Daily Mashriq


عام انتخابات کے بعد اگلا مرحلہ

عام انتخابات کے بعد اگلا مرحلہ

تحریک انصاف نے اپنے چیئرمین عمران خان کو وزارت عظمیٰ کیلئے نامزدکر دیا ہے۔ دوسری طرف ن لیگ کی مجلس عاملہ نے اپنے صدر میاں شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کیلئے نامزد کردیا ہے۔ ن لیگ کو بھی متعدد سیاسی پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے اور تحریک انصاف کے ساتھ بھی متعدد پارٹیاں اتحادی ہیں۔ عمران خان نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روایتی سیاست کو ختم کریںگے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ذمہ داری آن پڑی ہے اگر ہم تبدیلی نہ لاسکے تو عوام ہمارا حشر کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بائیس سالہ جدوجہد کا پہلا مرحلہ آج ختم ہوا ہے۔ اس کے مقابلے میں ن لیگ کے اجلاس میں''اصل مینڈیٹ'' کو تبدیل کرنے کی مذمت کی گئی۔ وائٹ پیپر جلد مکمل کرنے کا اعلان کیا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ وزارت عظمیٰ کے لئے اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ عمران خان کے خطاب میں مستقبل پر نظر صاف نظر آتی ہے جبکہ ن لیگ کے اجلاس میں اس دعوے پر اصرار کیاجاتا رہا کہ تحریک انصاف کی کامیابی عوام کا حقیقی مینڈیٹ نہیں ہے۔ ن لیگ اس دعوے کی حقیقت کو آشکار کرنے کیلئے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے اور تحریک انصاف حقیقی تبدیلی کو عوام کی سطح تک آشکار کرنے کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے اس کا اندازہ مستقبل قریب میں ہو جائے گا لیکن اس سے پہلے انتخابی مہم پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے کہ اس نے قوم کو کیا دیا؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مختلف سیاسی جماعتیں جن میں سے بڑی سیاسی جماعتیں ن لیگ اور تحریک انصاف ہیں اپنے اپنے منشور کی بنیاد پر عوام کو متحد کرتیں۔ دونوں کے وعدوں میں پاکستان کے عوام کیلئے بہتر اور خوشحال مستقبل ہے لیکن ان وعدوں کی تعبیر کیسے ممکن بنائی جائے گی اس طرف توجہ بہت کم دی گئی۔ دیکھا جائے تو ساری انتخابی مہم بالعموم الزامات' طعن طرازی' نقص بینی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی طرف راغب رہی۔ قومی مسائل اور ان کے حل کیلئے موزوں پروگرام اور مطلوبہ صلاحیت پر کم توجہ دی گئی۔ اس طرح اگر یہ کہا جائے کہ ہماری سیاسی قیادت نے انتخابی مہم کے دوران قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی بجائے عوام کو تقسیم در تقسیم کیا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوسکتا ہے کہ اب نئی مورچہ بندی شروع ہو جائے اور سیاسی عناصر طعن طرازی' احتجاج ، توڑ پھوڑ اور تشدد کی طرف مائل ہوجائیں۔ کچھ لوگ حکومت کو ناکوں چنے چبوانے پر اتر آئیں اور کچھ او ر لوگ توہین اور تبرہ کی طرف مائل ہوں۔

