Daily Mashriq

وزیراعظم کا چیلنج

وزیراعظم کا چیلنج

شاہد خاقان عباسی نے ایمنسٹی سکیم پر اعتراض کرنے والوں کو چیلنج کیا ہے کہ وہ پہلے اپنے ٹیکس کی ادائیگی ظاہر کریں اورکہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ کوئی بھی ایمنسٹی سکیم پر اعتراض کرنے کے لائق نہیں نکلے گا‘‘اس چیلنج سے صاف ظاہر ہے کہ وزیراعظم کو معلوم ہے کہ بہت سے ایسے لوگ ایمنسٹی سکیم پر اعتراض کررہے ہیں جو خود ٹیکس نہیں دیتے لیکن ٹیکس وصول کرنا بھی خود حکومت کی ذمہ داری ہے اور وزیراعظم کے لیے چیلنج۔جو حکومت سرکاری ٹیکس وصول نہیں کرسکتی وہ کیسے حکومت کا کاروبار چلا سکتی ہے۔اس کی شہادت حکمران مسلم لیگ کے دور حکومت کے قرضہ پالیسی میں نظر آتی ہے جس کے تحت بھاری قرضے لے کر کاروبار حکومت میںلگائے گئے نہ تو ٹیکس ادا کرنیو الوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا نہ ہی جائز ٹیکسوں کی وصولی میں بہتر کارکردگرگی کاثبوت فراہم کیا گیا ۔اور اب وزیراعظم نے ٹیکس نہ دینے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی بجائے ایمنسٹی سکیم کے ذریعے ان کے ’’کالے سرمائے کو سفید‘‘ کرنے کا بندوبست کیا ہے۔وہ بھی دو یا تین فیصدادائیگی کے عوض۔وزیراعظم نے ایمنسٹی سکیم کا اعلان کرتے ہوئے انکم ٹیکس کی ادائیگی کیلئے سلیب بھی آگے بڑھادی ہے۔ اب بارہ لاکھ سالانہ آمدنی پر انکم ٹیکس نافذ ہوگا۔لیکن اس اقدام کو ایمنسٹی سے الگ ہونا چاہیے تھا۔بارہ لاکھ آمدنی والوںکو انکم ٹیکس کی جو چھوٹ دی گئی ہے۔وہ چھوٹ ہے ایمنسٹی نہیں ہے۔ ایمنسٹی ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے اپنے اثاثے چھپائے ہیں اور ان پر ٹیکس ادا نہیں کیا جبکہ بارہ لاکھ آمدنی والے جنہیں چھوٹ دی گئی ہے وہ تنخواہ دار ملازم ہیں اور باقاعدہ اپنے ذمے کا ٹیکس ادا کرتے ہیں کم آمدنی والے تنخواہ دار ملازموںکو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ کرنے کا اقدام اثاثے چھپانے والوںکو معافی دینے کے ساتھ نتھی کرنے سے یہ پیغام گیا ہے کہ وزیراعظم نے خفیہ اثاثے رکھنے والوں کو معافی دینے کے اقدام کے لیے پذیرائی حاصل کرنے کی خاطر اسے کم آمدنی والے لوگوں کے ٹیکس میں چھوٹ کے ساتھ منسلک کیا ہے تاکہ جہاں ایک طرف خفیہ اثاثوں پر ٹیکس معافی پر اعتراض آئیں وہاں چند لاکھ تنخواہ دار ملازم بھی اس اعلان کا خیر مقدم کرنے کے لیے موجود ہوں جنہیں انکم ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے۔لہٰذا ایمنسٹی اور انکم ٹیکس سے استثنیٰ کو الگ الگ کرکے دکھانا چاہیے۔حکومت اسی ماہ بجٹ پیش کررہی ہے انکم ٹیکس میں چھوٹ کا اعلان بجٹ کا حصہ ہونا چاہیے تھا۔لیکن اس اعلان کو ایمنسٹی کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے تو اس کی حکمت پر بھی غور کیا جائے گا۔ ملک کی معیشت کی صورتحال آج ابتر نہیں ہوئی۔جیسا کے سطور بالا میں کہا گیا ہے حکمران(ن ) لیگ کی عرصے سے پالیسی قرضوں پر ملک کا کاروبار چلانے اور ٹیکسوں کی وصولی میں کم کوشی کی رہی ہے۔ٹیکسوں کی کماحقہ وصولی میں ناکامی،ملک سے سرمائے کا فرار اور کرپشن کا پیسہ ملک سے باہر بھیجے جانے کی خبریں آج سے نہیں ایک عرصے سے میڈیا میں نمایاں جگہ پارہی ہیں۔لیکن ایمنسٹی سکیم اس وقت شروع کی جارہی ہے جب حکمران لیگ کی حکومت کی مدت دنوں میں گنی جارہی ہے۔ یہ کام یا تو اقتدار میں آنے کے فوراً بعد کیا جانا چاہیے تھا یا پھر آئندہ منتخب ہونے والی حکومت پر چھوڑ دیا جانا ہی مناسب ہوتا۔اس وقت جب عام انتخابات قریب ہیں ایمنسٹی سکیم کا اجراء بہت سے سوال ابھارتا ہے کیا حکمران مسلم لیگ اس طرہ امتیاز کے ساتھ انتخابی میدان میں اترنے کا ارادہ رکھتی ہے کہ اس نے کالے روپے والوں کو اپنا روپیہ معمول ادائیگی کے ذریعے جائز کرانے کا موقع دیا۔