Daily Mashriq


ہم کو لہو کے بیل ہیں کیا؟

ہم کو لہو کے بیل ہیں کیا؟

مطلق العنان حکمرانوں اور بعد میں غیر ملکی آقائوں کے ادوار کو اگر ایک طرف رکھ بھی دیا جائے جب ان کی رعایا غلامی کا طوق پہننے پر مجبور خاموشی سے زندگی گزارنے پر مجبور تھی۔ مگر آج سے ستر برس پہلے تو ہمیں آزادی اور خود مختاری کی نوید دی گئی تھی۔ اس آزادی کی جس کے بارے میں چودہ سو برس سے بھی پہلے ایک خلیفہ راشد نے فرمایا تھا۔ اللہ نے انسان کو آزاد پیدا کیا‘ تم نے اسے غلام بنانے کی غلطی کیوں کی۔ اور اسی فرمان کو ذہن میں رکھتے ہوئے جب ستر برس پہلے غلامی کی زنجیریں توڑنے کی نوید سنائی دی تو ہمارے اجداد نے غلامی کی کاٹھی اتار پھینکنے کی جدوجہد میں ہر اول دستے کا کردار نبھانے کا عزم کرکے بدیسی آقائوں کے تسلط کی زنجیریں توڑ ڈالیں‘ مگر انہیں کیا خبر تھی کہ یہ خواب آدھا ادھورا ہوگا اور پھر فیض جیسے شاعر کو کہنے پر مجبور ہونا پڑے گا کہ وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں‘ غیروں کی غلامی کی زنجیریں کاٹ کر ہم کو لہو کے بیل بن جائیں گے۔ 21ستمبر 2012ء کو ’’ ایک سوال‘‘ کے عنوان سے میں نے ایک نظم کہی تھی جو آج بھی ایک سوال ہی کی صورت موجودہ حالات پر تبصرہ بن کر اپنی افادیت ظاہر کر رہی ہے

لاکھوں میل مسافت کے اندھے رستوں پر

ستم گزیدہ جسموں سے رستے ہوئے

خون کا صدقہ دے کر

صدیوں سے ہم وہیں کھڑے ہیں

چھوٹے چھوٹے دائروں کے

ہم وہ قیدی ہیں

جن کی آنکھیں

رنگ برنگی پٹیوں کے چنگل میں ہیں

منزل اور نشان منزل کوئی نہیں ہے

خوش امیدی کے جھوٹے

بے سمت سفر کا

آغاز اور انجام ہے اک نقطے پہ محیط

یہ دائرے جو صدیوں کے

بوسیدہ‘ فریبی اور ناکارہ

موئے قلم سے

جھوٹ اور مکر کے رنگ سجا کر

مستقبل کی خوش امیدی کے کینوس پر

بے چینی اور عدم یقیں کے

تجریدی منقوش کی صورت

جھوٹی آس دلاتے ہیں

آنکھوں پر پٹیاں بندھوا کر

ہم چپ چاپ سفر طے کرتے رہتے ہیں

ہم کو لہو کے بیل ہیں کیا؟

سوال اہم ہی تو ہے کہ آج ایک بار پھر آوازوں کے جنگل میں دعوئوں اور وعدوں کی جو گونج سنائی دے رہی ہے ان میں کیا سچ ہے‘ کیا جھوٹ۔ اگر غور کیا جائے تو ہمیں اپنا آپ کو لہو کے اس بیل کی مانند ہی نظر آئے گا جو ایک دائرے کی صورت مسلسل سفر میں رہتے ہوئے اپنے تئیں یہی سوچتا رہتا ہے کہ شاید اس نے ہزاروں لاکھوں میل راستہ طے کرلیا ہے مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ وہ تو آج بھی ایک چھوٹے سے دائرے سے آگے نہیں جاسکا۔ ہماری آنکھوں پر بھی مختلف رنگوں کی پٹیاں بندھی ہیں۔ ہمارے ’’مالکان‘‘ نے مختلف رنگوں کے کھوپے ہماری بینائی کو ختم کرنے کے لئے ہمیں پہنا دئیے ہیں اور ایک بے سمت سفر پر ہمیں گامزن کر رکھا ہے۔ ہم نے اپنے اجداد کی قیادت میں ستر برس پہلے خوش نما وعدوں کا دلفریب جوا اپنی گردنوں پر چڑھا کر جو سفر شروع کیا تھا۔ان کے رخصت ہونے کے بعد اصل مالکان نے وہ جوا ہماری گردنوں پر ڈال کر ہمیں ہانکنا شروع کردیا۔ ہمارے ارد گرد خوش کن نعروں کے جنگل اگادئیے گئے ۔ ہماری آنکھیں بند اور کان کھلے ہوئے ہیں۔ ’’ سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا افسانہ کیا‘‘۔ ہم نے سنا مگر بولنے سے قاصر رہے۔

اگرچہ احساس کی چبھن بھی محسوس کرتے رہے کہ’’ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے‘ بول زباں اب تک تیری ہے‘‘ مگر آنکھوں پر پڑے کھوپے ہٹیں تو سمجھ میں آئے کہ ہم تو ایک مختصر دائرے کے قیدی ہیں۔ ادھر ایک بار پھر منڈیاں سج گئی ہیں۔ گھوڑوں کی تجارت شروع ہو چکی ہے۔ مختلف نسلوں اور رنگوں کے گھوڑے اپنی وقعت دیکھ کر ہنہنا رہے ہیں۔ ایک اصطبل سے دوسرے اصطبل میں ’’چارے‘‘ کی کیفیت دیکھ کر دوڑتے پھرتے ہیں۔ گھاس کے ساتھ مربوں کی خوشبو نے ان کی اشتہا بڑھا دی ہے۔ سامنے کے مالک کوئی اور ہیں‘ اصل چابک کسی اور کے ہاتھ میں لہرا رہے ہیں جن کو صرف ہوا میں لہرانے سے جو شڑاق شڑاق ابھر رہی ہے کم ظرف گھوڑوں کے لئے وہی کافی ہے۔ سو دیکھنا ہے کہ اصل میلہ سجنے تک کونسا گھوڑا کس اصطبل میں جا کر کس کے کھونٹے سے بندھنے پر مجبور ہوتا ہے۔ مگر ہم۔۔۔ہم تو کو لہو کے بیل ہی رہیں گے۔ صرف خوشنما وعدوں پر زندہ رہ کر بے سمت سفر کے اندھیروں میں گم ہو جانے والے‘ بیل جو سن تو سکتے ہیں بول نہیں سکتے ‘ کہ بے زباں جانور بھی کبھی بول سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں