Daily Mashriq


اچھی قیادت کا فقدان

اچھی قیادت کا فقدان

سیاست بھی کیا مزے کی چیز ہے سب اس پر بات کرتے ہیں۔اس میں دلچسپی لیتے ہیں اسے برا بھلا بھی کہتے ہیں اور سیاسی رہنمائوں کی خوشامد بھی خوب کرتے ہیں اگر کسی تقریب میں کسی وزیر باتدبیر پر نظر پڑجائے تو سب ان سے مصافحہ کرنے کے لیے لپکتے ہیں۔ہم سے اکثر قارئین یہ فرمائش کرتے ہیں کہ سیاست پر لکھا کریں ہم ان سے کہتے ہیں کہ ہمارے لکھنے سے کیا ہوتا ہے بہت سے لوگ سیاست پر لکھ رہے ہیں ہم تو چاہتے ہیں کہ عوامی فلاح و بہبود کے حوالے سے شعور اجاگر کیا جائے۔ سماجی مسائل پر بات کی جائے انسانی رویوں کو موضوع بحث بنایا جائے سب سے پہلے ہم اچھے انسان بنیں پھر سیاست بھی ہوتی رہے گی لیکن کس کو کہہ رہے ہو؟ یہ عام مشاہدہ ہے کہ اگر چار بھائی ہیں تو دو ایک جماعت میں ہوں گے تو دو کسی دوسری جماعت میں کبھی کبھی تو بات اتنی آگے نکل جاتی ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ ملنا جلنا تک ختم ہو جاتاہے۔اسی طرح دوران انتخابات قتل مقاتلے تک ہو جاتے ہیں زندگی کے چراغ گل ہو جاتے ہیں ۔کبھی کبھی ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔لوگ اتنے زیادہ جذباتی کیوں ہو جاتے ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ عوام پارٹی کے منشور کو دیکھیں رہنمائوں کے کردار کا بغور مشاہدہ کریں اگر وہ پہلے الیکشن جیت کر حکومت کر چکے ہیں تو ان کی کارکردگی کو دیکھیں۔ جو دعوے انہوں نے دوران الیکشن کیے تھے عوامی فلاح وبہبود کے جو منصوبے پیش کیے تھے ان پر کس حد تک عمل درآمد کیا۔ یہی وہ پیمانے ہیں جن کی روشنی میں عوام کو اپنے لیے سیاسی جماعتیں منتخب کرنی ہوتی ہیں ۔ یہ سب باتیں تو اپنی جگہ لیکن بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے یہاں ایسا نہیں ہوتا یہاں رہنمائوں کے کردارکو بہت کم دیکھا جاتا ہے اگر کسی ایک سیاسی پارٹی کے ساتھ وابستگی ہو گئی تو پھر اس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا ئے جاتے ہیں اس کے رہنمائوں کی غلطیوں یا بڑی بڑی کوتا ہیوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ مختلف حیلے بہانوں اور بڑے بھونڈے قسم کے دلائل سے ان کی صفائی پیش کی جاتی ہے۔ لیکن ایک بات ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ پاکستان صرف سیاستدانوں کی ذمہ داری نہیں ہے یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ کل ایک دوست نے سوال اٹھایا کہ ہم کیوں پریشان ہیں مہنگائی روز بروز بڑھتی چلی جارہی ہے۔دہشت گردی کا عفریت منہ کھولے سب کو ہڑپ کر رہا ہے کیا وجہ ہے جو ہم لوگ ہر محاذ پر پیچھے ہٹ رہے ہیں ہمارے پاس وسائل کی بھی کمی نہیں ہے اللہ پاک کا دیا ہوا سب کچھ بہت ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے معاملات درست ہونے کا نام ہی نہیں لیتے ۔دوسرے صاحب کہنے لگے جناب ہمارے یہاں اچھی قیادت کا فقدان ہے اگر ہمارے رہنما اپنے وطن سے مخلص ہوتے انہیں اپنی قوم کی فکر ہوتی تو آج ہمارے حالات بہت اچھے ہوتے۔ ہم بھی وہاں موجود تھے ہم سے نہ رہا گیا تو ہم نے ان سے پوچھا کہ اچھی قیادت کیسے آئے گی؟کہاں سے آئے گی ؟کیا آسمان سے آئے گی یا اچھی قیادت کو ہم لوگوں نے لے کر آنا ہے؟ میرے بھائی اچھی قیادت تب آگے آتی ہے جب ہم لوگ اچھے ہو جاتے ہیں اچھی قیادت کا تعلق ہماری سوچ و فکر کے ساتھ ہے ہم اپنے لیے کیسے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ کیا ہم دوران الیکشن اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں اور اپنے ذاتی تعلق کی وجہ سے اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں یا وطن عزیز کی فلاح وبہبود اور بھلائی ہمارے پیش نظر ہوتی ہے۔ اس میں کو ئی شک نہیں ہے کہ ہمارے ہاں مسائل بہت زیادہ ہیں تعلیم کی کمی بھی ہے شعور کی کمی بھی ہے لوگوں کی مجبوریاں بھی ہیں وڈیروں اور نوابوں اور صنعت کاروںکے بنائے ہوئے شکنجے بھی موجود ہیں جن میں عوام کو جکڑ کر ان کی مجبوریوں سے فائدہ بھی اٹھایا جارہا ہے لیکن اس سب کچھ کے باوجود بہت کچھ ہو سکتا ہے عوام کو تربیت دینے کی ضرورت ہے انہیں اپنے حقوق سے با خبر کرنے کی ضرورت ہے۔ آج بلوچستان میں حقوق کے حصول کے نعرے لگ رہے ہیں علیحدگی کی باتیں کی جارہی ہیں یقین کیجیے اگر بلوچ عوام اس بات پر غور وفکر کریںکہ ان کے مسائل کی بنیادی وجہ کیا ہے انہوں نے تعلیم کس حد تک حاصل کی۔ انہوں نے اپنے لیے جو نمائندے چنے انہوں نے ان کے لیے کیا کیا؟ انہیں تو مرکز سے فنڈز ملتے رہے جس طرح دوسرے صوبوں کو ملتے ہیں لیکن کیا ان کے نمائندوں نے ان کو عوامی بھلائی کے کاموں میں استعمال کیا یا وہ اپنی پگڑیاں ہی اونچی کرتے رہے ان کے بچے تو بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے رہے وہ تو نسل در نسل حکمران رہے لیکن کیا انہوں نے عام آدمی کے لیے بھی کچھ کیا یا عام آدمی ان کے حجروں میں ان کی خدمت ہی کرتا رہا۔عوام کو یہ شعور ہونا چاہیے کہ وہ جن لوگوں کو نمائندگی کا حق دیتے ہیں انہوں نے اقتدار میں آکر ان کی خدمت کرنی ہے۔اگر وہ یہ سب کچھ کرسکتے ہیں تو صحیح ہے ورنہ پھر عوام کو صدیوں سے بنائی ہوئی ان زنجیروں کو توڑنا ہوگا اس نظام کے خلاف اٹھنا ہوگا!

متعلقہ خبریں