اگر اس سکیم کی بدولت کسی سرمایہ واپس ملک کی معیشت میں نہ آیا تو اس سے حکمران لیگ کو سیاسی طورپر نقصان ہوسکتا ہے۔حکومت کو توقع ہو گی کہ ایمنسٹی سکیم کی بدولت زرکثیر قومی معیشت میں آجائے گا۔اور بیرون ملک جن پاکستانیوں کے اثاثے ہیں وہ بھی ایمنسٹی کی سہولت حاصل کرنے کے لیے دو یا تین فیصد ادائیگی کردیں گے ۔توقع کی بنیاد یہ ہوسکتی ہے کہ ساری دنیا میں اس وقت کالے سرمائے کے خلاف مہم جار ی ہے اب سوئس بنک بھی اخفا کی ذمہ داری نبھانے کو تیارنہیں آرگنائزئشن آف اکنامک کارپوریشن اینڈ ڈویلپمنٹکے زیر اہتمام ٹیکس گزاری کے متعلق معاہدے اپنی جگہ ہیں جن کو پاکستان نے بھی تسلیم کیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت کے اندازے کے مطابق ایسے پاکستانیوں کا بیرون ملک ایسا سرمایہ کتنا ہے۔جس پر انہوںنے ٹیکس نہیں دیا ہے اگر حکومت کے اندازے کے مطابق اس سرمائے کی مقدار اس قدر بھاری ہے کہ اس پر دو یا تین فیصد ادائیگی کی رقم بھی پاکستان کی معیشت کو سنبھالا دے سکتی ہے تو اس کا اعلان کیا جانا چاہیے تاکہ ایمنسٹی سکیم پر اعتراض کسی قدر کم یا نرم ہوسکے ایساکوئی تخمینہ جاری نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے بھی سکیم پر اعتماد با لعموم نہیں ہورہا ۔ماسوائے ان تجارتی ماہرین کے جو اس سکیم کے حامی ہیں یا جن کے مشورے سے یہ سکیم بنائی گئی ہے۔(حکومت کی طرف سے کہاگیا ہے کہ اس سکیم پر آٹھ مہینے سے کام ہورہا تھا) یہ سکیم اس وقت لائی گئی ہے جب سپریم کورٹ پاکستانیوں کے بیرون ملک (غیر اعلان شدہ)اثاثوں کا سو موٹو نوٹس لے چکی ہے۔عدالت نے اپنی اعانت کے لیے ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی بھی بنائی ہے لیکن وزیراعظم نے اس کیس کے فیصلے سے پہلے ہی ایمنسٹی کا اعلان کردیاہے۔اس طرح ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کردی گئی۔سکیم میں یہ تو پیشکش کی گئی ہے کہ دو یا تین فیصد ادائیگی کے ذریعے اثاثوں کو جو ٹیکس کی عدم ادائیگی کے باعث قابل تعزیر ہیں جائز کرایا جاسکتا ہے۔لیکن جن لوگوں کے اثاثے بیرون ملک ہیں ان کو وطن واپس لانے کی شرط عائدنہیں کی گئی اس طرح کتنا سرمایہ ادا کیا جاتا ہے۔اس کی قید نہیں ۔یہ اثاثے ظاہر کرنے والے پر منحصر ہیں لیکن دو یا تین فیصد ٹیکس کی ادائیگی کے لیے سرٹیفیکیٹ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یہ سر ٹیفکیٹ ان ملکوں کی حکومتوںکو پیش کیاجاسکے گا جہاں وہ سرمایہ موجود ہے لیکن اس سرمائے کو پاکستان لانے کی شرط سکیم میں نہیں ہے اس کے باوجود یہ کہا جارہا ہے کہ سرمایہ پاکستا ن میں آئے گا صنعتیں لگیں گی ترقی ہوگی تاہم جو لوگ آج اپنے سرمائے کو پاکستان میںمحفوظ نہیں سمجھتے وہ مستقبل میں کیسے اپنا سرمایہ واپس لائیں گے جبکہ انہیں حکومت پاکستان کی طرف سے استشنیٰد حاصل ہوچکا ہوگا کہ ان کے اثاثوںکو جائز قرار دیا جاچکا ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سکیم کے معترضین کو جو چیلنج دیا ہے اس میں یہ بات صاف ظاہر ہے کہ ان کی حکومت ایسے لوگوں سے جائز ٹیکس وصول کرنے میںناکام رہی ہے جو ان کی ایمنسٹی سکیم پر اعتراض کرتے ہیں ۔ دوسرے اس سکیم میں یہ اعتراض بھی ظاہر ہے کہ حکومت ایسے لوگوں سے ٹیکس وصول کرنے میں ناکام رہی ہے جو کالے سرمائے کے حامل ہیں۔ حکومت ان لوگوں سے بھی نہ صرف ٹیکس وصول کرنے میں ناکام ہے جو بالامحصولات سرمایہ بیرون ملک لے جاچکے ہیں۔ٹیکس ادا نہ کرنااور غیر قانونی طریقے سے سرمایہ باہر لے جانا جرم ہے۔ حکومت اس جرم کے خلاف کارروائی کرنے سے اجتناب پر مجبور ہے اور جن لوگوں کا کالا سرمایہ پاکستان سے باہر ہے اسے واپس لانے کا مطالبہ کرنے سے بھی قاصر ہے۔وزیراعظم کو ان چیلنجوں پر پورا اترنا چاہیے۔

اداریہ