Daily Mashriq

بھارتی فوج پر بغاوت کے سائے

بھارتی فوج پر بغاوت کے سائے

ورما 1982ء میں انڈیا کے شہر جے پور میں پیدا ہوا تھا ۔ وہ اپنے باپ حوالدار اشوک ورما کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے 2002ء میں دہلی کے آرمی ریکروٹنگ سینٹر میں آیا اور اپنے اچھے قد کاٹھ اور بی اے تعلیم کی وجہ سے انڈین آرمی میں بھرتی ہو گیا ۔ 3جون ، 1984ء میں جب بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے حکم پر فوج نے جنرل کلدیپ سنگھ کی کمان میں امرتسر میں واقع سکھوں کی مرکزی عبادت گاہ گولڈن ٹمپل پر حملہ کیا تھا تو گوپال ورما کا باپ ’’ آپریشن بلیو سٹار ‘‘ میں حصہ لینے والے فوجی حملہ آوروں میں شامل تھا ۔ گوپال ورما کے باپ اشوک ورما نے گولڈن ٹمپل میں 13سکھوں کو بے دردی سے قتل کیا تھا۔ سکھوںکے اس قتل عام کے مختصر عرصہ بعد بھارتی وزیر اعظم کی حفاظت پر مامور 2سکھ سیکورٹی اہلکاروں نے اندرا گاندھی کو گولیوںکے برسٹ مار کر قتل کر دیا ۔ تاریخ کا سفر مسلسل جاری ہے۔آج 34سال بعد گولڈن ٹمپل کی جگہ کشمیر ہے اور سکھ علیحدگی پسندوں کی جگہ کشمیری مسلمان ہیں ، جو بھارت سے کسی بھی قیمت پر آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ آج کی تاریخ میں اندرا گاندھی کی جگہ نریندر مودی ہے اور اشوک ورما کی جگہ اس کا بیٹا گوپال ورما ہے ۔گوپال ورما کی پوسٹنگ اپریل 2014ء میں مقبوضہ کشمیر ہوئی ۔ وہ 2014ء سے 2017ء تک بھارت سرکار کے حکم پر کشمیری حریت پسندوں اور احتجاج کرتی نہتی کشمیری خواتین ، بزرگوں ، طلبہ اور اساتذہ کے خون سے ہولی کھیلتا رہا ۔ لیکن پھر نومبر 2017ء کی ایک ٹھٹھرتی صبح اس کی زندگی میں ایک موڑ آگیا ۔ اس صبح اس نے دیکھا کہ جس علاقے پر انہوںنے حملہ کیا تھا ،وہاںان کی گولیوں کا نشانہ بننے والے معصوم شیرخوار بچوں کی لاشیں بھی فٹ پاتھ اور سڑک کو اپنے خون سے رنگین کر رہی ہیں ۔ ان دودھ پیتے بچوں کی کٹی پھٹی لاشیں دیکھ کر گوپال ورما کو جے پور میں موجود اپنے بچے یاد آگئے ۔ اس نے اپنے آپ سے سوال کیا :’’ اگر فوج اس کے بچوں کو اس طرح درندگی سے ماردیتی تو وہ ردعمل میں کیا کرتا ؟‘‘ اس کے ذہن میں ایک ہی جواب کی گونج تھی، اور وہ جواب تھا ’’بغاوت‘‘۔بس یہی وہ لمحہ تھا کہ اندر سے آنے والے اس جواب نے اس کو اسی وقت اپنی فوج سے بغاوت پر مجبور کر دیا ۔ اس نے معصوم بچوں کو قتل کرنے پر اپنے کمانڈنگ آفیسر کرنل اجے کمار کے سامنے احتجاج کیا اور اپنی فوجی ٹوپی ، بیلٹ، وردی اور رائفل کرنل کی میز پر رکھ کر فوج چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔اس کھلے اعلانِ بغاوت کے بعد گوپال ورما کو گرفتار کر لیا گیا ، اس کا کورٹ مارشل ہوا ، اور اس وقت وہ دہلی کی جیل میں قید کاٹ رہا ہے۔