Daily Mashriq

ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے

ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پتا نہیں الیکشن کمیشن کیسے چل رہا ہے، انتخابات کے روز انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کو تین بار فون کیا،جواب نہیں ملا ، میرے خیال سے شاید وہ اس دن سو رہے تھے، آر ٹی ایس بیٹھ گیا،الیکشن اچھا خاصا چل رہا تھا الیکشن کمیشن نے مہربانی کر دی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن کیسے چل رہا ہے؟ جب ہمارے پاس کیسز آئیں گے تو معلوم نہیں کیا کرینگے۔ سیاسی جماعتوں کی طرف سے الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر انگشت نمائی پہلے ہی سے ہو رہی ہے الیکشن کمیشن کے دفاتر کے باہر احتجاج ہونے لگے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر ہارنے اور کم نشستیں حاصل کرنے والی جماعتوں کی طرف سے تنقید تو فطری امر ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف کے بعض رہنمائوں کی طرف سے بھی الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوال تو تھا ہے رہی سہی کسر چیف جسٹس آف پاکستان کے ریمارکس سے پوری ہوگئی ہے جس کے بعد 2018ء کے انتخابات کے بے توقیر ہونے کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کا وقار بھی دائو پر لگ گیا ہے۔ الیکشن کمیشن ایک جانب تمام تر خود مختاری اور مضبوط بنائے جانے کے باوجود قوم کا بیس ارب روپیہ الیکشن پر خرچ کرکے با اعتماد انتخابی عمل میں کامیاب نہیں ہوسکا اس کے سیکرٹری اور ترجمان کی گفتگو سے کسی طور یہ نہیں لگتا کہ الیکشن کمیشن ایک با وقار با اختیار اور خود مختار آئینی ادارہ ہے جن سیاستدانوں نے اس ادارے کو مل کر مضبوط و خود مختار بنانے میں کسر نہیں چھوڑی آج الیکشن کمیشن کی خود مختاری کا یہ عالم ہے کہ متوقع وزیر اعظم کے کامیاب شدہ پانچ حلقوں میں سے کسی ایک حلقے میں بھی اس کی کامیابی کا واضح نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیاگیا ہے۔ اس سے بڑا مذاق کیا ہوگا کہ پانچ حلقوں سے کامیاب اکثریتی حکمران جماعت کا وزیر اعظم مشروط کامیابی کی لٹکتی تلوار تلے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھائیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان جیسے ذمہ دار شخص کے الیکشن کمیشن کے سربراہ کے حوالے سے ریمارکس ایک ایسی شخصیت کے حوالے سے ریمارکس ہیں جو خود عدلیہ کے نیک نام جسٹس رہے ہیں اور تمام تر اختلافات کے باوجود سیاسی جماعتیں ان کے نام پر متفق ہوئیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چیف جسٹس کے ریمارکس چیف الیکشن کمشنر کے حوالے سے انفرادی نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کے پورے ادارے کے حوالے سے ان کے الفاظ ہیں جس کے موقع محل سے استعمال کا مطلب و مدعا کسی تشریح و وضاحت کا محتاج نہیں۔ الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر صرف سیاستدانوں کو ہی اعتراض نہیں چیف جسٹس بھی معترض ہیں جس کے بعد چیف الیکشن کمشنر کے لئے با عزت راستہ استعفے ہی کا رہ جاتا ہے جبکہ بطور ادارہ اس کی کارکردگی اور عمل کا احتساب کرنے کی ضرورت ہے۔ الیکشن کمیشن نے ایک اچھے خاصے فعال نظام سے استفادہ از خود بند کرکے بھی شکوک و شبہات کو یقین میں بدلنے کا عمل اپنے ہاتھوں انجام دیا ہے۔ جب آر ٹی ایس پر معمول کے مطابق نتائج موصول ہو رہے تھے تو آر ٹی ایس کا استعمال ترک کیوں کیاگیا؟واضح رہے کہ انتخابات کے دن 11بج کر47منٹ پر الیکشن کمیشن کی جانب سے تمام آر اوز کو بذریعہ فون اطلاع دی گئی کہ آر ٹی ایس کا استعمال ترک کر دیا جائے کیونکہ اس کے نظام میں تکنیکی مسائل آگئے ہیں جس کا کوئی جواز نہ تھا۔ حالانکہ نادرا کے مطابق پچاس فیصد نتائج اس وقت تک موصول ہوئے تھے اور نظام پوری طرح فعال تھا۔ماہرین کے مطابق آر ٹی ایس اور آر ایم ایس دو علیحدہ نظام تھے جنہیں ایک ساتھ نہیں ملایا جا سکتا۔ منصوبے کے تحت آر او کی جانب سے آر ٹی ایس کے ذریعے نتائج ارسال کرنے تھے لیکن آر ٹی ایس غیر فعال ہونے کی وجہ سے پریذائیڈنگ افسر آر او آفس میں گئے اور یوں ہر پولنگ اسٹیشن کے نتائج کے حصول میں تاخیر ہوئی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چونکہ یہ ایک حساس نوعیت کا اہم قومی معاملہ ہے ایک ایسا معاملہ جس سے کروڑوں ووٹروں اور ملک کی اہم سیاسی جماعتوں کے اعتراضات اور شکوک وشبہات وابستہ ہیں اور یہ معاملہ اس حد تک سنگین ہے کہ عوام کے مینڈیٹ سے برسراقتدار آنے والی حکومت کے مینڈیٹ کے حوالے سے شکوک وشبہات جنم لیتے ہیں۔ اس ساری صورتحال کی تحقیقات اور اس کا جائزہ لینے کیلئے عدالتی تحقیقاتی کمیشن کا قیام عمل میں لانا مناسب ہوتا یا پھر سینٹ کی کمیٹی کو تحقیقات کی ذمہ داری دی جاتی مگر ایسا لگتا ہے کہ روایتی قومی مفاد میں معاملہ دبا دیاگیا اور اب تک اس سلسلے میں کسی تحقیقاتی عمل کی شنید نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ماہرین ہی اس امر کا تعین کر سکیں گے کہ کس ادارے کا مؤقف درست ہے اور یہ نظام واقعی مسائل کا باعث بن رہا تھا یا پھر اسے ازخود غیرفعال کیا گیا تھا۔ یہ دو اداروں کے درمیان تنازعہ نہیں اور نہ ہی ایک نظام کی ناکامی کا معاملہ ہے یہ ملک کے کروڑوں عوام کے حق رائے دہی اور ان کے مینڈیٹ کے مطابق حکومت بنانے کا معاملہ ہے۔ اس نظام کو ازخود ناکام بنانے یا پھر واقعی نظام کے ناکام ہونے کی حقیقت سامنے آجائے تو صورتحال واضح ہوگی۔ ان تحقیقات سے انتخابات کی وقعت ہی کا معاملہ نہیں بلکہ اس سے الیکشن کمیشن کی کارکردگی' مہارت' خودمختاری اور دیانتداری کا سوال بھی وابستہ ہے جس کا جواب حاصل کرنے میں کسی تامل کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن اس اہم معاملے کے حوالے سے روایتی طرز عمل کا مظاہرہ کیا جارہا ہے جو از خود شکوک و شبہات کی تصدیق کے مصداق معاملہ ہے۔ چیف جسٹس کے ریمارکس تو حقیقت حال کو سمجھنے کے لئے کافی ہیں لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ جب عدالت کے سامنے یہ معاملات آجائیں اس وقت کیا صورتحال بن جاتی ہے۔ فی الوقت تو بقول چیف جسٹس ان کو خود اس امر کا اندازہ نہیں کہ جب معاملہ قانونی طور پر عدالت کے سامنے آئے تو ان کا طرز عمل کیا ہوگا۔ خواہ جو بھی ہو الیکشن کمیشن کا ہر آنے والے انتخابات میں سامنے آنے والا کمزور و ناکام کردار قومی المیہ بن چکا ہے جس کاتدارک اور حل مقننہ اور عدلیہ کی ذمہ داری ہے جسے پورا کئے بغیر عوام کا انتخابات پر عدم اعتماد کا اظہار بلا سبب نہ ہوگا۔ اس امر سے قطع نظر کہ 2018ء کے انتخابات میں ہار جیت کس کے حصے میں آئی انتخابی ادارے بارے اہم فیصلہ ضروری ہے تاکہ اس ادارے کا مجروح کردار بحال کیا جاسکے۔

متعلقہ خبریں