Daily Mashriq


فضا زہریلی بنانے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے

فضا زہریلی بنانے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے

ڈی جی، ای پی اے کو لکھے گئے ایک خط میں حیات آباد کے رہائشیوں نے ایک مرتبہ پھر اس امر کی شکایت کی ہے کہ حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ اور شاہ کس میں قائم کارخانے انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی کی ہدایات پر عمل در آمد نہیں کر رہے ہیں جس کے باعث ان کارخانوں سے نکلنے والی زہریلی گیس اور کیمیائی مادے حیات آباد کے ماحول کو بری طرح خراب کر رہے ہیں جس سے عوام میں کینسراور دیگر خطرناک بیماریوں کے علاو ہ جلدی امراض بڑی تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحول کی آلودگی سے حیات آباد میں مقیم 70ہزار سے زائد افراد کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے ،اس لئے اگر فوری طور پر سنجیدہ اقدامات نہ کئے گئے تو یہ مسئلہ سنگین صورت اختیار کرسکتا ہے۔ حیات آباد انڈسٹریل سٹیٹ اور شاہ کس میں واقع کارخانوں سے اٹھتا دھواں صرف حیات آباد ہی کے مکینوں کے لئے ہی زہر قاتل نہیں بلکہ ماحولیاتی گندہ اور زہریلا پانی اور صنعتی مواد بلکہ شاہ کس اور ارد گرد کے علاقے کی آبادی اور نباتات کے لئے بھی نقصان کا باعث ہے۔ خاص طور پر ٹشو پیپر کے کارخانے سے بلند ہوتا سر بفلک دھواں تو علاقے کے مکینوں کو موقع پر موت کا پیغام دے رہا ہوتا ہے۔ حیات آباد اور ارد گرد کی آبادی کا اس سے متاثر ہو کر بار بار فریاد بسا اوقات سامنے آتی ہے مگر کبھی ان کی کسی نے سنی نہیں۔ نہ تو محکمہ ماحولیات کو اس کی سنگینی کا احساس ہے نہ ہی پی ڈی اے کے حکام کے کانوں پر جوں رینگتی ہے نہ صوبائی حکومت اس کا نوٹس لیتی ہے اور نہ ہی عدالت عالیہ پشاور کے منصفین کی توجہ اس جانب مبذول ہوتی ہے۔ حیات آباد کے مکین اس قابل بھی نہیں کہ وہ اس پر نکل کر احتجاج کریں۔ ان کی شاید یہی کمزوری اداروں کے تساہل اور غفلت کا بنیادی سبب ہے وگرنہ کوئی اور وجہ نہیں کہ اس کا نوٹس نہ لیا جائے۔ حیات آباد کے حلقے سے پاکستان تحریک انصاف کے دونوں امیدوار کامیاب ہو کر اسمبلیوں میں پہنچے ہیں اور ان کو چاہئے کہ وہ قانون پر عملدرآمد کی طرف صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کی توجہ دلائیں اور حیات آباد کے باشندوں کو اپنے ہی گھروں میں دم گھٹ کر موت کے خطرے سے نجات دلائیں۔

آئی جی نوٹس لیں

تہکال اور ملحقہ علاقوں کے مکینوں کو مختلف طریقوں سے ہراساں کرنے کی شکایت کا سختی سے نوٹس لیا جانا چاہئے۔ مکینوں کی شکایت کے مطابق ایک غیر متعلق خاتون علاقے میں پھر کر گلی محلے کے تنازعات کی تھانہ تہکال سے شکایت کرتی ہے جس پر پولیس آکر بغیر کسی رپورٹ کے فریقین کو حوالات میں بند کردیتی ہے اور رشوت لئے بغیر نہیں چھوڑا جاتا۔ کیا یہ باعث حیرت امر نہیں کہ جو پولیس کبھی وقت پر نہیں پہنچتی اور کسی واقعے کے بارے میں ایف آئی آر کے اندراج کی انکاری ہوتی ہے و ہ بغیر کسی شکایت کے اپنے ذرائع سے حاصل شدہ خود ساختہ معلومات پر حرکت میں آتی ہے۔ اگر پولیس نذرانہ وصولی کے علاوہ ایسا کرتی اور دفع شر اور حفظ ما تقدم کے طور پر یہ اقدام کیا جاتا تو پولیس انعام و اکرام اور تحسین کی مستحق ہوتی مگریہاں مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق بے چارے شہریوں کو پریشان کرکے رشوت اینٹھنے کے لئے ڈرامہ رچایا جاتا ہے جس کا آئی جی کو سختی سے نوٹس لینا چاہئے۔

متعلقہ خبریں