Daily Mashriq


دو روٹیوں کا مذاق اور خوان لغیما

دو روٹیوں کا مذاق اور خوان لغیما

اگر یہ بات واقعی مذاق میں کہی گئی ہے تو وہ لطیفہ ہمیں یاد آنا بنتا ہے جس میں ایک شخص نے دوسرے کو گالی دی تو گالیاں کھا کے بے مزہ ہونے والے نے پوچھا! تم نے مجھے گالی غصے میں دی ہے یا مذاق میں، جواب ملا، غصے میں، اس پر گالی کھانے والے نے کہا پھر ٹھیک ہے کیونکہ اس قسم کے مذاق میں پسند نہیں کرتا، سو پوچھنا تو ضروری ہے کہ کیا سپیکر مشتاق غنی کا عوام سے مذاق ہے جو اخباری دعوے کے مطابق عوام کو انہوں نے دو کی بجائے ایک روٹی کھانے کا مشورہ مذاق ہی مذاق میں دے دیا ہے؟ یقیناً ان کی طرف سے ایسا مذاق تو بنتا ہی نہیں، خاص طور پر جب پنجاب اسمبلی کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی میں بھی ممبران کی تنخواہوں میں اضافے کا بل تیار ہے۔ اس کے بعد یقیناً عوام اس شعر میں تھوڑی سی تبدیلی کر کے یوں پڑھیں گے کہ

گل پھینکے ممبروں کی طرف بلکہ ثمر بھی

اے خانہ برانداز چمن کچھ تو ادھر بھی

تمام گل اور سارے ثمر ریوڑیوں کی طرح مڑ مڑ اپنوں میں بانٹنے والے تو دعوت شیراز کا لطف اُٹھائیں گے اور بھوک کے ہاتھوں پہلے ہی سے پریشان عوام کیلئے دعوت لغیما کا اہتمام کر کے انہیں کہیں گے

تنخواہ ہے چار سو فی الحال چار رکھ

پیوستہ رہ شجر سے اُمید بہار رکھ

دعوت لغیما قدیم ترکی میں شہر کے رؤسا، مراعات یافتہ طبقات بھوکے عوام کیلئے یوں منعقد کرتے تھے کہ خود دعوت کی جگہ پر ہر قسم کے پُرتعیش کھانوں سے لطف اندوز ہو جاتے اور خوب سیر ہو کر کھا لیتے تو پھر عمارتوں کے باہر سڑک پر کھلنے والی گیلریوں میں آکر بیٹھ جاتے اور کچھ تھوڑا بہت کھانا بچا ہوتا وہ تھوڑے تھوڑے وقفوں سے نیچے کھڑے بھوکوں کی جانب اچھال دیتے۔ وہ اس کھانے پر جھپٹتے، ایک دوسرے کو دھکے دیتے، کسی کے ہاتھ کچھ لگتا یا پھر دھکم پیل کی وجہ سے آدھا ان کے کپڑوں پر اور آدھا زمین پر جا گرتا‘ بے چارے شرمندگی سے ہنس دیتے، ایک آدھ نوالہ کھا لیتے جبکہ ان بھوکوں کی ان حرکتوں پر گیلری میں بیٹھے شرفائے شہر لطف اُٹھاتے‘ قہقہے لگاتے لوٹ پوٹ ہوتے رہتے۔ اب عوام کو دو روٹی کی بجائے ایک روٹی کھانے کا مشورہ دینے والے خود اپنے دعوت شیراز کا بندوبست کئے بیٹھے ہیں اور اپنی تنخواہوں میں جلد ہی کئی گنا اضافہ کرکے عوام کی غربت کا مذاق اڑانے کیلئے لنگر لنگوٹ کس کر ابھی سے تیار ہو رہے ہیں۔ مگر عوام کو وعدہ فردا پر ٹالتے ہوئے خوان لغیما کے پیچھے دوڑا رہے ہیں۔ اس حوالے سے فیس بک پر ایک ویڈیو کسی باہر کے ملک سے وائرل ہوئی تھی جس میں ایک گدھا گاڑی چلانے والے نے گھاس کا ایک گچھا گدھے کے آگے تھوڑے سے فاصلے پر لٹکایا ہوتا ہے اور وہ گدھا اس گھاس کی لالچ میں اس کے پیچھے تیزی سے دوڑتا رہتا ہے۔ یہی حالت ہمارے عوام کی ہے جنہیں ویسے بھی سیاسی حوالوں سے عوام کالانعام یعنی جانوروں سے تشبیہہ دی جاتی ہے‘ ان سیاسی رہنماؤں نے ہمیں طویل عرصے سے اسی طرح ’’وعدوں کے گچھے‘‘ پکڑا کر آگے کیا ہوا ہے اور ہم وعدوں کے اسی خوان لغیما کی لالچ میں ان سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بچھائے ہوئے غلامی کے طوق کو گلے میں لٹکائے ان کیلئے لطف وانبساط کے لمحے اپنے خون سے کشید کرتے رہتے ہیں بلکہ وہ گدھا تو پھر بھی خوش قسمت ہوگا جسے کم ازکم مالک کے اشارے پر چلتے ہوئے منزل مقصود پر پہنچنے کے بعد گھاس کا وہ گچھا تو مل جاتا ہے۔ ہماری حیثیت تو کولھو کے اس بیل کی سی ہے جس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوتی ہے اور وہ ایک دائرے میں گھومتے ہوئے یہ سوچتا ہے کہ اس نے ہزارہا میل سفر طے کر لیا ہے مگر پٹی اُترتے ہی پتہ چلتا ہے کہ ’’جتھوں دی کھوتی اُتھے آن کھلوتی‘‘ ملاحظہ فرمائیے

لاکھوں میل مسافت کے اندھے رستوں پر

ستم گزیدہ جسموں سے رستے ہوئے

خون کا صدقہ دے کر

صدیوں سے ہم وہیں کھڑے ہیں

چھوٹے چھوٹے دائروں کے ہم وہ قیدی ہیں

جن کی آنکھیں رنگ برنگی پٹیوں کے چنگل میں ہیں

منزل اور نشان منزل کوئی نہیں ہے

خوش امیدی کے جھوٹے بے سمت سفر کا

آغاز اور انجام ہے اک نقطے پہ محیط

یہ دائرے جو صدیوں کے

بوسیدہ‘ فریبی اور ناکارہ موئے قلم سے

جھوٹ اور مکر کے رنگ سجا کر

مستقبل کی خوش اُمیدی کے کینوس پر

بے چینی اور عدم یقیں کے تجریدی منقوش کی صورت

جھوٹی آس دلاتے ہیں

آنکھوں پر پٹیاں بندھوا کر

ہم چپ چاپ سفر طے کرتے رہتے ہیں

ہم کولھو کے بیل ہیں کیا؟

متعلقہ خبریں