Daily Mashriq

خواتین سے متعلق قوانین کا مؤثر نفاذ یقینی بنانے کی ضرورت

خواتین سے متعلق قوانین کا مؤثر نفاذ یقینی بنانے کی ضرورت

خیبر پختونخوا وقار نسواں کمیشن نے جلائی جانیوالی خواتین کے تحفظ اور انہیں واپس معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کیلئے قانونی مسودے کا ابتدائی خاکہ تیار کر لیا ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت خواتین کی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے قانون سازی کرے گی ہے اور اس سلسلے میں خواتین ارکان صوبائی اسمبلی پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کر دی ہے جو قانونی مسودہ کی تیاری کریں گی۔ خواتین سے متعلق قانون سازی کی ضرورت واہمیت سے انکار ممکن نہیں، خواتین کے تحفظ کیلئے قوانین موجود ہیں اور دیگر عام قوانین بھی لاگو ہیں جن میں مرد وزن کا کوئی امتیاز نہیں۔ وقار نسواں کمیشن پر بھی کام کر رہا ہے اور خواتین کو ہراساں کرنے کی روک تھا اور ان کے تحفظ کیلئے دفاتر میں قوانین کمیٹیاں اور طریقۂ کار موجود ہے لیکن اس کے باوجود مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی والی صورتحال سامنے آتی ہے۔ خواتین پر تشدد ان کو ہراساں کئے جانے کے واقعات کی روک تھام میں مروجہ قوانین پوری طرح غیر مؤثر ہیں اور جو قانون سازی ہوتی بھی ہے اس میں ملزمان کو کڑی سزا دلوانے کیلئے طریقۂ کار سہل اور سادہ ہونے کی بجائے ایسا پیچیدہ ہوتا ہے کہ ملزمان کو کڑی سے کڑی سزاء نہیں ملتی۔ بدقسمتی سے معاشرہ بھی خواتین پر تشدد کی روک تھام میں سنجیدہ نہیں چند ایک عورتیں خواتین کے تحفظ کے نام پر الٹا معاشرے میں بعد کا سبب بن رہی ہیں جن کی خود خواتین کی اکثریت مخالفت کرتی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خواتین کے تحفظ کیلئے ہمیں جہاں قوانین کو سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ وہاں احترام نسواں کو فروغ دینے کیلئے مسجد ومنبر سکولوں سے جامعات اور معاشرے کے ہر طبقے میں شعور اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے جہاں تک شادی کے بعد کے مسائل کا تعلق ہے ایسی قانون سازی ممکن ہی نہیں کہ صوبے سے باہر لڑکی بیاہنے پر پابندی لگائی جاسکے۔ خواتین اراکین اسمبلی قانون سازی اور قانونی مسودے کی تیاری میں اپنے ہم صنفوں کی صوبے میں باہر ہی نہیں صوبے کے اندر اور صوبائی دارالحکومت میں قحبہ خانوں میں موجودگی کی بھی روک تھام کیلئے قوانین سخت کروانے کیساتھ ساتھ فحاشی کے اڈوں کیخلاف حکومت کو پوری طاقت سے کارروائی کرنے پرزور دیں۔ قوانین بنانے کیساتھ ساتھ ان کے موثر نفاذ کو یقینی بنانے پر خاص طور پر توجہ کی ضرورت ہے۔

نجی سکولوں کی من مانیاںاور ایجوکیشن اتھارٹی کی ناکامی

پشاور کے بعض نجی سکولوں نے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی پانچ سے سات سو روپے اضافہ بلکہ اس سے بھی زیادہ اضافہ اور انتظامی اخراجات میں اضافہ کر کے عدالتی فیصلے اور لاگو قوانین سے بچنے کا راستہ نکالا ہے۔ دوسری طرف کتابوں اور کاپیوں وغیرہ کی قیمتوں میں بھی گزشتہ سال کی نسبت کئی گنا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے نجی سکولوں میں بچے پڑھانے والے والدین کے بجٹ پر بھی بوجھ پڑا ہے۔ اس سلسلے میں رابطے پر ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ اس حوالے سے تحریری شکایات پر ایکشن لیا جائیگا جس کیلئے والدین کو اتھارٹی کیساتھ رابطے کی سہولت دی گئی ہے۔نجی سکولوں کی جانب سے والدین پر بوجھ ڈالنے کے جہاں مختلف طریقے مروج ہیں وہاں سالانہ داخلہ کی مد میں دو، تین، چار پانچ اور اس سے بھی زائد رقم کی وصولی معمول کی بات ہے۔ سالانہ داخلہ کی مد میں کسی قسم کی رقم کی وصولی کو عدالت نے اپنے حکم نامے میں ممنوع قرار دیا ہے لیکن اس کے باوجود سالانہ داخلہ فیس کی وصولی بھی جاری ہے۔ اس ساری صورتحال سے بخوبی واقف ہونے کے باوجود بجائے اس کے کہ ایجوکیشن ریگولیٹری اتھارٹی ازخود کارروائی کرتی وہ والدین کی جانب سے شکایت کی منتظر ہے چونکہ والدین کو اتھارٹی کی کارکردگی کا بخوبی علم ہے بنابریں وہ اس سے رجوع کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ ایجوکیشن اتھارٹی وہ عضو معطل ہے جس کی سوائے اس کے کوئی فائدہ اور کارکردگی سامنے نہیںآئی کہ یہ چند لوگوں کیلئے ذریعہ روزگار اور سرکاری خزانے پر بوجھ ہے جسے یا تو پوری طرح فعال بنایا جائے یا پھر بند کر دیا جائے۔

نجی بلڈ بنکس کی رجسٹریشن

خیبر پختونخوا بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کی صوبہ بھر میں بلڈ ٹرانسفیوژن سروسز یعنی محفوظ انتقال خون خدمات کو ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تمام بلڈ بینک اتھارٹی کیساتھ رجسٹرڈ کرنے کی منصوبہ بندی تو احسن ہے لیکن اس سے زیادہ ضروری امر خون کی تجارت کی روک تھام ہے جس میں بعض نجی بلڈ بنک ملوث بتائے جاتے ہیں۔ ان بلڈ بنکس میں خون کے محفوظ کرنے کا انتظام ہی نامناسب نہیں بلکہ غیرصحت مند افراد کا خون بھی لیکر مریضوں کو دینے کی شکایات ہیں جن کا سختی سے نوٹس لیا جانا چاہئے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اس ضمن میں جلد ہی سنجیدہ اقدامات نظر آئیں گے۔

متعلقہ خبریں