پاکستان کی مختصر سی تاریخ میں ایک ایسا وقت آچکا ہے جب دو سیاسی پارٹیوں کے حامیوں کے درمیان ایک دوسرے کی مخالفت اتنی بڑھ گئی تھی کہ برس ہا برس کی دوستیاں ختم ہوگئی تھیں۔ آپس کی رشتہ داریاں ختم ہوگئی تھیں ۔ ایک ہی محلے میں رہنے والے لوگ جو روایتی طور پر ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں شریک ہوتے، ایک دوسرے کی شکل تک دیکھنے کے روادار نہیں رہے تھے۔ سینٹ میں یہ اقرار کیا گیا کہ ہم نے اپنے سیاسی مخالفین پر جھوٹے مقدمے بنوائے۔ پھر این آراو ہوا جس کے نتیجے میں کم و بیش آٹھ ہزار افراد کے خلاف سنگین نوعیت کے مقدمات تک واپس لے گئے اور اس طرح عام آدمی کیلئے ایک تاثر یہ ابھرا کہ سیاسی لیڈر اور کارکن سیاست کے زور پر قانون اور انصاف کو بالائے طاق رکھ سکتے ہیں۔ دیانت اور راست بازی کی توقیر فرسودہ خیال ٹھہری اور اعلیٰ اقدار کی پاسداری طعنہ بن گئی۔ آج جو لوگ سیاست میں ہیں وہ اپنی زندگی میں یہ دور دیکھ چکے ہیںاس سے عبرت حاصل کرنی چاہیے' شائستہ اور سنجیدہ طرز سیاست ایجاد کرنے کی ضرورت کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ یہ کام عملی مثالیں قائم کرنے سے ممکن ہوگا۔

تحریک انصاف نے گزشتہ پانچ سال میں بہت پذیرائی حاصل کی ہے۔ تاہم خیبرپختونخوا کو چھوڑ کرپنجاب اور مرکز میں اسے مہین اکثریت ملی ہے۔ یعنی ن لیگ کو جودو تہائی اکثریت حاصل تھی جس کے بل پر اختلافی نقطہ نظر کا پارلیمنٹ میں اظہار کماحقہ نہیں ہوپاتا تھا ۔ تحریک انصاف کو یہ سہولت حاصل نہیں ہوگی ، اس عددی قوت کو بائیکاٹ اور احتجاج کی بجائے صحت مند اور مدلل مکالمے کے لئے استعمال کیا جائے گا اور میڈیا ایوان سے باہر احتجاج کی بجائے ایوان کے اندر کے فیصلے پر زیادہ توجہ دے گا تاکہ قومی ایشوز اور سیاسی جماعتوں کے موقف عوام پر وضاحت کے ساتھ آشکار ہوسکیں۔

عمران خان نے کہا ہے کہ پرانی طرز سیاست سے اجتناب کیا جائے گا اور یہ کہ ان کی وزارت عظمیٰ کیلئے نامزدگی کا دن ان کی 22 سالہ جدوجہد کے ایک مرحلے کے مکمل ہونے کا دن ہے۔ ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی پارٹی کی سیاسی جدوجہد کا اگلا اور مشکل تر مرحلہ ان کی کامیابی سے شروع ہو رہا ہے۔ تحریک انصاف کے کارکنوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ تحریک انصاف کی تیز رفتاری کے ساتھ عوام میں پذیرائی کے بعد ان کی سیاسی پارٹی کو ایسی سیاسی جماعت میں ڈھلنے کادور شروع ہوچکا ہے جب دیہات کی سطح سے لے کر وفاقی دارالحکومت کی سطح تک عوام سے پارٹی کے مسلسل رابطوں کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ عوام کو حکومت کی پالیسیوں کے مضمرات سے آگاہ رکھے ا ور پارٹی قیادت عوام کی مشکلات' مسائل اور معاشی اور قومی معاملات پر مرکزی قیادت کو عوام کی رائے سے مطلع رکھے۔ اس طرح مختلف ایشوز پر قومی اتفاق رائے اپنی قوت کے ساتھ سامنے لانے کی ترجیحات کا تعین ہوگا۔ساری سیاسی جماعتوں کیلئے یہ ضروری ہونا چاہیے کہ وہ عوام سے قیادت اور قیادت سے عوام تک رابطہ کو مضبوط اور مؤثر رکھیں تاکہ ترجیحات کے تعین میں عوام کا اعتماد اور اتفاق رائے مؤثر کردار ادا کرسکے۔ پاکستان کی ترجیحات صاف نظر آتی ہیں ان پر گفتگو آئندہ نشست تک مؤخر۔

متعلقہ خبریں