Daily Mashriq

`بے بس حکومت اور تماش بین اپوزیشن

`بے بس حکومت اور تماش بین اپوزیشن

جب کسی گھرانے پر مشکل وقت آتا ہے تو گھر کے سبھی افراد اس مشکل سے نکلنے کی سبیل ڈھونڈتے ہیں، ایک دوسرے کو موردالزام ٹھہرانے کی بجائے ہر کوئی اپنے حصے کا کام کر تا ہے،حکومتوں کا معاملہ مگر اس سے یکسر مختلف ہے کہ برسراقتدار پارٹی ہی اس کی ذمہ دارتصور کی جاتی ہے ،اپوزیشن اپنے حصے کا کام کرنے کی بجائے برسراقتدار پارٹی کو ناکام ثابت کرنے کیلئے اپنی صلاحیتیں استعمال کرتے دکھائی دیتی ہے،حالانکہ اس وقت ملک کی صورتحال یہ ہے کہ مہنگائی کی آگ سے نہ صرف ملک کے غریب عوام کے لئے مسائل ہیں بلکہ مجموعی طورپر ملک بھی پستی کی طرف جارہا ہے۔جرمنی کے ایک نشریاتی ادارے ’’ڈویچے ویلے‘‘ نے غذائی قلت کے حوالے سے پاکستان کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو سالانہ لاکھوں ٹن گندم اور چاول بیرونی ممالک میں فروخت کرتے ہیں، لیکن جنوبی ایشیاء میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں ہر دوسرا بچہ غذائیت کی کمی کا شکار ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیاگیا ہے کہ ایسے بچوں کی مجموعی تعداد کروڑوں میں جا پہنچی ہے۔ رپورٹ میں پاکستان کے قومی ادارہ صحت اور برطانیہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کی ایک تازہ رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے جس کے مطابق آبادی کے لحاظ سے دنیا کے اس چھٹے سب سے بڑے ملک میں چوالیس فیصد بچوں کو غذائیت کی کمی کا سامنا ہے، رپورٹ کے مطابق اگر صرف چھ ماہ سے لے کر تیس ماہ کی عمر کے بچوں کی مثال لی جائے تو ان میں غذائیت کی کمی کی شرح پچاسی فیصد ہے، شیر خوار بچوں میں سے صرف15فیصد بچوں کو مناسب غذائیت والی خوراک دستیاب ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہی کہ پچاسی فیصد مائیں بھی غیر صحت مند ہیں، وہ خود غذائی قلت کا شکار ہیں جس کی وجہ سے ان کے بچے بھی کمزور اور غیر صحت مند ہیں۔ رپورٹ میں اس صورتحال کے ایک اہم پہلو کی طرف اشارہ کیاگیا ہے کہ ’’جن خاندانوں میں پیٹ بھر کے تین وقت کے کھانے کی دستیابی بھی مسئلہ ہو، وہاں کسی کو کھانے کی غذائیت پر توجہ دینے کی ضرورت کہاں محسوس ہوسکتی ہے۔ جس کے پاس ضرورت کے مطابق خوراک ہی نہیں ہے وہ غذائیت کے بارے میں کیسے سوچے گا‘‘۔ جس کو پیٹ بھر کھانا نصیب نہیں وہ بہتر غذائیت والی یا متناسب غذائیت والی خوراک کے بارے میں کس طرح سوچے گا۔ غذائی قلت کے بارے میں عالمی ادارے اپنے اپنے مقاصد کے تحت تحقیقی مطالعات پیش کرتے رہتے ہیں۔ اس حوالے سے یہ کوئی پہلی رپورٹ نہیں ہے جو پاکستان میں بھوک اور غربت کی سنگین صورتحال ظاہر کرتی ہو۔ کئی برس قبل ایک ایسی رپورٹ بھی آئی تھی جس کے مطابق ایک سال پاکستان میں گندم کی پیداوار زیادہ ہوگئی تھی لیکن اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ قوت خرید متاثر ہونے کی وجہ سے گندم بچ گئی تھی۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو زرعی ملک ہونے کی وجہ سے غذائی سلامتی کے خطرے سے بچے ہوئے ہیں۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ ایسا ملک جو اپنی ضرورت سے زیادہ خوراک پیدا کرتا ہو اس ملک میں مہنگائی اور غربت کی وجہ سے45 فیصد آبادی اپنی بنیادی غذائی ضرورت پوری نہ کرسکتی ہو۔ بھوک کا خاتمہ پہلی ترجیح ہے۔ ہر شخص کو کم از کم ایک وقت پیٹ بھر کر کھانا ضرور ملنا چاہیے ، صحت، رہائش، تعلیم اور بلدیاتی سہولیات تو ابھی زیر بحث ہی نہیں۔ اسلام کی تعلیمات کے مطابق کسی شخص کا بھوکا سوجانا پورے معاشرے کا جرم ہے۔ ہر حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ غریبوں کی فلاح کے لئے برسر اقتدار آئی ہے لیکن ہر نیا دن پاکستان کے اقتصادی بحران میں اضافہ کررہا ہے۔ موجودہ حکومت ہو یا سابقہ حکومتیں کسی کے پاس بھی غربت، افلاس اور فاقے کے حقیقی اسباب کا شعور نہیں ہے ایک طرف45 فیصد سے زائد آبادی خط غربت کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور کردی گئی ہے جس کا اظہار اس رپورٹ سے ہوتا ہے کہ ہر دوسرا بچہ نا مناسب خوراک سے محروم ہے۔ اس کے باوجود ہر حکومت یہ نصیحت کررہی ہے کہ قوم کو معاشی اصلاح کے لیے تلخ گولیاں نگلنی پڑیںگی۔ ماضی میں ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے تحریک چل پڑی اور وہ اقتدار سے محروم ہوگئے۔ اس کے باوجود عوام کے حالات بد سے بد تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ رواں ہفتے میں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا ہے جبکہ اس سے پہلے گیس کے نرخوں میں غیر معمولی اضافے نے عام آدمی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پیٹرول کی قیمتوں کے اضافے کے نتیجے میں ایل پی جی کے نرخوں میں خود بخود اضافہ ہوگیا۔ ڈالر کی شرح روپے کے مقابلے میں145 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جس کی وجہ سے ہر شے کی قیمت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ حکومت کی معاشی ٹیم کے قائد یعنی وزیر خزانہ اسد عمر نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں مہنگائی2008ء اور2013ء کے مقابلے میں کم ہے۔ ان کا ’’تدبر‘‘ ہمیں یہ بتا رہا ہے کہ معاشی بحران سے نکلنے کے لیے جو اقدامات کیے جاتے ہیں اس سے مہنگائی بڑھتی ہے۔ جب ڈالر105 روپے سے 145روپے ہوگا اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 32ڈالر سے68 ڈالر ہوگی تو اس کا فرق پڑے گا۔ لیکن وہ یہ نہیں بتا رہے کہ ڈالر 145روپے تک کیوں پہنچ گیا۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ایک زمانے میں100 ڈالر تک پہنچ گئی تھی جو ابھی صرف68 ڈالر تک ہی آئی ہے لیکن روپے کی شرح میں کمی کی وجہ سے ہرشے کی قیمت عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوگئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ حکومت کے پاس عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کی ضمانت دینے کے لیے کیا منصوبہ ہے؟کیا اپوزیشن کا کام محض تماش بینی ہے ،کیااپوزیشن نے اس ملک کے عوام سے ووٹ نہیں لئے ،کیاآئین پاکستان کے تناظر میں اپوزیشن پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ ملک کو بحران سے نکالنے کیلئے اپناکردار ادا کرے؟۔

متعلقہ خبریں