Daily Mashriq

دم مارو دم

دم مارو دم

کو اپنے بچے مت کہو، یہ تمہاری کمان سے نکلے ہوئے تیر ہیں۔ جو اپنا رستہ خود بنائیں گے ،خلیل جبران نے یہ بات جانے کس موڈ میں کہی۔ لیکن جس دن یا جس وقت ہم تک پہنچی ہم سوچ میں پڑ گئے۔ بڑا مشکل فیصلہ تھا اپنے بچوں کو اپنے بچے نہ کہنے کا۔ لیکن جب ہم نے دیکھا کہ ہمارے بچے ہمارے نہیں بن رہے تو طوہاً و کرہاً اس فیصلے کو ماننا پڑا۔ بچے اس وقت تک اپنے ماں باپ کے بن کر رہتے ہیں جب ان کو ماں باپ کی ضرورت رہتی ہے۔ جیسے ہی ان کے پر پرزے نکلتے ہیں وہ پھر کرکے اڑجاتے ہیں، کیا مجال جو بڑے بوڑھے بزرگ ان پر قابو پاسکیں۔ عقل کل سمجھنے لگتے ہیں وہ اپنے آپ کو اور بڑے بزرگوں کو پرانے وقتوں کی مخلوق کہہ کر ان کی کسی بات کو خاطر میں لانا پسند نہیں کرتے ۔ کہتے ہیں یہ سب غلط تربیت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اگر بچوں کو دبا کر رکھا جائے تو ایسی نوبت نہ آئے۔ لیکن نفسیات کے ماہر بچوں کو دبا کر رکھنے کے حق میں نہیں۔ کہتے ہیں اس طرح بچوں کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ خوف اور نفرت ان کے رویوں میں شامل ہوجاتی ہے اور وہ دبے ہوئے ماحول سے فرار یا نجات کے راستے تلاش کرنے لگتے ہیں۔ اس لئے ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ بچوں کے ساتھ بچہ بن کر ان سے دوستی گانٹھ لینی چاہئے۔ اس کو ہنسی مذاق اور کھیل کود کا ماحول میسر کرکے ان کی تعلیم و تربیت کے مرحلے طے کرنا چاہئیں۔ وہ لوگ جو بچوں کی تربیت کے معاملے میں ماہرین نفسیات کے متعین کئے ہوئے ان راستوں پر نہیں چلتے اور بچوں کے ساتھ بچہ بن کر دوستی گانٹھنے کی بجائے ’’ بچوں کو سونے کا نوالہ کھلاؤ اور انہیں شیر کی نظر سے دیکھو‘‘ کے مقولے پر عمل کرتے ہیں تو ایسا کرنے سے بچہ سونے کا نوالہ کھاتے وقت اپنے سامنے بیٹھے ہوئے شیر کی نظروں والے بڑے بزرگ یا ہمدرد سے خوف کھانے لگتا ہے ۔ شرارتیں کرنا بچوں کا پیدائشی حق ہوتا ہے، کرنے دیجئے انہیں شرارتیں مگر اپنی نظروں کے سامنے اور اگر ممکن ہوتو آپ شریک ہوجائیے ان کی شرارتوں میں ان کے دوست بن کر ، اگر آپ شیر کی نظروں والے ابو ، یا دادا ابو ثابت ہوئے تو بچہ اپنی شرارتوں کے جو گل کھلانا چا ہتا ہے نا ، وہ شیر کی نظروں والے بڑے بزرگ یا سرپرست کی نظر وں سے بچ بچا کر کھلانے لگے گا، خوب اودھم مچائے گا شیر جیسی نظروں والے وارثوں کی غیر موجودگی میں ،عین ممکن ہے وہ اس دوران گھر میں رہنے کی بجائے گلی محلے کے ہم عمر ساتھیوں کے ساتھ کھیلنے کودنے میں مگن ہوجائے۔ اور یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ گلی محلے سے نکل کر کسی ایسی جگہ چلا جائے جہا ں بھیڑئیے نما ان کا شکار کرنے بیٹھے ہوں ۔ خاکم بدہن عین ممکن ہے وہ ایسے بھیڑئیے نما لوگوں کے ہتھے چڑھ جائے ۔کتنے غافل اور بد قسمت ہوتے ہیں وہ ماں باپ جن کے بچے شہر اور دیہاتوں کے کو نے کونے میں پھیلے چنڈو خانوں کے چنگل سے اپنے جگر گوشوں کو بچا نہ سکے ۔ دم مارو دم کا نعرہ لگاتے رہنے والے یہ چنڈو خانے کتنے بچوں کا مستقبل تباہ کرچکے ہیں اس کی نہ کوئی حد ہے نہ حساب، ان چنڈو خانوں کو چلانے والے اپنے آپ کو ملنگ کہتے ہیں، اور جعلی پیروں اورفقیروں کے لبادے اوڑھ کر خود بھی نشے میں دھت رہتے ہیں اور ان کونپلوں کو بھی منشیات کا عادی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں جو اتفاق سے ان کے ڈیرے پر پہنچ جا تی ہیں یا کوئی ان کی انگلی پکڑ کر ان کو ان کے ڈیر ے میں پہنچا دیتا ہے ،اللہ نہ کرے ان کو ان ڈیروں پر چرس ، بھنگ، یا اس قبیل کے کسی بھی نشے کی لت پڑ جائے تو سمجھئے گیا وہ دین اور دنیا کے کاموں سے ،پیری فقیری اور ملنگی کے لبادے میں چنڈو خانے چلانے والے یہ لوگ اپنے ڈیرے پر آنے والے بدقسمت ماں باپ کے پھول اور کلیوں کو شروع شروع میں مفت کی پلا کر اسے منشیات کا عادی کرتے ہیں اور پھر دھیرے دھیرے ان سے ہر کش یا گھونٹ کی قیمت وصول کرنے لگتے ہیں،اور جب وہ اپنی رگوں میں پھیلنے والی زہر کی قیمت ادا نہیں کر پاتے تو ان کو چوری چکاری پر مجبور کر نے کا مرحلہ آجاتا ہے ، منشیات کے عادی بچے پہلے پہل چوری چکاری کے لئے اپنے ہی اہل خانہ کی جمع پونجی لوٹنا شروع کردیتے ہیں ، جب اس بات کا علم ان کے والدین یا سرپرستوں کو ہوتا ہے تو پانی سر سے گزر کر ان کی لٹیا ڈبو چکا ہوتا ہے،بچپن یا کچی عمر میں لگنے والا نشہ جوانی کی دہلیز پر پہنچنے والے بچوں کے ذہن کو اس قدر پراگندہ اور زنگ آلود کر چکا ہوتا ہے کہ ان کو اس کے چنگل سے بچانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوجاتا ہے۔ چرس ، گانجا، شراب، افیون، بھنگ، ٹھرہ، گٹکا، شیشہ، صمد بانڈ، نیند کی گولیاں، نشہ آور شربت ، کیمیکل ، کوکین، ہیروئین ، آئس میتھ اور اللہ جانے اس قسم کے اور کتنے زہر ہیں جوآج کی نوجوان نسل کی رگوں میں گھپ اندھیرا پھیلا رہے ہیں، نوجوان نسل ، جسے قوم کا سرمایہ کہا جاتا ہے، منشیات کی دلدل میں پھنس کر جس نہج پر چل نکلی ہے اس کے سارے راستے تباہی اور بربادی کے چوراہوں کی جانب بڑھتے ہیں ،ووٹ حاصل کرنے اور الیکشن جیتنے کی غرض سے قوم کا مقدر بدلنے کے بلند بانگ دعوے کرنے والوں کے آگے منشیات کی عادی نسل کے مفلوک الحال والدین گڑگڑا کر کسی ایسے اقدام کی درخواست کرتے ہیں جو ان کے بچوں کو منشیات کی اس دلدل سے نکال باہر کریں ۔ مگر افسوس کہ وہ ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ وہ خود نشے میں ہیں 

تبدیلیوں کا نشہ مجھ پر چڑھا ہوا ہے
کپڑے بدل رہا ہوں ، چہرہ بدل رہا ہوں