Daily Mashriq

نگران وزیراعظم کا انتخاب

نگران وزیراعظم کا انتخاب

مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے زیر صدارت جہاں آئندہ انتخابات کیلئے پارٹی کی سیاسی حکمت عملی طے کی ہے وہاں قائد حزب اختلاف کے ساتھ نگران وزیراعظم کے انتخاب کے لیے مشاورت کی خاطر ناموں پر بھی غور کیا۔ نگران وزیراعظم کا انتخاب آئین کے مطابق قائد حزب اقتدار اور قائد حزب اختلاف نے باہمی مشاورت سے کرنا ہے۔قائد حزب اختلاف پیپلز پارٹی کے سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ وہ نگران وزیراعظم کے لیے ناموں پر اپوزیشن پارٹیوں کا اتفاق رائے حاصل کرنے کے لیے ان سے رابطے کررہے ہیں ان کا حزب اختلاف کی پارٹیوں سے رابطے کرنا آئین کی روح کے مطابق ہے حزب اختلاف اور حزب اقتدار کے قائدین کی باہمی مشاورت کا مطلب یہ ہے کہ نگران وزیراعظم پر اسمبلی کی تمام پارٹیوں کا اعتماد ہو اس کے لیے قائد حزب اختلاف کو چاہیے کہ وہ حزب اختلاف کی پارٹیوں سے الگ الگ مشورہ کرنے کے بعد اپوزیشن پارٹیوں کا مشترکہ اجلاس بلائیں اور اس میں حزب اختلاف کے متفقہ امیدوار یا امیدواروں کے ناموں پر اتفاق رائے حاصل کریں اور ان مجوزہ ناموں کی بنیاد پر وزیراعظم سے مشاورت کریں ۔عام انتخابات کے بروقت انعقاد پر سب سیاسی پارٹیوںکا اتفاق ہے۔ ان انتخابات کے نتائج پر سب پارٹیوں کا اعتماد بھی اتنا ہی ضروری ہے۔نگران وزیراعظم پر اگر سب پارٹیوں کا مکمل اعتماد ہوگا تو یہ عام انتخابات پر سب کے اعتماد کی طرف ایک اہم قدم ہوگا۔
کھوکھلے دعوئوں کا انجام بدترین لوڈشیڈنگ
گرمی کے موسم کی شروعات کے ساتھ ہی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے سارے حکومتی دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے اور طویل دورانیہ یا ایک گھنٹہ بعد ایک گھنٹہ کی لوڈشیڈنگ کے حوالے سے متعلقہ حکام صارفین کو جو جوابات دے رہے ہیں ان پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے البتہ یہ سوال اہم ہے کہ وہ 10ہزار میگا واٹ اضافی بجلی کہاں ہے جس کے نقارے بجاتے ہوئے داد سمیٹی جا رہی تھی؟ غور طلب امر یہ ہے کہ نندی پور اور بھکی پاور پلانٹس کی بدترین ناکامیوں کی پردہ پوشی کرتے ہوئے غلط اعداد و شمار کے ذریعے عوام کے جذبات سے کھیلا گیا اب جونہی گرمی کے موسم کی شروعات ہوئی ہیں 10ہزار میگا واٹ بجلی برف کی طرح پگھل گئی ہے۔ اندریں حالات کو حکومت کو نہ صرف صارفین سے معذرت کرنی چاہئے بلکہ شارٹ فال کے حوالے سے درست اعداد و شمار کے ساتھ عوام کو اعتماد میں لینا چاہئے۔

اداریہ