مغربی سرحد کے اُس پار سے آنے والی اطلاعات بتارہی ہیں کہ اب بات صرف ایک گوپال ورما تک محدود نہیں رہی بلکہ اس وقت ہزاروں انڈین آرمی کے جوان اور فوجی افسر گوپال ورما کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنی حکومت اور فوج سے بغاوت کرنے کے متعلق سوچنے پر مجبور ہو چکے ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق صرف گزشتہ ایک سال کے دوران انڈین آرمی کے مقبوضہ کشمیر میں تعینات 731فوجی جوان گوپال ورما کی طرح اپنے آفیسرز کے سامنے سرنڈر کر چکے ہیں، 22جوان خود کشی کر کے اپنی ناپسندیدہ زندگی اور انڈین آرمی پر دو حرف بھیج چکے ہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر میں تعینات پانچ لاکھ فوجیوں کا نصف سے زائد حصہ جلد از جلد یہاں سے ہندوستان کے کسی بھی علاقہ میں پوسٹنگ کروانے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔ نہتے اور بے گناہ کشمیریوں کے قتل عام سے انڈین آرمی کا مورال بلند ہونے کی بجائے شدید طور پر پست ہو چکا ہے۔ ان کے اندر بد دلی پھیل رہی ہے اور ہردوسرا فوجی جوان اپنے آپ کو خونی ، قاتل، جنونی اور وحشی تصور کر رہا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں تعینات پوری انڈین فوج یا تو نفسیاتی مریض بن چکی ہے یا اپنے ضمیر کی قیدی بن چکی ہے۔ بھارت کے اخبارات میںشائع ہونے والے کالموں ، تجزیوں، تبصروں ، اداریوں اور فیچرز میں متعدد ریٹائرڈ اعلیٰ فوجی افسروں اور جوانوں کے واقعات ، حالات اور بیانات رپورٹ ہو چکے ہیں ، جو کشمیری عوام پر ریاستی طاقت کے بے جا استعمال کو غلط اور ناجائز سمجھتے ہیں ۔ بھارتی فوج کی اندرونی کیفیت سے آگاہ بریگیڈئیر (ر) ڈاکٹر وکرم چوپڑہ ’انڈین ٹائمز‘ میں شائع ہونے والے اپنے آرٹیکل میں لکھ چکے ہیں کہ ’’ کشمیر میں بھارتی سینا کی اکثریت خطرناک نفسیاتی امراض کا شکار ہو چکی ہے۔ بھارتی فوجی خود کو کشمیری قوم کا مجرم تصور کر رہے ہیں ۔ اگر بھارتی فوج کے جوانوں کو اس نفسیاتی کیفیت سے نکالنے کا سامان نہ کیا گیا تو کشمیر میں تعینات فوج کے اندر ناقابل تلافی مسائل جنم لے سکتے ہیں ۔‘‘اسی پر بس نہیں بلکہ کشمیر میں تعینات بھارتی فوجیوں کی بد دلی اور اپنی حکومت اور فوجی ہائی کمان پر بد اعتمادی اس وقت مزید بڑھ گئی ، جب ایک خفیہ حکم کے ذریعے کشمیر میں تعینات تمام سکھ فوجیوں کو وہاں سے ہندوستان کی مختلف چھائونیوں میںپوسٹنگ کرنے کا کہا گیا ۔ مبینہ طور پر یہ آرڈر انڈین آرمی کے جنرل ہیڈ کوارٹر سے جولائی 2017ء میں جاری کیا گیا تھا ۔ اس فوجی حکم نامہ کی بنیاد وہ خط بنا جوکینیڈا میں مقیم سکھ علیحدگی پسند قیادت نے ہندوستان کے تمام سکھ فوجیوں کے نام لکھا تھا ۔درایں اثناء! وزیر اعظم نریندر مودی بھی شدید خوف کا شکار ہیں ۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے حفاظتی سکواڈ میں اب کوئی سکھ اور مسلمان فوجی یا پولیس اہلکارموجود نہیں ہے۔ حتیٰ کہ مودی نے اپنے دفتر ، ایوان وزیر اعظم اور گھر پر تعینات تمام سکھ اور مسلمان ملازمین کو بھی نکال باہر کیا ہے۔درحقیقت نریندر مودی اس ڈر کا شکار ہیں کہ جس طرح گولڈن ٹمپل پر حملہ کروانے پر اندرا گاندھی کو اس کے اپنے سکھ محافظوں نے قتل کر دیا تھا، اس طرح کشمیر میں مسلمانوں کے قتل عام پر کوئی مسلمان ان کو بھی قتل نہ کر دے ۔

اداریہ