Daily Mashriq

درگاہیں' آستانے' عامل ' جادوگر اور جعلی پیر

درگاہیں' آستانے' عامل ' جادوگر اور جعلی پیر

سرگودھا کے قریب ایک ''درگاہ'' میں بیس مریدوں کے ہولناک قتل کی واردات پر پولیس حرکت میں آئی اور ''پیر'' کو گرفتار کر لیا گیا۔ اب مقدمہ چلے گا۔ کوئی کہے گا کہ قاتل جنونی ہے ' کوئی کہے گا کہ ''درگاہ'' پر قبضہ کرنے کے لیے یہ اجتماعی قتل کیا گیا ہے۔ لیکن معاشری سطح پر اس کا نوٹس نہیں لیا گیا۔ اہل تصوف نے بھی اس پر کوئی اظہارِ خیال نہیں کیا۔ حالانکہ عام تاثر یہی ہے کہ اس ''درگاہ'' پر ''روحانی صفائی'' اور تصوف ہی کی کسی قسم کی مشقیں ہوتی تھیں۔ شاید اہل تصوف نے اس ''درگاہ'' اور اس میں ہونے والی مشقوں کو تصوف کے دائرے سے خارج قرار دینے ہی میں عافیت سمجھی ہے حالانکہ ان سے توقع تھی کہ وہ اس واردات کی بنا پر تصوف پر جو الزام آتے ہیں ان کی وضاحت کرتے اور بتاتے کہ یہ ''درگاہ'' تصوف سے متعلق کیوں نہیں سمجھی جانی چاہیے۔ علماء کی طرف سے بھی اس واردات پر کوئی تبصرہ نہیں آیا حالانکہ ان سے توقع تھی کہ وہ ایسی وارداتوں اور درگاہوں کے بارے میں بتاتے کہ ان کا بھی اس سے کوئی تعلق نہیں ہے یا ہے تو اس کا جواز کیا ہے۔ نفسیات اور گروہی نفسیات کا مضمون ایک عرصے سے پڑھایا جا رہا ہے۔ ان علوم کے اساتذہ یا طالب علموں نے بھی اس ہولناک واردات کو تحقیق کے لائق نہیں سمجھا۔ نہ کسی این جی او نے اس طرف دھیان دیا ' نہ عوام کے کسی دردمند نے آواز اُٹھائی کہ ایسی ''درگاہوں'' ، آستانوں پیر خانوں میں روحانی علاج کے نام پر جعلی پیر عامل ' جادوگر جو کچھ کرتے ہیں جس سے کم آگاہ' بے گناہ انسانوں کی زندگیوں کو جو خطرات لاحق ہیں ان کا مداوا ضروری ہے۔ ایسی کوئی تحقیق موجود نہیں ہے کہ ملک میں کتنی درگاہیں ' آستانے ہیں جہاں روحانی علاج کے نام پر سرگرمیاں ہوتی ہیں ایسے کتنے پیر ہیں جو یہ علاج کرتے ہیں۔ کتنے عامل بابے ہیں جو جادو کرتے ہیں یا جادو کا توڑ کرتے ہیں۔ ان ''طریقہ ہائے علاج'' کی تعلیم کہاں ہوتی ہے۔ کیسے یہ عامل جادوگر اور پیر کم آگاہ اور توہمات میں گرفتار لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے کا منصب حاصل کرتے ہیں اور انہیں لوٹتے ہیں۔ ایک وکیل نے البتہ سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پیروں ' عاملوں ' جادوگروں کے ''روحانی یا نفسیاتی'' علاج کرنے پر پابندی عائد کی جانی چاہیے اور روحانی نفسیاتی علاج کو ضابطہ میں لانے کے لیے قانون سازی کی جائے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ نام نہاد معالج ایک طرف شریعت کے علم اور اس میں مہارت سے عاری ہیں۔ درخواست گزار نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے ایلو پیتھی طریقہ ٔ علاج کے لیے میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل قائم کی ہوئی ہے۔ اسی طرح طب اور ہومیو پیتھی کے طریق علاج کے لیے کونسلیں ہیں۔ لیکن روحانی معالجوں 'ساحروں اور عطائی معالجوں کی رجسٹریشن اور نگرانی کے لیے کوئی ادارہ نہیں ہے۔ دیکھئے اس درخواست کو کب پذیرائی حاصل ہوتی ہے لیکن معاملہ کچھ اتنا سادہ نہیں ہے۔ جہاں تک قانون سازی کی بات ہے کوئی ایسا ضابطہ ضرور ہونا چاہیے جس میں نام نہاد روحانی یا غیر روایتی علاج کے لیے قائم درگاہوں ' آستانوں 'پیر خانوں کی رجسٹریشن ہو۔ یہ بات تحریر کی جائے کہ اس جگہ کون سا طریقۂ علاج استعمال کیا جاتا ہے۔ رجسٹریشن میں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ''روحانی یا سحری'' علاج کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اس روحانی معالج یا ساحر کے بارے میں بھی یہ معلومات ہونی چاہئیں کہ اس کا تعلق اگر وہ صوفی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو تصوف کے کس سلسلہ سے ہے یا کس طریقہ علاج میں دسترس رکھتا ہے۔لیکن قانونی پابندی کے نفاذ سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ اس پر عمل درآمد بھی سو فیصد ہو جائے گا اور جادوگر اور نام نہاد روحانی معالج مفقود ہو جائیں گے۔ توقع یہ کی جا سکتی ہے کہ چھپ چھپا کے یہ کام جاری رہے گا اور اس کی قیمت بڑھ جائے گی۔ یہ کاروبار عام لوگوں کی کم آگاہی یا توہم پرستی کی وجہ سے ہو رہا ہے اور عام لوگوں کی ناآسودگی ' سماجی الجھنوں یا ذہنی دباؤ کی وجہ سے فروغ پاتا ہے۔ ایک مطالعہ کا لب لباب یہ ہے کہ پاکستان میں ساٹھ فیصد لوگ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ اور دوسری طرف عمومی علاج اس قدر مہنگا ہے کہ عام لوگ اس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اور نفسیاتی علاج تو اس سے بھی کہیں زیادہ مہنگا ہے۔ لوگوں میں نفسیاتی علاج کے بارے میں کم آگاہی ہے۔ نفسیاتی معالجوں کی تعداد بھی کم ہے اس لیے جو ہیں وہ بھاری فیسیں وصول کرتے ہیں۔ یہ بھاری فیسیں وہی لوگ ادا کر سکتے ہیں جو متمول ہیں اور نفسیاتی علاج کو طریقہ ٔ علاج جانتے ہیں۔ اس لئے کم آمدنی والے لوگ نہ اس کی قیمت برداشت کر سکتے ہیں نہ اس کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ ان وجوہ کی بنا پر درگاہوں' آستانوں ' پیر خانوں' جادوگروں ' عاملوں اور جعلی پیروں کا معاملہ محض قانون سازی کا معاملہ نہیں ہے۔ ایک طرف عمومی کم آگاہی کا معاملہ ہے دوسری طرف غیر اخلاقی طریقوں سے دولت سمیٹنے کا معاملہ ہے۔ سرگودھا کی واردات کا پیر انیس گریڈ کا افسر رہ چکا ہے۔ لہٰذا اس کا بہت سی ایسی ادویات سے واقف ہونا بعید ازقیاس نہیں جو انسانی حواس کو مختل کردیں اور وہ اپنے مریدوں کو آسانی سے قتل کر دے۔ یہ معاملہ کم آگاہی کا تو ہے ہی لیکن جعلی ادویات' زائد المیعاد اور ایسی ادویات کی فروخت کا بھی ہے جنہیںسپیشلسٹ کی اجازت کے بغیر فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ شراب' افیون اور چرس کے روایتی نشوں کے علاوہ طرح طرح کی ادویات اور کیمیکل نشے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ قوانین تو ہیں لیکن ان ادویہ کے حوالے سے قوانین پر عملدرآمد پوری طرح نہیں ہو رہا۔ رہا غیرروایتی طریقہ ہائے علاج کا معاملہ ان کی تحقیق کے لیے ادارے قائم کیے جانے چاہئیں۔ مغرب میں پیراسائیکالوجی پر تحقیق کے ادارے ہیں۔ جب غیر روایتی طریقوں کی تحقیق اس نہج پر پہنچ جائے کہ یہ باقاعدہ نظام علاج ثابت ہو جائیں اس وقت تک ان کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم ان پر تحقیق کے دروازے بند نہیں کیے جانے چاہئیں۔

متعلقہ خبریں