Daily Mashriq


بلوچوں کے زخموں پر صرف الفاظ سے مرہم نہیں رکھا جاسکتا

بلوچوں کے زخموں پر صرف الفاظ سے مرہم نہیں رکھا جاسکتا

سابق صدر آصف علی زرداری نے جعفر آباد میں بلوچ بھائیوں کو مخاطب کرتے ہوئے بڑی مناسب بات کی ہے۔ انہوں نے جن حقائق کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے ان سے اختلاف کی گنجائش نہیں بلکہ بلوچ بھائیوں کو اس پر ٹھنڈے دل سے غور کرلینا چاہئے۔سابق صدر کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ بھارت ہمارے بلوچ بھائیوں کو گمراہ کر رہا ہے اور ہمارے نا سمجھ دوستوں نے پہاڑوں پر جا کر اپنا ہی نقصان کیا۔بلوچستان کی پسماندگی اور محرومیوں کی ذمہ داری تمام حکومتوں پر عائد ہوتی ہے ساتھ ہی بلوچ نمائندے بھی برابر کے قصور وار ہیںجو عوام کے مفاد اور ان کے مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر رہے۔ بلوچستان کے منتخب نمائندوں کی غفلت اور مفاد پرستی کے باعث بلوچ عوام کے احساس محرومی میں مزیداضافہ نہ ہوا۔ غلط راہ پر چلنے والوں کو اگر بہکایاگیا تو ان کو اس طرف دھکیلنے میں ہماری حکومتوں اور بلوچ نمائندوں ا بھی کم قصور نہیں بلکہ وہ اس کے برابر کے ذمہ دار ہیں۔ قدرت نے بلوچستان کوسونے، چاندی اور گیس کی معدنی دولت سے مالا مال کر رکھا ہے مگر افسوس اس کے فوائد و ثمرات سے وہ محروم ہیں۔صدر زرداری کا کہنا بجا ہے کہ ہمارے جو بلوچ بھائی بھارتی بہکاوے میں آ کر آزادی کی باتیں کر رہے ہیں۔وہ انٹرنیٹ پر جا کر بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار دیکھ لیں۔آصف زرداری کا کہنا تھا کہ سی پیک کے حوالے سے ہمارے کچھ دوستوں کو غلط فہمیاں ہیں لیکن پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ پورے پاکستان کا منصوبہ ہے۔ہمارے سیاسی قائدین اور حکمران جلسوں اور اجتماعات میں تو بلوچ عوام کے غمخوار ہونے کا حق ضرور ادا کرتے ہیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ وقت آنے پر بلوچوں کی اشک شوئی کم ہی کی جاتی ہے۔ اگر یہ صورتحال نہ ہوتی تو آج ہمارے بعض بلوچ بھائی مایوسی کے عالم میں اپنے ہی پائوں پر کلہاڑی نہ ما ررہے ہوتے۔ بلوچستان کے عوام کی محرومیاں دور کرنے اور اس کا ازالہ کرنے پر اب تو ہر سطح پر سنجیدہ اور متین اقدامات ہونے چاہئیں اور عملی طور پر ناراض بلوچ بھائیوں کو منانے اور ان کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی سعی ہونی چاہئے۔

متعلقہ خبریں