Daily Mashriq

جمعیت العلمائے اسلام اور مولانا مُفتی محمود

جمعیت العلمائے اسلام اور مولانا مُفتی محمود

جمعیت العلمائے اسلام کی صد سالہ تقریبات خیبر پختون خوا کے ضلع نو شہرہ کے گائوں اضا خیل میںجاری ہیں ۔ ان میں دنیا کے جید علمائے کرام، سیاسی اور مذہبی قائدین کے علاوہ خانہ کعبہ کے امام بھی تشریف فرماہیں۔ جمعیت العلمائے ہند جسکو ابھی جمعیت ا لعلمائے اسلام(ف) گروپ کہا جاتا ہے اسکی بنیاد 1919ء میں رکھی گئی۔

اسکی تا ریخ بُہت ایک صدی پر محیط ہے۔ مگرجمعیت العلمائے اسلام اور جناب مولانا مُفتی محمودکے نام کوایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔دونوں ایک دوسرے کے بغیر نا مکمل ہیں۔مولانا مُفتی محمود جو کسی تعارف کے محتاج نہیںوہ 1970 کے عام انتخابات کے بعد اس پا رٹی کے صدر بنے۔ جہاں تک مولانا مُفتی محمود کا تعلق ہے وہ نہ صرف ایک جید عالم دین تھے بلکہ بُہت بڑے سیاست دان بھی تھے ۔ مولانا مُفتی محمود ختم نبو ت کی تحریک میں بھی پیش پیش رہے اور ختم نبو ت کی تحریک کی وجہ سے 1953ء میں ملتان میں ایک سال جیل کا ٹی ۔1962 ء کے انتخابات میں مولانا مفتی محمود ایوب ما رشل لاء کے دور میں بی ڈی سسٹم کے تحت ڈیرہ اسماعیل خان کی نشست پر بی ڈی ممبر مُنتخب ہوئے اور اپنے مد مقابل 6 امیدواروں کی ضمانتیں ضبط کرا وائیں۔جہاں تک مولانا صاحب کی ابتدائی زندگی کا تعلق ہے تو مو لانا صا حب نے زمانہ طالب علمی کے دور میں 1937 ء کے انتخابات میں بھر پو ر حصہ لیا۔1944ء میں ہندو ستان چھو ڑ دو تحریک میں عملاً شریک ہوئے۔ 1945ئمیں عام انتخابات میں صوبہ سرحد کے جنوبی اضلاع میں حضرت مدنی کے ساتھ رہے۔1962 کے بی ڈی الیکشن کے بعد 1970 کے عام انتخابات میں دوسری دفعہ قومی اسمبلی کے ممبر مُنتخب ہوئے اور پاکستان پیپلز پا رٹی کے بانی چیر مین قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کو 13 ہزار ووٹوں سے شکست دی۔1977کے عام انتخابات میں مولانا مفتی محمود ڈیرہ اسماعیل خان اور ڈیرہ غازی خان دونوں سیٹوں سے کھلی دھاندلی کے با وجود بھی بھاری اکثریت سے جیت گئے۔ 1970ئکے عام انتخابات میں انکی پا رٹی نیشنل عوامی پا رٹی اور پی پی پی کے ساتھ اتحاد میں شامل تھی۔ ما رچ 1972میں مولانا مفتی محمود کو صوبہ سر حد کا وزیر اعلی بنا دیا گیا ۔ مگر مولانا مُفتی محمود اپنی کابینہ سمیت اُس وقت مستعفی ہوئے جب ذوالفقار علی بھٹو نے بلو چستان میں اے این پی اور جمعیت العلمائے اسلام کی مخلو ط حکومت ختم کر دی۔جہاں تک مولانا مُفتی محمود کے وزارت اعلیٰ کے دور کا تعلق ہے ۔ اسی میں مولانا صاحب نے صوبہ سر حد میں شراب پر پابندی لگا ئی۔ دفتری زبان اُر دوکو قرار دیا۔ اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے میں کلیدی اور اہم کردا ر ادا کیا۔مولانا مُفتی محمود ایک عظیم مذہبی شخصیت تھے۔ اُنہوں نے 3 دفعہ1963ئ، 1966ء اور 1975ء میں قاہرہ کے جامعہ ازہر کے تحت منعقد مجمع الحدیث اسلامیہ کے اجلاسوں میں شرکت کی اور جدید مسائل سے متعلق قُر آن اور احا دیث کی روشنی میں مقالے ترتیب دے کر پیش کئے۔ عرب ممالک کے دورے کرتے رہے اور وہاں ہمیشہ عربی زبان میں پاکستان کی وکالت کرتے رہے۔

