Daily Mashriq

تصدیق' در تصدیق' در تصدیق

تصدیق' در تصدیق' در تصدیق

ایک زمانہ تھا ہم بھی گزٹڈ افسر کہلاتے تھے۔ حضرت میر کا فرمانا اگر مستند تھا تو اسی طرح ہم بھی جب کسی کاغذ پر مہر تصدیق ثبت کردیتے تو وہ سرکار کے ہر دربار میں سند قبولیت کا درجہ حاصل کرلیتا۔ یہ بھی پرانے وقتوں کی بات ہے' بے روزگار تھے ہم اپنی تعلیمی اسناد ایک تھیلی میں ڈال کر ان کی تصدیق کے لئے گزٹڈ افسروں کی تلاش میں مارے مارے پھرتے تھے۔ ہمیں یاد پڑتا ہے ایک دفعہ محکمہ بجلی کے ایک ایکسیئن صاحب کی خدمت میں اپنی اسناد کی تصدیق کے لئے حاضر ہوئے' ان سے براہ راست ملاقات کا شرف تو حاصل نہ ہوسکا ان کے پی اے کو ہماری حالت پر رحم آیا اور ہماری اسناد کی ٹائپ شدہ نقول مع اصلی اسناد کے ایک فائل میں رکھ کر ان کی خدمت میں اندر بھیج دیں۔ہم باہر چپڑاسی کے ساتھ لکڑی کے بنچ پر بیٹھے دو ایک گھنٹے انتظار کرتے رہے۔ خدا خدا کرکے بلاوا آیا۔ اندر گئے تو پی اے نے ہماری اسناد واپس کرتے ہوئے کہا' صاحب نے تصدیق نہیں کیں۔ چلو موڈ میں نہیں تھے مناسب نہیں سمجھا لیکن غضب انہوں نے یہ ڈھایا کہ ہماری اسناد کی ہر نقل پر تصدیق کے بجائے جلی حروف میں انگریزی میں سرخ روشنائی کے ساتھ یہ بھی لکھ دیاAm I an attestation agency کیا میں نے تصدیق ناموں کی دکان کھول رکھی ہے اور ہمیں ایکسیئن صاحب کی فرعونیت کی وجہ سے ساری دستاویزات ایک بار پھر کچہری جا کر ٹائپ کروانا پڑیں۔ ہم جب بہ لحاظ عہدہ اسناد کی تصدیق کے مجاز بنے تو یہ واقعہ ہمارے ذہن میں تھا اس لئے ہم نے کسی ضرورت مند کو مایوس نہیں کیا۔ضلع کچہری میں ایک ذات شریف نوٹری پبلک کہلاتے ہیں ان کے سامنے ایک چھوٹی سی میز پر ایک رجسٹر' سٹیمپ پیڈ اور کچھ مہریں دھری ہوتی ہیں' نوٹری پبلک ہمیشہ پلک جھپکنے میں آپ کی کسی کاغذ پر مہر تصدیق ثبت کرکے اسے قانونی دستاویز میں تبدیل کردیتے ہیں اور ان کا باقاعدہ معاوضہ وصول کرتے ہیں۔ اچھی بات ہے عوام کو سہولت رہتی ہے۔ تصدیق نامے کا یہ میتھ (Myth) ہمارے دوست نعیم صادق کے بقول سرکار کا مرہون منت ہوتا ہے۔ سرکار نے کسی بھی قابل قبول دستاویز کے لئے سٹامپ ضروری قرار دیا ہے۔ اب تو یہ سٹامپ پیپر ان پر لکھی قیمت سے تین اور چار گنا زیادہ قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے۔ ہم نے خود گزشتہ ہفتے پچاس روپے کا سٹامپ پیپر 350روپے میں خریدا۔آپ کو درخواست کے لئے بھی سبز رنگ کا کاغذ سٹامپ فروش سے خریدنا پڑتا ہے۔ کیا عوام کو وقت کے ضیاع' تصدیق ناموں کے لئے خواہ مخواہ کی بھاگ دوڑ اور مالی نقصان سے بچایا نہیں جاسکتا۔ جی نہیں عوام کو لا یعنی کاموں میں مصروف رکھنا سرکار کی ترجیحات میں شامل ہے۔ دستاویز کی تصدیق کسی گزٹڈافسر کی بجائے کوئی بھی خواندہ شخص مالی یا وہ سائل ازخود کیوں نہیں کرسکتا۔ تصدیق در تصدیق کے اس پاگل پن کی ایک مثال ہمارے دوست نعیم صادق نے ہمیں روانہ کی ہے۔ ملاحظہ کیجئے ' عبرت پکڑئیے یا پھر دھنئے۔ زید اور بکر نام کے دو بھائی جہلم کے کسی گائوں میں اپنی جائیداد کا کچھ حصہ فروخت کرنا چاہتے تھے۔ زید کراچی میں مقیم تھا اور بکر کینیڈا میں رہائش پذیر تھے۔ انہیں بتایا گیا کہ یا تو بکر کو کینیڈا سے آنا پڑے گا یا پھر وہ مختار نامہ بھیجے گا۔ بکر نے بڑے اہتمام سے مختار نامہ تیار کیا' اس کے ہر پرت پر دستخط کئے' اپنی تصویرچسپاں کی'اور شناختی کارڈ کی مصدقہ کاہلی کے ساتھ یہ دستاویز کراچی میں اپنے بھائی زید کو ارسال کردی۔ وہ مختار نامہ لے کر جہلم آگیا۔ وہاں ضلع کچہری میں اسے معلوم ہوا کہ یہ مختار نامہ محض کاغذ کا ایک بے کار ٹکڑا ہے پہلے اس پر کینیڈا میں پاکستانی سفارت خانے کی تصدیق کرائو۔ کاغذ کا وہ ٹکڑا واپس کینیڈا پہنچا' وہاں اس کے بپتسمہ کی رسم ادا ہوئی اور دوبارہ پاکستان آیا۔ یہاں آکر پتہ لگا کہ سفارت خانے میں دستاویز کی تصدیق تو ضروری تھی لیکن کافی نہ تھی۔ اب اس پر کراچی میں پاکستانی دفتر خارجہ کی توثیق بھی لازمی ہے۔ لیکن توثیق نامے کے لئے یہ شرط رکھی گئی کہ یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب کینیڈا میں پاکستانی سفارت خانہ اپنی تصدیق کی توثیق نہ فرمادے۔ چونکہ وہی ریجنل سورس ہے۔ زید کو کراچی جانے سے پہلے جہلم میں پورے پندرہ دن تک ٹھہرنا پڑا۔ خوش قسمتی سے کینیڈا میں پاکستانی سفارت خانے نے اپنی تصدیق کی توثیق کرکے مختار نامہ واپس کردیا اور اس طویل کارروائی کے بعد کراچی کے دفتر خارجہ میں بیٹھے مجاز افسر نے سٹیمپ لگائے' مہر چسپاں کی اور اس پر اپنے دستخط ثبت کردئیے۔ اب یہ مختار نامہ ایک مقدس دستاویزبن چکا تھا۔ زید خوشی سے نہال یہ مقدس کاغذ بغل میں دابے جہلم کی ضلع کچہری پہنچا۔ وہاں کلرک بادشاہ نے یہ انکشاف کیا کہ اب ان تمام تصدیق در تصدیق کے عمل پر ایک بار پھر کراچی کے دفتر خارجہ کی توثیقی مہر لگانا بھی ضروری ہے۔ زید نے بال نوچتے ہوئے کہا کہ ان کی مہر تو اس پر پہلے سے موجود ہے۔ جی ہاں' وہ تو ہے کلرک بادشاہ نے بتایا ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کراچی فارن آفس کے یہ تمام تصدیق نامے جعلی تو نہیں۔ ان کی توثیق در توثیق کے بعد ہی یہ مختار نامہ قانون کی نظروں میں قابل قبول سمجھا جائے گا۔ معزز قارئین' اس سانحے پر ہماری جانب سے مزید حاشیہ آرائی ڈرامے کا اینٹی کلائمکس بن جائے گا اور ہمارا اپنا فشار خون بھی مزید لکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ہم صرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیں قانون' عوام کی دشواریوں کے حل کے لئے بنائے جاتے ہیں یا انہیں مسائل کے ایک دلدل میں دھکیل کر انہیں مزید پریشان کرنا مقصد ہوتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیٹا بیسز کے اس جدید دور میں عوام کو اٹھارہویں صدی کے حالات سے گزارنے کی منطق ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔ آپ کی سمجھ میں آتی ہے تو بتادیں ہم شکرانے کے دو نفل ادا کریں گے۔

متعلقہ خبریں