے وہا ں قبضہ جما ئے رکھے گا ۔ جہا ں تک خالصتان کی تحریک کا تعلق ہے تو وہ بھی بے قابو تھی مگر بھارت کو باہر سے معاونت حاصل ہوئی جس کے بل بوتے پر وہ خون ریزی کے بعد قابو پانے میں کامیا ب ہو اتھا مگر کشمیر کا معاملہ اب اس کے لیے کمبل بن گیا ہے جس سے جان چھوٹے بھی تو نہیں چھو ٹ سکتی کیو ں کہ کشمیر کے معاملے میںجو کشمیر قوتیں بھارت کی ہمنو ا بھی تھی گھگیاں بن چکی ہیں وہ بھی اسی صف میںکھڑے نظرآرہے ہیں جو مقبوضہ کشمیر کے حریت پسندو ں نے صف آراء کی ہیں۔ جہا ں تک پا کستان کا تعلق ہے تو یہ بات صاف ہے کہ پاکستان کو اس راہداری سے کسی حد تک زرمبادلہ مل سکتا ہے اور بس ، کیوں کہ یا تریو ں کی آمد ورفت سے زرمبادلہ کا امکا ن ہے اس کے علا وہ مستقبل میں یہ مقام ایک سیا حی مقام کی بھی حیثیت حاصل کر سکتا ہے اور اس بات کے امکانات بھی ہیں کہ بیرون ملک مثلاً کینیڈا وغیر ہ میں مقیم سکھ برادری بھی کر تار پورہ کی یا ترا کے لیے ادھر کا رخ کرے۔ تاہم محسو س یہ کیا جا رہا ہے کہ بھارت خالصتان کے ان جا نے خوف میں مبتلا ء ہے تاہم اس کے لیے نہ جائے ماندنہ پائے رفتن ہے وہ سکھ مذہبی اقلیت کی ضرورت پوری کر نے سے ہچکچا رہا ہے ۔

متعلقہ خبریں