مفتی صاحب 1968 ء میں پنڈی میں بین الاقوامی اسلامی کانفرنس میں شریک ہوئے۔ 1969ئمیں سعودی عرب میں حسن قرأ ت میں وہاں کی حکومت کی دعوت پر شریک ہوئے۔ 1980 میں دارالعلوم دیوبند اجلاس میں پاکستان علمائے کرام کی قیادت فرماتے ہوئے وہاں تا ریخی خطاب کیا۔ 1956کے آئین کا مطالعہ کیا اور ان میں جو ترامیم کرنی تھیں ان کو رسالے کی شکل دی۔ جہاں تک جمعیت العلمائے اسلام کا پاکستان کے تا ریخ میں کردار کا تعلق ہے تو اس جماعت نے پہلی دفعہ پاکستان کا پر چم لہرایا تھا۔ 1949 ء میں قرار داد مقاصد کو آئین کی بنیاد بناکر اسمبلی سے منظور کر وایا۔ 1953 میں تحریک ختم نبوت چلائی اور 1956 میں آئین کے لئے مسودہ تیار کرنے والے مولانا صاحب تھے۔ عائلی قوانین میں شامل غیر اسلامی شقوں کی مخا لفت جے یو آئی اور جماعت اسلامی نے کی تھی۔1971 میں جی یو آئی اور جماعت اسلامی سقوط ڈھاکہ میں پیش پیش تھیں۔1973 کے پاکستان کے متفقہ آئین مولانا صا حب پیش پیش رہے۔1974 میں تحریک ختم نبو ت میں مولانا مفتی محمود کے کردار کو سُنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔ وزیر اعظم بھٹو کے خلاف 1977 کے عام انتخابات میں دھاندلی اور تحریک نظام مصطفی کے9 سیاسی جماعتوں پر مشتمل قومی اتحاد کی قیادت جے یو آئی کو دی گئی تھی۔جیسا کہ مولانا مو دودی اورنواب زادہ نصراللہ خان کا پاکستان کی سیاست میں ایک اہم مقام تھا اسی طرح ایک بلند مقام اور مرتبے کے مالک مولانا مُفتی محمودبھی تھے۔ جہاں تک جے یو آئی کی طاقت کا تعلق ہے یہ پا رٹی وہ نہ رہی جو مولانا مُفتی محمود کے دور میں تھی کیونکہ یہ پا رٹی مزید اور مذہبی پا رٹیوں میں تقسیم ہو گئی۔ اور اس پا رٹی سے جمعیت العلمائے اسلام (س) اور جمعیت ا لعلما نظریاتی وجود میں آئے۔ اور پاکستان کی دوسری سیاسی پا رٹیوں کی طرح اس پا رٹی کو مو روثی سمجھا جاتا ہے۔مگر بُہت سارے تضادات اور اختلافات کے با وجود بھی مولانا فضل الرحمان کامنبر اور محراب پر ہو لڈ ہے اوران کی قیادت میں اس پا رٹی کا پاکستان کی سیاست میں اہم اور کلیدی کردار ہے۔ہماری دعا ہے کہ ملک میں تمام اسلامی قوتیں ملک میں اسلامی نظام فلاح و بہبود کے لئے متحد ہوں۔

متعلقہ خبریں