Daily Mashriq

دوبارہ حماقت کیلئے کوشاں بھارتی قیادت

دوبارہ حماقت کیلئے کوشاں بھارتی قیادت

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا یہ انکشاف کہ پاکستان کے پاس مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات ہیں کہ انڈیا رواں ماہ کے تیسرے ہفتے کے دوران پاکستان کیخلاف عسکری کارروائی کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے جو خطے میں بھارتی عزائم اور شدید خطرات کی نشاندہی کیلئے کافی ہیں۔ یہ اطلاعات اور خطرات غیرمتوقع نہیں بلکہ اس کا پورا پورا امکان ظاہرکیا جاتا رہا ہے کہ بی جے پی کی جنونی قیادت انتخابات سے قبل محض انتخابات میں عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کیلئے پورے خطے کے امن کو بھاڑ میں جھونک سکتا ہے۔ پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اس کارروائی سے قبل انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر میں یا بھارت میں کسی بھی جگہ پلوامہ حملے جیسا کوئی واقعہ رونما ہو سکتا ہے جس کو بنیاد بنا کر پاکستان کیخلاف نہ صرف سفارتی دباؤ بڑھایا جائے گا بلکہ عسکری کارروائی کو جواز بھی فراہم کیا جائے گا۔ دوسری جانب پاکستانی وزیر خارجہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انڈین حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ انڈیا اِس غیرذمہ دارانہ اور احمقانہ بیان کو مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ممکنہ دہشتگردی کے حملے سے متعلق قابل عمل اور قابل اعتماد انٹیلی جنس کے اشتراک کیلئے قائم سفارتی اور ڈی جی ایم او چینلز کا استعمال کیا جائے۔ اگرچہ دو ایٹمی ممالک کے درمیان کشیدگی کو سیاسی حالات کے تناظر میں دیکھنا اور اس امر کا جائزہ لینا کہ ایک ملک کے حکمران انتخابات میں ووٹروں کی ہمدردی کے حصول کیلئے خطے کا امن داؤ پر لگا سکتے ہیں کچھ مضحکہ خیز سا اور غیریقینی نظر آتا ہے اس کے باوجود اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بی جے پی کی جنونی قیادت بھارتی انتخابات میں کامیابی کے حربے کے طور پر پاکستان کیخلاف کسی ممکنہ مذموم کارروائی کی تاک میں ہیں۔ بالاکوٹ میں حال ہی میں جو حماقت بھارت سے سرزد ہوچکی اور پاکستانی شاہینوں نے اگلے ہی روز جس قسم کا مسکت اور دنیا کیلئے ثابت اور قابل قبول کارروائی کی اس کے بعد بی جے پی کا گراف پست سے پست تر ہوتا جارہا ہے۔ زخم خوردہ بھارتی فوج بھارتی عوام کے سامنے جس قسم کی خجالت کا شکار ہوئی اسے مٹانے، اس داغ کو دھونے اور اپنے طور حساب برابر کرنے کی سعی کے طور پر ان کی ممکنہ منصوبہ بندی کسی طور غیرمتوقع نہیں۔ بھارتی بحریہ کو بھی اگرچہ حالیہ کشیدگی میں کسی براہ راست نقصان کا سامنا تو نہیں ہوا لیکن ان کے آبدوز کا پتہ لگا کر اور اس کو علاقے سے نکلنے پر مجبور کیا جانا کسی بڑے نقصان سے کم نہیں۔ ان حالات میں لگتا یہی ہے کہ بھارت اس مرتبہ سندھ اور پنجاب کے کچھ سرحدی علاقوں میں زمینی حملے کی صورت میں کوئی حماقت کی سوچ سکتا ہے جس کی اطلاع ہوگئی ہے اور پاکستان نے اس کا بھانڈا پھوڑ کر دنیا کو بھارتی عزائم سے آگاہ بھی کر دیا ہے۔ بدقسمتی سے اس وقت پاکستان کے اپنے دو پڑوسی اسلامی ممالک کیساتھ تعلقات کی نوعیت کچھ خوشگوار نہیں، ایک ملک کیساتھ تو ہماری باقاعدہ طور پر چپقلش اور اپنی سرزمین کو ہمارے خلاف استعمال کرنے کی شکایات چلتی رہتی ہیں، تاہم دوسرے ملک کیساتھ تعلقات بباطن جیسے بھی رہے ہوں کسی براہ راست لفظی کشیدگی اور شکایات کی سنجیدہ نوبت کم ہی آئی ہے لیکن اس ملک کے کچھ باشندوں کی کراچی میں پاکستان دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر گرفتاری سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ ان کے حوالے سے بھی ہماری مشکلات بڑھ رہی ہیں‘ عالمی سطح پر امریکہ اور اسرائیل کا بھارت سے پوری طرح گٹھ جوڑ سامنے آچکا ہے یہاں تک کہ حالیہ ٹکراؤ میں ان ممالک کی صلاحیتوں اور افرادی قوت تک کے استعمال کی شنید ہے جس سے پاکستان کی مشکلات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے لیکن قابل اطمینان امر یہ ہے کہ ان ساری سازشوں کو حقیقی قدرت وطاقت کے مالک ذات کی مہربانی سے ہمارے ہوابازوں نے نہ صرف ناکام بنایا بلکہ ان کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ بھارت کی جنگی تیاریوں سے پاکستان نہ صرف پوری طرح آگاہ ہے بلکہ ان کا مسکت جواب دینے کی پوری صلاحیت کا حامل بھی ہے۔ بھارت کی جنونی قیادت پر بھارتی عوام کا اعتماد جس طرح مجروح اور متزلزل ہوا ہے وہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا توڑ خود بھارتی قیادت کے پاس بھی نہیں۔ بھارتی عوام کو جنونی قیادت کیخلاف اب مزید کھل کر سامنے آنا چاہئے اور خطے کے امن کو خطرات سے دوچار کرکے بھارتی عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں کو مسترد کیا جانا چاہئے۔ بھارتی قیادت کا جنونیت اور پاگل پن سے باز رہنے ہی میں بھارت کی بقاء اور خطے کے امن کے حق میں بہتر ہوگا۔ بھارتی قیادت کو سوچنا چاہئے کہ وہ اپنے مفاد کی خاطر بھارتی عوام اور بھارت کی سرزمین کو کیوں داؤ پر لگا نے پر تل گئے ہیں۔ ان کو اس امر پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ایک اور حماقت کا جواب اگر پہلے سے زیادہ مسکت آجائے اور مزید شرمندگی وخجالت کا سامنا کرنا پڑے تو اس وقت کیا ہوگا؟۔

متعلقہ خبریں