Daily Mashriq

جے یو آئی کاصد سالہ یوم تاسیس

جے یو آئی کاصد سالہ یوم تاسیس

اپنی مدت سے دوسال قبل جمعیت علمائے اسلام کے صد سالہ یوم تاسیس میں امام کعبہ فضیلت الشیخ محمد ابراہیم الطالب کی شرکت اور بطور خاص نماز جمعہ کی امامت کے باعث اجتماع گاہ کی طرف جم غفیر کی روانگی و شرکت فطری امر تھا ۔ اس موقع پر پشتون گڑھی سے لیکر اضاخیل کے اجتماع گاہ تک ضعفا ء سمیت ہر عمر کے افراد کی جوق درجوق شرکت کی وجہ کسی طور سیاسی نہیں بلکہ اس عقید ت کے باعث تھی جو ہر مسلمان کی عقید ت کا حصہ ہے ۔ اجتماع گاہ کی طرف شیخ فانی اور معذور افراد کی بھی بڑی تعداد رواں دواں تھی جن کی تعداد ان لوگوں سے سو گنا تھی جنہوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے جھنڈے اٹھا ئے ہوئے تھے یاان کے سینے پر اجتماع کے بیج لگے تھے۔ جو لوگ اجتماع گاہ تک نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے پہنچ نہ پائے ان کی راستے ہی میں نماز کی ادائیگی کے بعد واپسی اور نماز جمعہ کی ادائیگی کے فوراً بعد لوگوں کی اتنی ہی بڑی تعداد کی فوری واپسی جتنی تعداد میں وہ شرکت کیلئے جارہے تھے اس سارے عمل سے یہ نتیجہ اخذ کر لینا اس تاثر کی معروضیت کا ثبوت ہے کہ اس اجتماع میںان کی شرکت سیاسی نہیں بلکہ عقید ت اور کعبتہ اللہ کے امام کی اقتداء تھی۔ ایسا ہونا اس لئے بھی فطری امر تھا کہ جولوگ حجر اسود کا بوسہ دینے کی تمنا رکھتے اورکعبتہ اللہ کا طواف اور عمرہ کی ادائیگی کے شدت سے متمنی تھے مگر بوجوہ ان کے پاس ایسا کرنے کی سہولت اور موقع میسر نہیں آرہا تھا ان کیلئے امام کعبہ کی اقتداء یوں میسر آنا زریں موقع تھا۔ اس تمام حقیقت کے باوجود اس امر کو بہر حال کسی طرح نظر انداز نہیںکیا جا سکتا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے انتخابات سے سال سوا سال قبل ایک عظیم الشان اور کامیاب اجتماع کا انعقاد کر کے اور لوگوں کو امام کعبہ کی اقتداء میںنماز جمعہ کی ادائیگی کا موقع فراہم کر کے ہمدردیاں ضرور حاصل کیں ۔ دلوں کا حال تو آسمان والے کو معلو م ہے کہ اس اجتماع کے انعقاد کے مقاصد میں کوئی سیاسی محرک کا ر فرماتھا یا نہ تھا اس کے باوجود ایک سیاسی جماعت کے اجتماع کو سیاسی نقطہ نظر سے دیکھنا اور زیر بحث لانا بے جا اور بے موقع نہیں۔ صوبے میں ایک عظیم الشان اجتماع میں لوگوں کی ریکارڈ تعداد میں شرکت کے پیش نظر صوبائی حکومت انتظامیہ اور خاص طور پر ٹریفک کے انتظامات کی جو ضرورت تھی حیرت انگیز طور پر اس ضمن میں لاتعلقی اور سردمہری اختیار کی گئی وہ کسی طور مناسب نہیں تھا ۔ یہ قیاس کر لینا کہ اس اجتما ع میں شرکت کیلئے جانے والے محفوظ تھے عوام کے تحفظ کے ضمن میں جان بوجھ کر کوتاہی برتنے کے مترادف عمل تھا یا پھر اس اجتماع میں شرکت کرنے والے عام لوگوں سے بھی حکمرانوں کی سیاسی مخاصمت تھی ٹریفک کے انتظامات تو درکنا ر ٹریفک اور ہائی وے ٹریفک پولیس کی عدم موجود گی اور ٹریفک کی رہنمائی و نظم و ضبط کی پابندی نہ ہونے کے باعث ہزاروں افراد نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے اجتماع گاہ نہ پہنچ سکے جبکہ واپسی پر بد ترین ٹریفک جام کے باعث ہزاروں افراد کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ انتظامیہ اور ٹریفک پولیس اگر بالکل بھی معذور تھی تو کم از کم جگہ جگہ واپس پشاور مڑنے کے لئے عارضی انتظامات کرنا کوئی دشوار امر نہ تھا۔ اگر ایسا کیا جاتا تو جی ٹی روڈ پر اجتماع سے واپس آنے والوں کو واپسی کی جگہ ملتی اور ٹریفک سست روی سے سہی حرکت میں تو ہوتی اس مشکل کاحل بھی لوگوںنے سڑک کی منڈیریں اکھاڑ کر ضرور نکالا اگر یہی کام ٹریفک پولیس اور انتظامیہ جگہ جگہ مٹی ڈال کر یا منڈیریں ہٹا کر کرلیتی تو عوام کو سہولت ہوتی ۔ اجتماع میں مقررین نے جن موضوعات پر اظہار خیال کیا ان کی روشنی میں مجموعی طور پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اس کے باوجود آج عالم اسلام میں اختلافات کیوں پائے جاتے ہیں اس سوال پر بھی غور کرنا چاہیے ۔دنیا بھر میں مسلمانوں کے اتحاد کے لیے راہیں کس طرح کھلیں گی اور اس کے لیے عملی طورپر کیاکیاجائے۔بلاشبہ دہشت گردی کی اسلام میں اجازت نہیں۔ مسلح جدوجہد غیر شرعی ہے ۔ اسلام کا عسکریت پسندی سے کوئی واسطہ نہیں ۔ علماء کا یہی بیانیہ ہے اور کسی نئے بیانیہ کی ضرورت نہیں۔'' علماء جو عامة المسلمین کی رہنمائی کے ذمہ دار ہیں انہیں اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ دنیا میں اس موقف کو کیوں تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے۔ غیر مسلم دنیا میں جو تاثر اسلام کے بارے میںمرتسم ہوتا ہے وہ اسلامی ملکوں اور معاشروں کی صورت حال کی بنیاد پر ہی ابھرتا ہے۔ بجا کہ دہشت گردی کی اجازت اسلام میںنہیں اور یہ کہ مسلح جدوجہد غیر شرعی ہے تو پھر داعش' بوکو حرام' الشہاب اور تحریک طالبان پاکستان ایسی تنظیمیں اسلام کے تعارف کے ساتھ کیوں ابھرتی ہیں۔ اگر علماء نے اس فکر کو عام کیا ہوتا کہ اسلام کے نزدیک مسلح جدوجہد غیر شرعی ہے تو مختلف ممالک کے نوجوان جن میں پڑھے لکھے نوجوان بھی شامل ہیں انتہا پسند تنظیموں میں کیسے شامل ہو سکتے تھے۔اس کے ساتھ ساتھ علمائے اسلام کو عالم اسلام کی زبوں حالی پر بھی غور کرنا چاہیے ۔ مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک کیا جا رہا ہے ' میانمار کے مسلمانوں پر جس طرح زندگی تنگ کی جا رہی ہے ۔ فلسطین میںجس طرح اسرائیلی اپنا قبضہ بڑھائے جا رہے ہیں اور ان کے لیے راستے بند کیے ہوئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جس طرح مسلمان مسلمانوں کے ہاتھوں قتل اور بے گھر ہو رہے ہیں۔ شام میں حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں اور اس سے عالم اسلام کو جو خطرات لاحق ہیں ' یورپ اور امریکہ میں جس طرح مسلمانوں کے لیے زندگی دو بھر بنائی جا رہی ہے ۔ جب تک ان تمام معاملات پر علمائے کرام اور اس طرح کے اجتماع کرنے کی صلاحیت رکھنے والے سیاستدان اور عالمی سطح پر مسلمانوں کی رہنمائی کرنے والے افراد عملی طور پر توجہ نہیں دیں گے اور کچھ کامیاب اقدامات سامنے نہیںآئیں گے اور خود سے وابستہ توقعات پوری کرنے پر توجہ نہیں دیں گے عقیدت آمیز ہونے اور کامیابی کا تاثر ہونے کے باوجود اسے مسلمانوں کی فلاح قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اجتماع کے اختتام پر امت مسلمہ کو درپیش بنیادی حقیقی اور سنگین مسائل بارے امت مسلمہ کو کوئی ٹھوس لائحہ عمل تجویز نہ ہوا تو یہ لوگوں کا عظیم اجتماع ضرور کہلائے گا مگر ثمر آور نہیں۔

متعلقہ خبریں